96

یوروپین پارلیمنٹ کے الیکشن … ڈاکٹر سید انعام حسین

رواں ہفتہ میں 23 سے 26 مئی کے دوران یورپین پارلیمنٹ کے الیکشن ہونے جا رہے ہیں جس میں چالیس کروڑ رجسٹرڈ ووٹر یورپ کے اٹھائیس ملکوں سے حق رائے دہی استمعال کر کے اپنے پسندیدہ ارکان یورپین پارلیمنٹ منتخب کریں گے. یہ الیکشن یورپ کے لئے انتہائی اہم ہوں گے جو تاریخ ساز ہوں گے ککونکه یہ ایک گیم چنگیر ثابت ہو سکتے ہیں. یورپین پارلیمنٹ کے الیکشن میں دیگر مسائل کے علاوہ تین مرکزی نقاط پر یورپ بھر میں کونویسنگ چل رہی ہے جن میں امیگریشن کا مسلہ سر فہرست ہے. دوسرا بڑا نقطہ ملازمتیں اور معشیت سے متعلقہ ہے جبکہ تیسرا نقطہ ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی گرمائش کا ہے.
.
محترم قارئین تارکین وطن پاکستانیوں کو یورپ میں مائیگریشن کے قوانین میں مجوزہ تبدیلیاں یورپین پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانیوں کو بھی بہت زیادہ متاثر کر سکتی ہیں لہٰذا یہ مسلہ یورپ میں مقیم تارکین وطن پاکستانیوں کے لئے بھی مرکزی حیثیت کا حامل ہونا چاہئے. تارکین وطن اپنا ملک چھوڑ کر یہاں آ بسے ہیں جس کی بنیادی وجہ بہتر معاشیات اور ملازمتوں کے بہتر مواقع ہیں لہٰذا یہ نقطہ بھی پاکستانی کمیونٹی کے لئے مرکزی ہونا چاہئے. تیسرے نقطہ پر پاکستانیوں کی نا تو کوئی تعلیم ہے اور نا ہی شعور سازی ہوئی ہے لہٰذا پاکستانی ماحولیاتی تبدیلیوں میں بالکل ایسی ہی رائے رکھتے ہیں جیسی جناب ڈونالڈ ٹرمپ کی ہے اس لئے یہ نقطہ پاکستانی کمیونٹی نظر انداز کر دے گی. لیکن یورپ کے مقامی لوگ ماحول کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اس لئے یہاں کے مقامی سیاستدان اس موضوع پر بھی ضرور بات کرتے نظر آئیں گے.
.
دنیا بھر کی تین سپر طاقتیں امریکہ، روس اور چین ان الیکشن میں خاص دلچسپی لے رہے ہیں. امریکی حکومت چاہتی ہے کہ یورپ سے ٹریڈ بیلنس درست کرے اور چین کی بجائے امریکی تاجروں کو وہ سہولیات مہیا کی جائیں جو یورپ اس وقت چین کو دے رہا ہے. روس کو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بنے تقریباً چوتھائی صدی بیت چکی ہے اور کیونکہ روس جغرافیائی اعتبار سے یورپ کے ساتھ منسلک ہے لہذا وہ یورپ پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہ رہا ہے. گزشتہ دہائی کے اقتصادی بحران میں چین نے یورپ کی معاشیات کو ڈوبنے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے بدلے اس نے بہت سے مراعات حاصل کر لی تھیں، چین اب اپنی اسی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہ رہا ہے.
.
ادھر یورپ کے سیاسی حالات یہ ہیں کہ برطانیہ کے بریگزیٹ پول نتیجہ میں یہ اسکا یوروپی پارلیمنٹ کا آخری الیکشن ہوگا اس لئے یورپ کی آیندہ قانون سازی میں ناقد برطانوں ایم ای پیز کی جانب سے اٹھائی جانے والی تحاریک پر سخت نکتہ چینی کریں گے. دوسری جانب مین لینڈ یورپ میں پانچ بڑے کھلاڑی ہیں جن میں جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین اور پولینڈ ہیں. ان پانچوں ملکوں کی حالیہ سیاست میں جو خاص بات دیکھنے میں آئی ہے وہ مقامی نیشنل ازم اور دائیں بازو کی جماعتوں کا بڑھتا ہوا رجحان ہے جو کھل کے امیگریشن مخالف موقف رکھتی ہیں.
.
اسپین میں واکس نے کبھی اتنی بڑی تعداد میں سیٹیں نہیں جیتی تھیں جو ظاہر کرتا ہے کہ ایک طبقہ اسپین میں زور پکڑ رہا ہے جو امیگریشن کے خلاف ہے. فرانس نے میکروں کا چناؤ کر کے ثابت کیا کہ وہاں کی اکثریت بائیں بازو کی حمایت میں ہیں لیکن جب امانول میکروں عوام کو ڈیلیور کرنے سے قصر رہا تو “جیلے جان” یا پیلی جرسی کی تحریک سامنے آ گئی جو بائیں بازو کا موقف تو رکھتی ہے لیکن امیگریشن قوانین میں بنیادی تبدیلیاں چاہتی ہے جس کے وجہ گزشتہ دس برسوں میں فرانس میں ہونے والے دہشتگردی اور دیگر نقص امن کے واقعات ہیں جن میں اکثریت تارکین وطن کی رہی ہے. صاف ظاہر ہے کہ اس ماحول کا مکمل افادہ مادام لی پین کو ہوگا جو شدید امیگرنٹ مخالف ہیں. اٹلی میں میتھیو سالوینی کی جیت انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے حامی ہونے کے ناطے یونین مخالف ایجنڈا رکھ سکتے ہیں. ادھر پولینڈ میں اندرے دیودا نے رومن کیتھولک اقدار کا پرچار شروع کیا ہوا ہے جس میں ابارشن پر پابندی سر فہرست رہا. لیکن ان کے حالیہ دور کی اقتصادی پالیسیوں نے پولینڈ کو مضبوطی بخشی ہے. سوویت یونین سے آزاد ہونے کے بعد پہلی مرتبہ والدین کو بچوں کے لئے ماہانہ معاشی امداد ملنے لگی ہے. نوجوانوں کے لئے اسکالر شپ کی تعداد میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا ہے. ترقیاتی کاموں میں شہروں کی حیت تبدیل ہو گئی ہے جس سے پولینڈ میں سیاحت کو فروغ ملنا شروع ہو گیا ہے. لیکن دیودا کی یورپی یونین مخالفت اس بات سے واضح ہے کہ پولینڈ نے آج تک یورو کرنسی کو نہیں اپنایا ہے.
.
یورپ کی بانس بازو کی سیاست میں صرف جرمنی ایسا ملک ہے جہاں ابھی تک انجیلا مرکل امیگریشن کے حق میں ہیں اور ان کے ملک کی معاشیات بھی مضبوط ہے. یورپ کے دیگر سوشلسٹ اقدار رکھنے والے ملکوں میں سکینڈی نیویا بالٹک ممالک اور بینی لکس ممالک ہیں لیکن آبادی کے اعتبار سے وہ مزکورہ بلا چھ بڑے ممالک کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں لہٰذا فیصلہ کن ووٹ انہی چھ ممالک کے ہوں گے یعنی برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین اور پولینڈ. اگرچہ کہ بائیں بازو اور دائیں بازو کی جماعتوں میں شدید مقابلہ ہو گا لیکن حکومت سازی کے لئے فیصلہ کن وزن مرکز سے قریب تر پارٹیوں کا ہی ہو گا یعنی یورپیں گرین پارٹی اور یورپین لبرل کی حیثیت ایسی ہی بن جائے گی جیسی پاکستان کی سیاست میں حکومت سازی کے لئے ایم کیو ایم کی رہی ہے.
.
یہ وقت ہم تارکین وطن پاکستانیوں اور دیگر تارکین کو ایسی پارٹیاں مضبوط کرنے کا ہے جو امیگریشن کے حق میں ہیں اور ہارڈ لائن نہیں لیتی ہیں. لیکن بڑے افسوس کے ساتھ یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بعض تارکین وطن پاکستانی اپنی ذاتی آنا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسی وجوہات پیدا کر رہے ہیں جن کا مکمل طور پر فائدہ امیگریشن مخالف تنظیموں اور پارٹیوں کو ہو یعنی امیگریشن کے حق میں پارٹیوں کی سبکی کروا رہے ہیں. صرف بارسلونا سے ہی چیدہ چیدہ واقعات میں سر فہرست یہ تین اہم واقعات ہیں. چیمبر آف کامرس کے الیکشن کی لڑائی، سرویسا بیئر بیچنے والوں کا دنگل، جامع مسجد کا شوشہ. خیر اندیش یہ فیصلہ نہیں کر رہا کہ کس نے کئے اور کیوں یہ واقعات پیش آئے، تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایسے واقعات کا ہونا صرف امیگرنٹ مخالفوں کو ہی فائدہ پوھنچا رہے ہیں.
.
قارئین، ہماری کمیونٹی میں جو اپنے آپ کو ‘بڑے’، معتبر، رہنما بیان کرتے ہیں، ان سب پر بہت اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے پوری کمیونٹی کی ساکھ بنانے یا بگاڑنے کی. چینی، امریکی، جنوبی امریکی کمیونٹی کے ‘بڑے’ ایسے واقعات پر اکٹھے بیٹھ جاتے ہیں اور مسائل کے حل کے لئے کسی بات پر متفق ہو کر اٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے امیگرنٹس کو فوقیت حاصل ہے. ہمارا وقار ہمارے ہی ہاتھ میں ہے. نعرے لگا کر یا فیس بک پر تصویروں آویزاں کرنے سے کوئی کمیونٹی عظیم نہیں بنتی، اسکے لئے تدبیر کرنا پڑتی ہے. اور پہلی تدبیر یہی ہے کہ امیگرنٹ کے حق میں پارٹیوں کو ووٹ دیں اور ذاتی عناد کو بالائے طاق رکھ کر یورپین پارلیمنٹ کا ووٹ دینے ضرور جائیں.

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں