96

ملک کا قرضہ لوٹ کر دیوالیہ بنانےکے قریب پہنچانے والوں سے حساب لینے کا وقت آن پہنچا ہے: عمران خان

اسلام آباد(ورلڈ پوائنٹ) وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دس سال کے دوران ملک کو 24 ہزار ارب روپے قرضوں کا بوجھ ڈال کر اس کا دیوالیہ نکالنے والوں کے خلاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کر کے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی،

رات گئے قوم سے خطاب میں کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ کیسے چڑھا، انکوائری کمیشن کے ذریعے پتا لگائیں گے، انکوائری کمیشن میں ایف بی آر، ایس ای سی پی، آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندے شامل ہونگے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کا پہلا بجٹ نئے پاکستان کی عکاسی کرے گا، آج پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا،یہ وہ بجٹ ہے جو نئے پاکستان کے نظریے کا عکاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت بنے گا،پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا۔عمران خان نے مزید کہا کہ مدینہ کی ریاست برابری کے اصولوں پر قائم تھی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں حکمران بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، وہاں امیر سے رقم لے کر غریبوں پر خرچ کی جاتی تھی۔

کمیشن میں آئی بی، آئی ایس آئی، ایف آئی اے، ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے نمائندے شامل ہوں گے، اس کمیشن کی ذاتی نگرانی کروں گا، کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آﺅں گا، حکومت کیا میری جان بھی چلی جائے چوروں اور ڈاکوﺅں کو نہیں چھوڑوں گا۔ منگل کی رات قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف نے آج پہلا بجٹ پیش کیا، یہ بجٹ نئے پاکستان کے نظریئے کی عکاسی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان نبی ﷺ کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنے گا، پاکستان ایک عظیم ملک بننے جا رہا ہے، مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ریاست تھی، ریاست مدینہ کا سب سے بڑا اصول حکمران جوابدہ ہوتا تھا، ریاست مدینہ میں امیروں سے رقم لے کر غریبوں پر خرچ ہوتی تھی، ریاست مدینہ میں قانون کی نظر میں سب برابر تھے، مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں پہلے دن سے سن رہے ہیں، کدھر ہے نیا پاکستان؟، مدینہ کی ریاست ایک دن میں قائم نہیں ہوئی، مسلمان جہد مسلسل سے ایک عظیم قوم بنی۔ انہوں نے اپنے اس عزم کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ایک مسلسل عمل ہے جسے پورا کریں گے۔ انہوں نے نیب کی جانب سے کرپشن کے کیسز میں ہونے والی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ بڑے بڑے برج جیلوں میں ہوں گے، ماضی میں حکمران ججوں کو ٹیلی فون کر کے فیصلے بتاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں عدلیہ اور نیب آزاد ہیں، آج عمران خان بھی عدلیہ اور نیب پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت تب چلتی ہے جب پارلیمنٹ میں دو مختلف نظریے ہوں، پارلیمنٹ میں بحث کے بعد اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے، بحث کے بعد اتفاق رائے جمہوریت کا حسن ہے

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کھل کر کرپشن کی، دونوں جماعتوں نے کرپشن کرکے پیسا ہنڈی کے ذریعے ملک سے باہر بھجوایا۔ میری جان بھی چلی جائے ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2008 کے بعد ملک پر جو قرضہ چڑھا اس کی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے 10 سال میں 4 کمپنیوں سے 30 کمپنیاں بنائیں، زرداری کی ایک سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آئی ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ باہر پیسے بھیجنے والا کوئی فالودہ والا نکلا، جعلی اکاؤنٹس استعمال کیے گئے، ایک خاتون 5 لاکھ ڈالرز باہر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اقامے منی لانڈرنگ کے طریقے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے 10 ارب ڈالرز کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس ہیں، مجھے خوف تھا کہ کہیں ملک ڈیفالٹ نہ کرے، سارا ملک بیٹھ جانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، عرب امارات اور چین نے ہماری مدد کی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چند مہینے مشکل ہیں اسکے بعد پاکستان اوپر اٹھے گا اور سرمایہ کاری ہوگی، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں، 30 جون کے بعد بے نامی اثاثے اور اکاؤنٹس ضبط ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شبر زیدی کے ساتھ مل کر ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا،پاکستانی قوم کا مجھ پراعتماد ہے اور قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں