157

ماں تجھے سلام… شاہد محمود گھمن

ایسی ہستی کے بارے میں جو احترام و ادب،محبت و عشق اور جنوں کی حدوں کو پہنچی ہو اسکے بارے میں کچھ لکھنے کیلئے الفاظ ڈھونڈنا اور پھر استعمال کرنا بہت مشکل کام ہے۔ماں کے لئے لکھنے بیٹھا تو بہت دیر تلک ایک جملہ ہی نہ بن پایا یہی سوچتا رہا کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم پھر جو ذہن میں آتا گیا اسے تحریر کرتا چلا گیا ۔سب مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں اور ان کی دعائیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں گھر کی دہلیز کے اندر قدم رکھتے ہوئے ٹھنڈک اور طمانیت کا احساس ماں کے وجود سے ہی ہوتا ہے اسی لئے ماں سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے کہتے ہیں کہ’ ’ماں کی دعا ،جنت کی ہوا‘‘۔ہر انسان کی کامرانیوں کے پیچھے انکی ماں کی طاقتور دعائیں ہوتی ہیں کیونکہ ماں کی گود اور اس کا فیضان و طمانیت کی بانہوں میں سمیٹے رکھتا ہے ۔ماں کی شان کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دو جہانوں کے رب نے ماں کو اس معراج تک پہنچایا کہ جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی اور نبی کریم نے فرمایا کہ’’ماں باپ کے چہرے پر ایک نگاہ ڈالنا ایک حج اکبر کے برابر ہے،جتنی بار ماں باپ کے چہرے کی جانب دیکھو سمجھو تم نے اتنی بار حج ادا کیا‘‘۔اسلام ایک مذہب ہے جس نے ہرہررشتے کے حقوق فرائض کھول کھول کربیان کردیئے ہیں اورماں کے متعلق تورب تعالیٰ نے خصوصی احکامات نازل کیے ہیں۔’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرواور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور(اللہ کے حضور)عرض کرتے رہو : اے میرے رب!ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے(رحمت و شفقت سے)پالا تھا‘‘۔

احادیث میں بھی حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماں کے متعلق بہت واضح احکامات دیئے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری ماں۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری ماں۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری ماں۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا باپ ہے۔دراصل ہم لوگ غیروں کی دیکھادیکھی اپناسب کچھ بھولتے جارہے ہیں۔ہم نے اسلام کوجب سے پس پشت ڈالاہے توہرچیزجوغیروں کی ہے اس کواپنالیاہے حالانکہ ہمارے پاس ہرمسئلے کاحل موجودہے اورہرچیزکے متعلق بہت واضح احکامات ہیں۔شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ’’ ماں کی خوشنودی دنیا میں باعث دولت اور آخرت میں باعث نجات ہے۔ماں ایک ایسا پختہ مقدس اور دائمی رشتہ ہے جس سے بڑا تعلق پوری دنیا میں نہیں کیونکہ ماںشفقتوں،محبتوں،ٹھنڈکوں،بہا روں،خوشبوؤں،اور راحتوں کا استعمارہ ،راہنمائی و روشنی کی علامت ہے‘‘۔

12مئی2019ء کو عالمی یوم ماں نہایت جذباتی انداز میں منایا گیا ۔1948 ء میں امریکہ کی اینا جارویس نے اس دن کو اپنی ماں کے نام منسوب کیا اور1914 ء میں اسے امریکی کانگریس سے منظوری کے بعد پورے امریکہ میں ماں کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔ اور رفتہ رفتہ یہ روایت دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی۔ترکی میں1955 ء سے یہ دن منایا جا رہا ہے۔دنیا بھر میں ماہ مئی کے دوسرے ہفتے میں اتوار کے روز ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جبکہ متعدد ممالک میں یہ دن مختلف دنوں میں منایا جاتا ہے۔مثلا ناروے میں یہ دن فروری کے دوسرے ہفتے میں اتوار کے روز اور متعدد ممالک میں مئی کے آخری اتوار کے روز منایا جاتا ہے۔ہر گھر چونکہ ماں کی محبت و شفقت بے پایاں سے معمور ہوتا ہے اس لئے تقریبا ہر گھر میں اولاد اپنی والدہ ماجدہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے اور جن کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم نعمت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے دنیا سے رخصت ہونے والے پیاروں کی بخشش و مغفرت کیلئے ایصال ثواب کر کے ان پر جنت الفردوس کے دروازے کھل جانے کا سبب بن سکتے ہیں ،کہتے ہیں مسلمان نیک اولاد اسی لئے مانگتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں وفات پا جانے والے والدین اور دیگر پیاروں کی بخشش و مغفرت کیلئے دعا کر سکیں۔ بہت اچھا لگتا ہے جب ہم اپنی ماں کوماں جی ،والدہ ،امی جان کہہ کر بلاتے ہیں یا دیکھتے ہیںاور خدمت کرتے ہیں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے کیونکہ ان الفاظ میں جو مٹھاس اور خوبصورتی ہے وہ دوسرے لفظوں میں نہیں لیکن دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی ہے جبکہ میرے نزدیک ماں کی خدمت کرنے،خیال رکھنے اور اسے ہر طرح کا سکون و اطمینان بہم پہنچانے کا دعویٰ کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بلا شبہ ہم اپنی ماں کی ایک رات کی خدمت کا قرض ہی نہیں چکا سکتے جب وہ خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور ہمیں خشک جگہ پر سلاتی ہے۔

قائین!آؤ عہد کریں کہ وہ تمام لوگ جن کی ٹھنڈی چھائیں موجود ہیں وہ اسکی ٹھنڈک کو اپنی روحوں میں اتاریں اور جن کی مائیں آسودہ خاک ہیں وہ ان سے روحانی فیض حاصل کریں اور یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی لحد پر رحمتیں نازل فرمائے ۔کیونکہ افراتفری اور انتشار کے عالم میں اگر کہیں پناہ ملتی ہے تو وہ خدا کی بارگاہ ہے یا ماں کی دعا ہے یہ ماں ہی ہے جس کے دل سے نکلی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی اور عرش بریں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں سے محبت کا اظہار کرنے کیلئے صرف ایک دن کو ہی مخصوص نہیں ہونا چاہیئے بلکہ وقتا ًفوقتاً اس عمل کو جاری رکھنا ہم سب کا فرض ہے کیونکہ ماں جیسی ہستی دوبارہ نہیں ملتی۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جن کی مائیں زندہ ہیں وہ انہیں ان کی خدمت اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ جو اس ہستی سے محروم ہو چکے ہیں انہیں صبر و جمیل عطا فرماتے ہوئے انہیں اپنے نیک اعمال کے ذریعے ثواب پہنچانے کی ہمت فرمائے۔ آمین ثم آمین!

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں