121

تجارت میں ڈالر کے کردار پر نظرثانی ہونی چاہئے، روسی صدر پوتن

سیںنٹ پیٹرزبرگ (شاہد گھمن سے)چین اور روس نے متحد ہو کر امریکا کی جانب سے درپیش مشکلات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ روس میں منعقد اکنامک فورم میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ عالمی تجارت میں ڈالر کے کردار پر نظر ثانی ہونی چاہیے،دوسری جانب امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے چینی بینک نے ایران کے ساتھ کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے، صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ تخفیف اسلحہ سمجھوتے، ’نیو اسٹارٹ‘ کی تجدید میں دلچسپی نہیں رکھتا تو روس معاہدے کو ترک کرنے پر تیار ہے

گزشتہ روز سینٹ پیٹرزبرگ میں بین الاقوامی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئےپیوٹن نے اس بات کی تردید کی کہ روس وینزویلا سے اپنے دفاعی اہلکار واپس بلا رہا ہے۔برطانیہ کے بارے میں روسی سربراہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنے کشیدہ تعلقات میں ’’بہتری لانے‘‘ کیلئے
اور گذشتہ سال انگلینڈ میں سابق روسی جاسوس کو زہر دیے جانے سے متعلق معاملات کو ’’پیچھے چھوڑنا‘‘ ہوگا۔سینٹ پیٹرزبرگ میں بین الاقوامی میڈیا کے سربراہان سے ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا کہ امریکہ معاہدے کی تجدید کے مذاکرات میں شرکت پر غیر آمادہ ہے، جن کی میعاد سال 2021ء میں ختم ہو جائے گی۔روسی صدر نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہم اسے توسیع دیں۔

ہمارے حفاظتی نظام یہ استعداد رکھتے ہیں کہ مستقبل بعید تک روسی سیکورٹی کی ضمانت فراہم کی جا سکے۔روسی صدر نے کہا کہ ’’اگر کوئی ’نیو اسٹارٹ‘ سمجھوتے کی تجدید نو نہیں چاہتا، تو نہ کرے۔ پھر، ہم بھی ایسا نہیں کریں گے‘‘۔معاہدے پر 2010ء میں پراگ میں دستخط کیے گئے تھے، جس کی بنیاد اصل ’اسٹارٹ ون‘ پر رکھی گئی تھی، اور جس میں حکمت عملی کے حامل جوہری ہتھیار اور لانچرز شامل تھے، جو ہو سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے اسلحے کے ذخیرے میں موجود ہوں۔

پیوٹن نے کہا کہ ’’سبھی کی میعاد 2021ء میں ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ہتھیاروں کی دوڑ کو ترک کرنے کے لیے عمل درآمد کا کوئی طریقہ کار باقی نہیں رہے گا‘‘۔ ٹیلی کمیونیکیشن کی سب سے بڑی چینی کمپنی ہواوے نے روس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اب فائیو جی ٹیکنالوجی روس میں بنائی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب پچھلے ہی ماہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی طرف سے ہواوے پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کے الزام کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ہواوے اور روسی کمپنی ایم ٹی ایس کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں کمپنیاں ’روس میں 5 G (فائیو جی) پر مل کر کام کریں گی اور سنہ 2019 اور 2020 کے دوران اس ٹیکنالوجی کو تجرباتی بنیادوں پر لانچ کر دیا جائے گا۔‘روس میں ہونے والے اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا ہے کہ ہواوے کو نہ صرف دیوار سے لگایا جا رہا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی مارکیٹ سے نکالنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

اس اجلاس میں چینی صدر شی جِن پنگ بھی شریک ہیں۔ صدر پوٹن نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ ہواوے کو تجارتی جنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دوسری جانب شی جِن پِنگ کے روس کے تین روزہ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور باہمی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر چینی صدر نے اپنے روسی ہم منصب کو اپنا ʼبہترین دوست قرار دیا ہے۔چینی صدر کے اس دورے کے دوران دونوں ملکوں نے کئی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور اس کے علاوہ چینی صدر نے ماسکو کے چڑیا گھر کے لیے دو پانڈے بھی تحفہ کیے ہیں۔بدھ کو روس پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر شی جِن پنگ کا کہنا تھا کہ اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ان کی ’ذاتی دوستی بہت گہری‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چھ برسوں میں ہم تقریباً 30 مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ روس وہ ملک ہے میں نے جس کے سب سے زیادہ دورے کیے ہیں اور صدرپیوٹن میرے بہترین دوست اور رفیق کار ہیں۔

اس کے جواب میں صدر پیوٹن نے بھی صدر شی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’یہ کہتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ روس اور چین کے تعلقات ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ یہ دوستی عالمی سطح کی ہے اور ہمارا تعاون سٹریٹیجِک ہے۔ادھر ازیں چینی صدرنے کہا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی چین اور روس کا اسٹرٹیجک انتخاب ہے،معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی، اور خلا بازی سمیت شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنایا جائے،روسی صدرولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس چین کو زیادہ مقدار میں تیل، قدرتی گیس اور زیادہ سے زیادہ سویا بین سمیت دیگر زرعی اجناس فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

علاوہ ازیں چینی بینک نے امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران کے ساتھ کام کرنے کا اعلان کیا ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے بینک نے کہا کہ رواں برس کے آخر تک ایران میں مالیاتی لین دین کی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز کرے گا۔ایران کے ایوان صنعت و تجارت کے نائب صدر پدرام سلطانی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ چینی بینک رواں سال کےآخر تک چینی کرنسی کی بنیاد پر ایران کے ساتھ بینکاری تعاون کا آغاز کرے گا۔چینی بینک کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین میں مصنوعات، مخصوص افراد، ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں اور بینکوں سے متعلق امور میں ایران کے ساتھ کام کرے گا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں