171

یوم تکبیر! جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا…. شاہد گھمن

یوم تکبیر یعنی28مئی پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب پاکستان نے بلوچستان کے مقام چاغی میں ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے ایٹمی کلب میںشمولیت حاصل کی اس سے پہلے امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس ایٹمی کلب کے ممبر تھے جبکہ بھارت11مئی1998ءکو راجھستان کے مقام پوکھران میں زیر زمین200میٹر گہرائی میں شکتی ون کے نام سے ایٹم بم کے 5دھماکے کرکے کلب میں شامل ہوا جس کے جواب میں پاکستان نے28مئی 1998ءکو ضلع چاغی کے سلسلہ راس کوہ میں1000میٹر گہرائی میں چاغی ون کے نام سے 6ایٹمی دھماکے کیے۔ کامیاب ایٹمی دھماکوں کے فورا ً بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پاکستان ٹیلی ویژن پر تاریخ ساز اعلان کرتے ہوئے پھولے نہیں سمارہے تھے اور اس کامیابی پر بار بار اللہ کا شکر یہ ادا کررہے تھے ان کا یہ اعلان پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے

الحمدللہ ہم نے گزشہ دنوں کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا حساب 6کامیاب ایٹمی دھماکوںسے چکا دیا ہے اب ہم پر کوئی دشمن شب خون مارنے کی جرات نہیں کرسکے گا۔کامیاب ایٹمی دھماکوں سے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوگیا اور کامیاب ایٹمی تجربات نے ملت اسلامیہ پر پانچ صدیوں سے طار ی جمود توڑ کر اس کو خواب خرگوش سے بیدار کردیا اور جذبہ عقیدت میں اسلامی ممالک نے پاکستان کے اس جرات مندانہ اقدام پر مبارکباد پیش کی پاکستان کا ایٹم بم ملت اسلامیہ کی نہ صرف علامت بلکہ اس کے اتحاد کی علامت بھی ہے جو عہد رفتہ کی عظمت کو واپس لانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ کامیاب تجربات نے بھارت کے ایٹمی ایڈونچرازم کا دندان شکن جواب دے کر جنوب مشرقی ایشیا میں اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو نہ صرف لگام دی بلکہ اس خطہ میں جو فوجی اور جوہری بالادستی سے عدم توازن پیدا ہو چکا تھا اس کے مذموم منصوبوں کو ان ایٹمی دھماکوں نے خاک میں ملا کر رکھ دیا۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام دراصل 1954ءمیں ہی شروع ہوگیا تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی گوہر نے وائٹ ہاﺅس میں امریکی صدر آمیزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن(ایٹم فارپیس)کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ ایٹمی توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لئے ایٹمی توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیاتھا یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا اور پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی کو اسلحہ کی تیاری کے لئے استعمال نہیں کرے گا امریکی صدر کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگاکر انہیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔ پاکستان کی طرف سے آمیزن ہاور کے اس منصوبہ کو تسلیم کرنے پر پاکستان میں بہت سے لوگوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس میں پاکستان سراسرگھاٹے میں تھادوسری طرف1947ءسے ہی پاکستان کے معرض وجود میںآنے کے بعد بھارت پاکستان کا دشمن بن گیا اور پاکستان کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے درپے ہوگیا۔ 1960ءکے عشرے میں یہ خبر یں آنی شروع ہوگئیں کہ ہندوستان بڑی تیزی سے جوہر ی تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی قیادت نے جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے سے صاف انکار کردیاتھا حالانکہ1963 ءمیں ہی ذوالفقار علی بھٹو نے جو ایوب خان کی کابینہ میں شامل تھے اور ان کی نظریں بھارت کے ایٹمی پروگرام پر بھی تھیں انہوں نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کے لئے پروگرام شروع کرنا چاہئے۔ لیکن صدر ایوب خان اور ان کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دوسرے وزیروں نے ان کی یہ تجویز یکسر مسترد کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان جوہری اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرے گا۔ 1963 ءمیں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر گئے تو وہاں فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یحیٰی خان، صدر ایوب کے اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ایم ایم احمد کے مشورے پر ٹھکرا دی کیونکہ ان کے سروں پر امریکہ کا ہاتھ تھا۔

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جو1971 ءمیں بنگلہ دیش کے نتیجہ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد برسر اقتدار آئے اور پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا، صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد بھٹو نے، ایران، ترکی، الجزائر، تیونس، مصر اور شام کاطوفانی دورہ کیا اس دورے کے دو اہم مقاصد تھے ایک مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلقات تھا اور دوسرا پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے مسلم ملکوں کی مالی اعانت حاصل کرنا تھا۔ دمشق میں اپنے دورے کے اس سلسلہ کے اختتام پر انہوں نے شام کے صدر حافظ الاسد سے کہا تھا کہ ان کا یہ دورہ نشا ثانیہ کے سفر کا آغاز تھا اورپاکستان کی مہارت اور مسلم ممالک کی دولت سے عالم اسلام جوہری قوت حاصل کرسکتا ہے اس دورہ کے فورا بعد انہوں نے 1973ءمیں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کاباقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلی سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کرکے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان بلا بھیجا اور دوسری جانب پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے انہوں نے فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید کے لئے آمادہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنس دانوں نے1984ءمیں ہی جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی تھی اور انہوں نے جنرل ضیا الحق سے کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کی طرف سے جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن ان کے امریکی نواز وزیر خارجہ اور دوسرے وزیروں نے سخت مخالفت کی آخر کار11مئی1998 ءمیں جب ہندوستان نے جوہری تجربات کئے تو پاکستان کے لئے کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان جوہری طاقتوں کی صفوں شامل ہو گیا۔اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر کامیاب ایٹمی دھماکوں نے 28مئی 1998 ءکے دن پاکستان کی تاریخ میں تحفظ نظریہ پاکستان اور تکمیل دفاع پاکستان کی تاریخ کا دن بنادیا جیسے یوم تکبیر سے منسوب کردیا گیا۔پاکستان کے مایہ ناز عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ، پاکستان کے ایٹمی ٹیکنالوجی کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی جان پر کھیل کر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنادیا بلکہ ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے قوم اور مسلح افواج کے پشت مورال کو بلند یوںپرلے گئے۔ ہماری دعا ہے کہ ہمارا ملک پاکستان اسی طرح ایٹمی پاوربن کر دنیاکے نقشے پر جگمگاتا رہے اور ہماری عوام ہمیشہ یوم تکبیر مناتی رہے،آمین!

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں