117

’افغان امن عمل مکمل ہوتے ہی وسط ایشیائی ممالک سے تجارت میں اضافہ ہوگا‘

بشکیک(ورلڈ پوائنٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حالات بہتر ہونے پر زمینی راستے سے پاکستان کے لیے تجارت کے مواقع بڑھ جائیں گے جس سے وسط ایشیائی ممالک میں ہماری تجارت میں اضافہ ہوگا۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں موجود ہیں۔

کرغزستان میں پاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’کرغزستان میں 2 ہزار 600 سے زائد پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں، جو یہاں پاکستان کے سفیر ہیں‘۔

انہوں نے پاکستانی برادری کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کے لیے ملک سے دور رہنے پر ان کے حوصلے کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ وسط ایشیا کی تمام ریاستیں ہمارے لیے اہم ہیں، امید ہے پاکستانی طلبہ کرغزستان میں اپنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرغزستان قدرتی وسائل سے مالامال ایک خوبصورت ملک ہے اور یہاں کی نوجوان نسل اپنے قدیم مسلم تشخص کی جانب لوٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان چاہتا ہے کہ کرغزستان جیسے ممالک سے اپنے روابط پہلے سے زیادہ بڑھائیں، یہ نئی مارکیٹیں ہیں جنہیں ابھی آگے بڑھنا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی قوت خرید بھی بڑھے گی اور ان کی ضروریات کو ہم پورا کرسکتے ہیں‘۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع بھی موجود ہیں تاہم بدقسمتی سے براہ راست فضائی رابطہ موجود نہیں، تاہم افغانستان کے حالات بہتر ہونے پر زمینی راستے سے تجارت کے مواقع بڑھیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت چاہتی ہے کہ دونوں ممالک کی آمد و رفت میں اضافہ ہو، کرغزستان چھٹیوں کے لیے ایک بہتر جگہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں قدرتی خوبصورتی موجود ہے جس کے بارے میں ہماری عوام کو علم بھی نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں امن و استحکام میں بہتری آئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بیرون ممالک کے لوگ بھی پاکستان میں آئیں تاکہ انہیں مختلف قسم کے مواقع کے بارے میں علم ہو اور عوام میں یگانیت سے تعلقات میں بھی بہتری ہو‘۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان، کرغزستان کے ساتھ عوامی روابط کا خواہاں ہے‘۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں