142

تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے، مگر… شاہد کاظمی

سرفراز چیمپئینز ٹرافی کا ہیرو قرار پایا۔ حق بنتا تھا اُس کا۔ فخر زمان یقینی طور پر داد کے قابل تھا کہ مسلسل دو اہم میچ جتوائے۔ وہاب ریاض کا خطرناک باؤلنگ اسپیل بھلا کس کو بھول سکتا ہے اگر شین واٹسن اب تک نہیں بھولے تو۔ عامر کی سوئنگ کا چرچا تو اب تک برقرار ہے۔ امام الحق کا ’’چشماتی اسٹائل‘‘ کس کو نہیں بھائے گا۔ شاداب کی گگلی کا تو جواب ہی نہیں۔ پروفیسر کا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مخالفین کو چڑانا بھلا ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ شعیب ملک تو سینئر ترین کھلاڑی ہیں ہی۔ ان کا احترام کون کہے گا کہ لازم نہیں۔ بابر اعظم کی کلاس کے تو کیا کہنے۔ عماد وسیم کے کالا چشمہ پہنے کے باؤلنگ کروانے اور دلکش انداز پر بیٹنگ کے دوران وکٹ پر کھڑے ہونے کا بھی ثانی نہیں۔ حسن علی کا جنریٹر اسٹائل جشن تو اب ان کی شناخت بن چکا ہے۔ اور ہمیں ایک ایک کھلاڑی نہ صرف عزیز ہے بلکہ ہمیں اِن سے بے پناہ محبت بھی ہے۔ اور کچھ بھی ہو، ہاریں یا جیتیں، ہماری ان سے محبت برقرار رہے گی کیوں کہ یہ ہمارے قومی کھلاڑی ہیں، پاکستانی ہیں۔ اور پیار ان سے حب الوطنی کا لازمی جزو ہے۔

لیکن اب ذرا محبت کی پٹی ہم اتار کر دیکھتے ہیں کیوں کہ زندگی میں عام انسان کو بھی بسا اوقات اپنی محبت سے ہٹ کر عقل سے کام لینا پڑتا ہے۔ وجہ یہ کہ محبت ہمیشہ آپ سے عقل کے مخالف فیصلے کرواتی ہے۔ اور پھر ساری زندگی کا رونا ہمارے گلے پڑ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ہماری قومی ٹیم کے معاملے میں بھی ہے۔ ہمارے پیارے سرفراز ہمیں بہت عزیز ہیں۔ لیکن ہمارے عزیز، کیا چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم کا گراف آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دن بدن نیچے نہیں جارہا؟ 2017 میں چیمپئنز ٹرافی کی فتح یقینی طور پر یادگار لمحہ ہے۔ اٹھارہ میں سے بارہ میچ جیتے بھی۔ 2018 میں یہ تناسب تھوڑا اور کم ہو گیا اور اور اٹھارہ میں سے فتح آٹھ میچز میں مقدر بنی۔ 2019 میں ہم ورلڈ کپ کی تیاری کے سلسلے میں پہلے سے انگلینڈ میں ڈیرے ڈال کر اپنی دانست میں درست فیصلہ کر چکے تھے۔ وہ تو برا ہو کہ انگلینڈ کی ٹیم نے ہماری درگت بنا ڈالی اور ورلڈ کپ کےلیے ہماری امیدوں پر پانی پھیرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اب اس پورے قضیے میں اول الذکر ہمارے بہترین شاہینوں کی کارکردگی اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ہم ہر میچ کے بعد یا تو قدرت سے دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں یا پھربارش کی امید لیے ہوئے۔ اور جو قوم کرکٹ سے اتنی محبت کرتی ہے اس کی امیدوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی کو اس قدر جان گئے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے روایتی ٹاکرے سے قبل بارش کی دعائیں مانگتے نظرآئے۔ سونے پہ سہاگہ کہ ملبہ باؤلنگ پر گرتا رہا۔ کوئی اس جانب توجہ دینا گوارا نہیں کر رہا کہ موجودہ ورلڈ کپ میں جہاں ساڑھے تین سو کا مجموعہ عام بات بن چکی ہے، وہاں ہماری بیٹنگ میں اتنی سکت بھی باقی نہیں کہ وہ ایک مرتبہ آسٹریلیا کو (جب امید کی جا رہی تھی مجموعہ چار سو تک ہوگا) ہماری باؤلنگ نے 307 پر محدود کر دیا تو ہماری بیٹنگ لائن کےلیے یہ پہاڑ بن گیا۔ تو پھر کل کے میچ میں جب بھارت کا آغاز ایسا تھا کہ مجموعہ ساڑھے تین سو سے زائد معلوم ہو رہا تھا تو باؤلنگ نے اسے تین سو چھتیس تک محدود کردیا لیکن ہمیں معلوم تھا کہ یہ ہدف ہماری بیٹنگ کی مجموعی صورتحال دیکھتے ہوئے اور بیٹنگ لائن کی اپروچ دیکھتے ہوئے کم و بیش ناممکن ہی ہے۔ لیکن امیدوں کا کیا کریں، پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

پورے قضیے میں نہ تو تنقید ہے نہ ہی کوئی ذاتی عناد۔ سینئر کھلاڑیوں حفیظ، شعیب ملک، سرفراز و دیگر کو دیکھیے یہ جب خود کارکردگی میں آگے نہیں بڑھ پا رہے تو جونیئرز سے کیا توقع رکھیں کہ وہ میچ جتوا سکتیں گے۔ ہار یا جیت معنی نہیں رکھتی، اہم ہے تو لڑنے کا جذبہ۔ شائقین کو نظر تو آئے کہ ان کی ٹیم لڑ کر ہار رہی ہے۔ تین سو سے اوپر مجموعہ گیا نہیں کہ ہماری ٹیم پہلے ہی نفسیاتی شکست کا شکار ہوجاتی ہے کہ نہیں بھئی! یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔ جدید کرکٹ کے تقاضے بدل چکے ہیں اور ہم آج بھی نوے کی دہائی کی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ہمارا ڈومیسٹک سسٹم ہر سیزن میں نئے تجربات کی آماجگاہ ہے۔ ہم پی ایس ایل کی کامیابی کی خوشی سے نکلیں تو عالمی کرکٹ میں اپنا کھویا وقار بحال کر پائیں۔

دنیائے کرکٹ میں جہاں اوپننگ شراکت داری میں ابتدائی دس اوور میں سو رنز بننا معمول بن رہا ہے۔ ہم وہاں بیس اوور میں پانچ کی اوسط کو اپنی کامیابی سے تعبیر کر رہے ہوتے ہیں۔ مڈل آرڈر میں جہاں اننگ کو تقویت دینے والے اور اسکور کارڈ کو مسلسل حرکت میں رکھنے والے کھلاڑی اہم ہوتے ہیں وہاں ہمارے کھلاڑی ذاتی ریکارڈ بک کو بہتر کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

جو کام اوپننگ بلے بازوں اور مڈل آرڈر کو کرنا چاہیے وہ ٹیل اینڈرز کر رہے ہیں۔ کبھی حسن علی دو چار چھکے مار دیتے ہیں، کبھی وہاب ریاض، کبھی عماد وسیم تو کبھی شاداب۔ جس کا جو کام ہے وہ نہیں کر رہا، باقی سب کچھ کر رہا ہے۔ باؤلنگ میں جن پہ تکیہ ہوتا ہے وہی پتے ہوا دینے لگتے ہیں۔ اور جنہیں بمشکل ٹیم میں جگہ ملتی ہے وہ کارکردگی دکھا دیتے ہیں۔ ٹیم میں عامر کے کردار پر بحث رہی لیکن وہ وکٹیں لے گیا۔ اور جو ہراول دستے میں شامل تھے، ان کی لائن اور لینتھ ہی اب تک سیٹ نہیں ہو رہی۔ ایک اینڈ سے باؤلر دو سے تین رنز کی اوسط سے باؤلنگ کرا رہا ہے تو دوسرے اینڈ سے دس کی اوسط سے۔ ٹیم نہ ہوئی چوں چوں کا مربہ ہوگئی!

ہمارا فرض ہے کہ ٹیم کا ساتھ دیں۔ ہم پر لازم ہے کہ بے جا تنقید نہ کریں۔ اور ایک میچ کے بعد بھی تنقید جائز نہیں۔ لیکن کیا کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے مقابلے میں بھی اگر آپ اوسط درجے کی کارکردگی سے بھی نیچے چلے جائیں تو ہم منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہیں؟ اور آپ کو اگر گرین کلر مل گیا تو کیا یہ اس بات کی ضمانت ہوگئی کہ آپ ہر تنقید سے بالاتر ہوگئے؟ آپ کو ایک کام دیا گیا ہے، ملک کی نمائندگی احسن انداز سے کرنے کا۔ آپ کو پیسے مل رہے ہیں۔ ملک سے بھی اور اسپانسرز سے بھی۔ تو پھر آپ جب وہ کام بہتر انداز سے نہیں کریں گے جو آپ کے ذمے ہے تو محبت پر عقل تو غالب آئے گی ہی۔ آپ ہم سے توقع ضرور رکھیے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن ہم بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ شائقین کے ساتھ بھی کھڑے ہوں۔ ذمہ داری تو قبول کیجیے۔

آپ تو لولی لنگڑی توجیحات شکست کے بعد پیش ایسے کرنا شروع ہو جاتے ہیں جیسے عوام روٹی کو ’’چوچو‘‘ کہتے ہیں۔ ایک کڑاکے کا میچ جیتے تو ستے وی خیراں کہ اگلا سال پورا ہارتے رہیں۔

آخر میں اپنے کپتان سے ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ پیارے کپتان آپ اس لشکر کے سپہ سالار ہیں۔ آپ بزدلی کا دامن چھوڑیئے تاکہ آپ ایسے بے وقوفانہ فیصلوں سے بچ پائیں کہ ٹاس جیت کے دنیا کی مضبوط ترین بیٹنگ لائن کو آپ بیٹنگ کی دعوت دے ڈالیں۔ آپ ہمت پکڑیں گے تو آپ کے کھلاڑی بھی ہمت دکھائیں گے۔ آپ بیک فٹ پر جائیں گے تو آپ کی ٹیم آپ سے بھی دو قدم پیچھے ہٹی ہوگی۔

نوٹ: ورلڈ پوائنٹ نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں