125

چار دن روس میں۔۔۔۔جاوید چوہدری

ماسکو میں سردی تھی اور سینٹ پیٹرزبرگ میں سردی کے ساتھ ساتھ بارش بھی۔
ہم اگر مئی میں گرم سویٹر‘ مفلر اور کوٹ کا سوچ بھی لیں تو ہمیں پسینے آ جاتے ہیں لیکن روس میں کسی بھی مہینے میں مفلر اور اوورکوٹ کے بغیر باہر نکلناممکن نہیں ہوتا‘ موسم‘ عورت اورنوکری یہ تینوں بے مروت ہوتی ہیں‘ یہ محاورہ پوری دنیا میں مستعمل ہے لیکن روس میں یہ محاورہ صرف محاورہ نہیں یہ حقیقت ہے‘ روسی خواتین خودمختار ہیں‘ یہ مردوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں‘روسی مرد ایک آدھ بچے کے بعد ذلیل ہو کر بے گھر ضرور ہوتے ہیں‘ روسی خواتین سمجھتی ہیں مرد اگر بندر سے ذرا سا بھی بہتر ہے تو یہ غنیمت ہے‘ یہ مردوں کے ساتھ بندروں جیسا سلوک بھی کرتی ہیں۔

نوکریاں پوری دنیا میں بے اعتبار ہوتی ہیں لیکن روس میں خواب میں بھی ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور پیچھے رہ گیا موسم تو روس میں صرف ایک چیز دائمی ہے اور وہ ہے سردی‘ دنیا میں سردی اور گرمی دو بڑے موسم ہوتے ہیں لیکن روس میں صرف سردی اور شدید سردی ہوتی ہے اور بس‘ لوگ دونوں سردیوں کے درمیانی وقفے کو گرمی یا بہار سمجھ لیتے ہیں۔
دنیا میں اگر کسی ملک کو بڑا کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف روس ہے‘ یہ 1992 میں اپنے 24فیصد ر قبے سے محروم ہو گیا لیکن یہ اس کے باوجود ایک کروڑ 71 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے‘روس کی ایک سرحد جاپان کو چھوتی ہے‘ دوسری فن لینڈ‘ تیسری سمندر کے ذریعے ایران اور چوتھی امریکا کو‘ یہ 1992سے پہلے پاکستان‘ عراق‘ ترکی ‘ آسٹریا اور ڈنمارک تک چلا جاتا تھا‘ روس کے اندر اس وقت بھی11ٹائم زون ہیں‘ آپ ایک سے دوسرے شہر جائیں تو سات گھنٹے کا فرق پڑ جاتا ہے‘اندرونی فلائٹ 9گھنٹوں پر مشتمل ہے‘ دنیا کاسردترین مقام اومیاکان بھی روس میں ہے‘اومیا کان کا درجہ حرارت عموماً منفی 55ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جب کہ جولائی 1983میں اس کا درجہ حرارت منفی 89.2ڈگری ٹمپریچر ریکارڈکیاگیا۔

دوسرا سرد ترین مقام ویرخویانسک بھی روس میں ہے‘ ویرخویانسک کا درجہ حرارت منفی 45ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے‘یہ شمالی اور جنوبی دونوں قطبوں تک پھیلا ہوا دنیا کا واحد ملک ہے‘ دنیا میں آرٹ ہو‘ کلچر ہو‘ خوبصورتی ہو یا پھر موسیقی ہو یہ بھی بالآخر روس ہی سے نکلتی ہے‘ آپ ان کی عمارتیں دیکھیں‘ انفرااسٹرکچر‘ اسمارٹ نس اور جذبہ دیکھیں آپ کو روسی لوگ پوری دنیا سے آگے ملیں گے‘ یورپ اور امریکا اپنی تمام تر ترقی کے باوجود روس کی ایڑی تک نہیں پہنچتے‘ یہ لوگ کپڑے پہننا‘ اسمارٹ رہنا اور خوش ہونا جانتے ہیں‘ خواتین اور مرد دونوں بہت خوبصورت اور اسمارٹ ہوتے ہیں‘ عورتیں زیادہ متحرک اور مرد نسبتاً سست ہیں۔

آپ کو گھر سے لے کر ایئر پورٹ تک ہر جگہ عورتیں کام کرتی نظر آتی ہیں‘ یہ قبر تک ریٹائر نہیں ہوتیں‘ آپ کو نوے سال کی عورت بھی بھاری بھرکم کام کرتی نظر آئے گی‘زنانہ آنکھوں میں حیاء بھی ہوتی ہے اور یہ ذہنی طور پر بھی یک سو ہوتی ہیں‘ یہ کام کے دوران دائیں بائیں نہیں دیکھتیں‘ یہ لوگ کیونکہ کبھی غلام نہیں رہے چنانچہ یہ ہر حال میں اپنی آزادی پر کمپرومائز نہیں کرتے‘ یہ دنیا کے لیے اوپن ہو چکے ہیں لیکن کھلا ڈھلا ہونے کے باوجود یہ آج بھی بند محسوس ہوتے ہیں‘ یہ اجنبیوں پر نہیں کھلتے‘ امیگریشن کا سسٹم بھی بہت سلو ہے بالخصوص یہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔

مجھے امیگریشن کاؤنٹر پر دو گھنٹے لگ گئے‘ چھ امیگریشن افسروں نے پاسپورٹ کا ایک ایک ویزہ اور ایک ایک مہر چھ چھ بار دیکھی‘ یہ ان کی تصویریں بھی بناتے رہے اور محدب عدسوں سے بھی دیکھتے رہے‘ ان کے دو سوال تھے‘ میں اتنا زیادہ سفر کیوں کرتا ہوں اور میں روس کیوں آیا ہوں؟ میں جواب دیتا تھا مگر وہ مطمئن نہیں ہوتے تھے‘ ان کا خیال تھا کوئی شخص سیر کے لیے صرف چار دن نہیں آ سکتا‘ میں ان کو بتاتا تھا میں دو دن میں پورا ملک پھر جاتا ہوں لیکن یہ مجھ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے‘ مجھے بہرحال مجرم کی طرح ڈیڑھ گھنٹہ بٹھا کر روس میں داخلے کی اجازت دے دی گئی‘ پتہ چلا یہ لوگ کبھی کبھار کسی نہ کسی شخص کے ساتھ یہ ضرور کرتے ہیں تاہم قصہ مختصر میں بالآخر روس میں داخل ہو گیا۔

ماسکو کا ایئرپورٹ شہر کے مرکزی حصے سے گھنٹہ بھر دور ہے‘ ڈالر کے مقابلے میں روبل کمزور ہے‘ سو ڈالر میں ساڑھے چھ ہزار روبل آتے ہیں‘ یہ لوگ سیاحوں سے ڈالر نہیں لیتے‘ پورے ملک میں خریدوفروخت کے لیے روبل ضروری ہیں‘ کرنسی تبدیل کرنے کے سینٹر بھی بہت کم ہیں‘ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا فائیو اسٹار ہوٹل بھی ڈالر یا یورو نہیں لیتے‘ آپ ہوٹل سے بھی کرنسی تبدیل نہیں کرا سکتے تاہم ہوٹلوں میں کریڈٹ کارڈز اور اے ٹی ایم کی سہولت موجود ہوتی ہے‘ آپ کو انگریزی بولنے والے لوگ بھی کم ملتے ہیں‘ حلال کھانے کے لیے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے‘ ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ دونوں شہروں میں ازبک‘ تاجک‘ آذربائیجانی‘ تاتاری‘ ترکش اور چیچن ریستوران ہیں ‘ یہ ریستوران حلال بھی ہیں اور اچھے بھی‘ میں چیچن ریستوران باخروما (Bakhroma) سے کھانا کھاتا رہا‘ یہ چین ہے اور یہ لوگ کمال کھانا بناتے ہیں‘ میرا ہوٹل سینٹر میں تھا۔

کریملن اور ریڈاسکوائر آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا‘ دریائے ماسکو ساتھ بہتا تھا‘ میں پیدل چلتا ہوا پل پار کرتا تھا اور ریڈاسکوائر پہنچ جاتا تھا‘ کریملن صدارتی محل ہے‘ یہ طویل وعریض عمارت ہے‘ ہوٹل کی چھت سے کریملن کا ہیلی کاپٹر اور لانز دکھائی دیتے تھے‘ دریائے ماسکو میں رات تک چھوٹے جہاز اور فیریز چلتی رہتی تھیں‘ حکومت نے دریا پر بہت خوبصورت ’’ویو پوائنٹ‘‘ بنا دیا‘ یہ پل کی طرح ہے لیکن یہ دریا کے آر پار نہیں جاتا‘ یہ دریا کے درمیان پہنچ کر انگریزی حرف وی بناتا ہوا واپس آ جاتا ہے۔

ماسکو کے ننانوے فیصد سیاح تصویر بنوانے کے لیے اس پل پر ضرور آتے ہیں‘ یہ ریڈاسکوائر کے ساتھ واقع ہے‘ ریڈاسکوائر سرخ اینٹوں کی سرخ عمارتوں کی وجہ سے ریڈاسکوائر کہلاتا ہے‘ لینن کا مقبرہ بھی اسی جگہ ہے‘ روس کا وار میوزیم بھی اور ماسکو کاساڑھے چار سو سال پراناسینٹ باسلزبھی‘ یہ چرچ پوری دنیا میں روس کی پہچان ہے‘ روسی زمانہ قدیم سے پیاز جیسے گنبد بناتے آ رہے ہیں‘ سینٹ باسلز کیتھڈرل روس کے اس خاص طرز تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے‘ اس کے 10گنبد اور گنبدوں کے تیز رنگ آنکھوں کو کھینچ لیتے ہیں‘ کریملن کی پوری دیوار ریڈ اسکوائر میں دائیں سے بائیں چلتی ہے‘ دیوار کے سامنے ریڈاسکوائر کی دوسری جانب ماسکو کا قدیم شاپنگ سینٹر گم (Gum) ہے‘ یہ شاپنگ سینٹر1893 میں بنایا گیا تھا اور یہ کسی محل سے کم نہیں‘ دیواریں‘ بارہ دریاں‘ کھڑکیاں اور بالکونیاں محل جیسی ہیں۔

چھت شیشے کی ہے اور راہ داریوں میں قیمتی پتھر لگے ہیں‘ تین منزلہ عمارت میں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے شورومز ہیں‘ شاپنگ سینٹر کے دونوں حصے لوہے کے معلق پلوں سے جڑے ہیں اور پلوں پر ریستوران اور کافی شاپس بنی ہیں‘ یہ کافی شاپس نچلی منزل سے بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہیں‘ گم‘ سینٹ باسلز چرچ‘وارمیوزیم اور ریڈاسکوائر کا پتھریلا فرش اور رات کا سناٹا آپ کو اگر زندگی میں کبھی یہ ساری چیزیں اکٹھی مل جائیں تو آپ اللہ کی ذات کا شکر ضرور اداکیجیے گا‘ کیوں؟ کیونکہ قدرت نے یہ تحفے آج تک دنیا کے صرف اعشاریہ ایک فیصد لوگوں کو دیے اور میں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھا۔

مئی 1945کے پہلے ہفتے نازی فوج نے روس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے‘ 8 مئی کومعاہدے پر باقاعدہ دستخط ہوئے‘اس نسبت سے روسی ہر سال نو مئی کووکٹری ڈے مناتے ہیں‘ ریڈ اسکوائر میں ملک کی سب سے بڑی تقریب ہوتی ہے‘ صدر پیوٹن یہاں سے خطاب کرتے ہیں‘ میں اور شیخ مبشر ماسکو پہنچے تو ایسٹر کی تقریبات ختم ہو رہی تھیں اور وکٹری ڈے کی تیاریاں جاری تھیں‘ ریڈاسکوائر میں کرسیاں لگائی جا رہی تھیں اور عارضی پویلین بنائے جا رہے تھے‘ یہ لوگ گلیوں کو سجانے کے لیے چھوٹے چھوٹے برقی قمقموں کی جھالروں کی چھت بناتے ہیں‘ یہ جھالریں رات کے وقت سیاحوں کو کسی دوسری دنیا میں لے جاتی ہیں‘ ریڈاسکوائر کی بغلی گلیوں میں جھالریں لٹک رہی تھیں اور ہزاروں لوگ ان جھالروں کے نیچے سے گزر رہے تھے‘ ہم بھی آتے اور جاتے رہے اور ان کے جذبے کی داد دیتے رہے‘ یہ لوگ شراب اور کافی دونوں بہت پیتے ہیں‘ اسٹاربکس روسیوں میں بہت مشہور ہے‘ آپ کو ہرگلی میں اسٹاربکس مل جاتی ہے‘ میکڈونلڈ کا یورپ کا سب سے بڑا آؤٹ لیٹ بھی ماسکو میں ریڈاسکوائر کے قریب ہے‘ روسی شام کے وقت کام ختم کرنے کے بعد گھر جانے سے پہلے کسی پب‘ ریستوران یا کافی شاپ میں ضرور بیٹھتے ہیں‘یہ لوگ شاپنگ کے رسیا ہیں۔

خواتین اپنی ساری آمدنی شاپنگ پر خرچ کرتی ہیں‘ آپ کو ہر روسی عورت مہنگے برانڈز کا اشتہار نظر آئے گی‘ مرد بھی کپڑوں‘ جوتوں اور جیکٹس پر بے تحاشا رقم خرچ کرتے ہیں‘ مجھے چار دن میں کوئی روسی گندہ نہیں ملا‘ یہ صاف ستھرے اور اسمارٹ لوگ ہیں تاہم مرد کثرات شراب نوشی کی وجہ سے جلد ڈھل جاتے ہیں‘ آپ کو ان کی گردنیں بھی موٹی نظر آتی ہیں اور یہ سانس کے مسائل کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔آفتاب چوہدری روس میں پاکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ہیں‘ یہ دو وقفوں میں آٹھ برسوں سے روس میں تعینات ہیں‘ روسی زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں‘ یہ روس کے کلچر کو بھی سمجھتے ہیں اور سفارت کاری کو بھی‘ یہ ہمیں اپنے گھر لے گئے۔

پرتکلف کھانا کھلایا‘ یہ پاکستان اور روس کے سفارتی تعلقات سے بہت مطمئن ہیں‘یہ سمجھتے ہیں پاکستان اور روس دونوں تیزی سے دوست بن رہے ہیں‘روس مستقبل میں بھارت اور پاکستان کے تنازعوں کا حل نکال لے گا‘ یہ پیوٹن کے فین ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں پیوٹن نے روسیوں کو ان کا کھویا ہوا اعتماد واپس دلایا‘ روسی اپنے صدر کا بہت احترام کرتے ہیں‘ روس پر 2014 میں کریمیا پر قبضے کے بعد اقتصادی پابندیاں لگ گئیں‘ یہ سوویت یونین کے بعد روس کا مشکل ترین دور تھا لیکن قوم نے یہ وقت پیوٹن کی قیادت میں بڑے صبر سے گزارا‘ یہ قوم کو ساتھ لے کر چلنے کا فن جانتے ہیں اور یہ روس کو مزید بھی آگے لے جائیں گے۔

میں اور شیخ مبشر تین مئی کی درمیانی رات ریڈاسکوائر میں واک کر رہے تھے‘ ہم نے ازبک ریستوران سے کھانا کھایا اور ہم دریائے ماسکو کے ساتھ ساتھ بارہ کلومیٹر واک کرکے ریڈاسکوائر پہنچ گئے‘ ریڈاسکوائر کی رونقیں سمٹ رہی تھیں‘ گلیوں میں لوگوں کے قدموں کی چاپ تھی‘ ویٹرز گلیوں سے کرسیاں سمیٹ رہے تھے‘ لائیٹس آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں‘ دریائے ماسکو کے پل اجڑتے چلے جا رہے تھے اور اسٹریٹ سنگرز اپنے آلات سمیٹ رہے تھے‘ رات کالی تھی لیکن فضا میں ماسکو کا فسوں چمک رہا تھا‘ دریا کی طرف سے اچانک ایک پرندہ آیا‘ ریڈاسکوائر کا چکر لگایا‘ دلدوز چیخ ماری اور دریا کی طرف واپس مڑ گیا‘ سناٹے کی چادر میں درجنوں چھید ہو گئے اور ہر چھید سے ہوا پھڑپھڑا کر گلیوں میں اترنے لگی‘ میں نے اوورکوٹ کے کالر اوپر کر لیے‘ ماسکو کی سردی گرمیوں میں بھی ہڈیاں جما رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں