109

روس، چین کا اقتصادی فورم میں متحد ہونے کا فیصلہ

سینٹ پیٹرز برگ (شاہد گھمن سے)چین اور روس نے متحد ہو کر امریکا کی جانب سے درپیش مشکلات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ روس میں منعقد اکنامک فورم میں مہمان خصوصی کے طور پر بھی شریک تھے

تفصیلات کے مطابق شی جن پنگ 5 جون کو تین روزہ دورے پر ماسکو پہنچے تھے۔

چینی صدر نے کریملن میں روسی صدر ولادیمر پیوٹن سے ملاقات میں انہیں اپنا بہترین دوست قرار دیا۔

دورے کے آخری روز شی جن پنگ سالانہ سینٹ پیٹرس برگ اکنامک فورم میں شرکت کریں گے، ماسکو کا خیال ہے اس فورم کی مدد سے غیریقینی کاروباری حالات کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کار تجاویز پیش کریں گے۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ فورم میں پائیدار ترقی اور کثیر الاطرافی تعاون پر چین کے نظریات پیش کریں گے۔

میکرو ایڈوائزری کنسلٹنگ فرم کے سینئر پارٹنت کرس ویفر نے کہا کہ 2019 فورم سے یہ واضح ہوگا کہ دنیا کتنی بائی پولر ہوچکی ہے۔

حالیہ چند سالوں میں بیجنگ اور چین کے اقتصادی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں جو چین کے حق میں بہتر ثابت ہوئے ہیں۔

شی جن پنگ کی ماسکو آمد کو ای کامرس، ٹیلی کام، گیس اور دیگر شعبوں میں درجنوں معاہدوں کے امکانات کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

چینی سربراہ اکنامک فورم میں پہلی مرتبہ شرکت کررہے ہیں جہاں وہ چین کے 1000 رکنی وفد کی قیادت کریں گے۔

شی جن پنگ کے دورے سے قبل کریملن ایڈوائزر یورے یوشاکوو نے چین کو ‘ روس کا اہم ترین اقتصادی شراکت دار ‘ قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کی وجہ سے تجارت میں اضافہ ہوا ہے جس میں 2018 میں ایک سو 8 ارب ڈالر کمائی کے باعث 25 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

رینیسانس کیپٹل کے چیف اکنامسٹ کارلوس رابرٹ سن نے کہا کہ ‘ چین، روس میں سرمایہ کاری بڑھانے میں وقت لے رہا ہے، یہ جلدی نہیں چاہتا ہے بلکہ چین طویل مدت کے لیے محفوظ محسوس کرنا چاہتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 سے 5 سال یا اس سے قبل عرصے میں چین بڑی سرمایہ کاری کرے گا کیونکہ بیجنگ کے نئے سِلک روڈ سے منصوبوں میں روس اہم کردار ادا کررہا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں