114

مرسی، مصر اور تاریخ…. مبین مرزا

سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی بیٹی مریم نواز نے حالیہ پریس کانفرنس میں حکومت، سیاست اور معیشت کے حوالے سے جو باتیں کیں وہ اپنی جگہ۔ انھوں نے جس طرح اپنے والد کا دفاع کیا، وہ بھی بے شک ان کا حق ہے، تاہم اسی رو میں انھوں نے ایک فقرہ ایسا بھی کہا ہے جو ایک الگ تناظر میں قابل غور ہے۔ انھوں نے کہا، نہ یہ مصر ہے اور نہ ہی نواز شریف کو مرسی بننے دیا جائے گا۔

مریم نواز نے یہ بات ان معنوں میں کہی ہے کہ مصر کے پہلے اور اب تک واحد جمہوری صدر محمد مرسی کو بے رحمی مگر غیرمحسوس انداز میں جس طرح بے وقت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ایسا نوازشریف کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی یہ بات درست ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہو گا اور ہونا بھی نہیں چاہیے۔ ویسے اس معاملے میں پاکستان اور مصر کا موازنہ تو خیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ خدا نہ کرے کہ جو کچھ مصر میں ہوا اور آگے ہوتا نظر آتا ہے وہ پاکستان میں ہو، لیکن ویسے ہمیں کسی خاص خوش فہمی میں بھی یہیں رہنا چاہیے۔

اس ملک میں طالع آزما اور غیرجمہوری قوتیں اس سے پہلے کئی بار اپنا کھیل کھیلتی آئی ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ان پر دروازے بند تو نہیں ہیں۔ سو، یہاں بھی مصر جیسے حالات کا پیدا ہو جانا، کوئی ان ہونی ہرگز نہیں۔ البتہ یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ نوازشریف اور محمد مرسی کے مزاج، حالات اور سیاسی اہداف میں یقیناً بہت فرق ہے۔ اس لیے نواز شریف کو اس تقدیر کا سامنا ہو، جس سے محمد مرسی دوچار ہوئے، یہ آسان نہیں ہے۔

اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ آج کے مصر اور محمد مرسی کے بارے میں وہ جانتے ہیں جو اصولاً ہمیں جاننا چاہیے؟ شاید چند فی صد بھی مشکل سے۔ یہی نہیں، بلکہ جو لوگ کچھ جانتے ہیں وہ بھی گمان غالب ہے کہ محض سرسری اور ضمنی باتیں ہوں گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم تو ایک زمانے سے من حیث المجموع خود اپنی افتاد میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ اپنے سے باہر کسی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا۔ یہ صورت حال ابھی کی نہیں ہے اور نہ ہی صرف ہم پاکستانی اس سے دوچار ہیں۔ یہ پوری اسلامی دنیا کا حال ہے اور ہم سب لگ بھگ نصف صدی میں رفتہ رفتہ اور باری باری ان حالات سے دوچار ہوئے ہیں، بلکہ ہم میں سے اکثر اب تک ان حالات کے زیر اثر چلے آتے ہیں۔ خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے جس کو ذرا تفصیل میں دیکھا جا نا چاہیے۔ سو اس پر کسی اور وقت بات کرنا مناسب ہوگا۔

محمد مرسی کون تھے؟

محمد مرسی عیسی العیاط 8 اگست’ 1951 کو مصر کے صوبہ شرقیہ میں پیدا ہوئے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں اسی یونیورسٹی سے میٹالرجی کے شعبے میں اعلٰی تعلیم کے مدارج طے کیے۔ ان کی ذہانت اور استعداد کو دیکھتے ہوئے انھیں وظیفہ دیا گیا اور وہ امریکا چلے گئے اور ساؤتھ کیلی فورنیا یونیورسٹی سے میٹالرجی کے شعبے میں ہی پی ایچ ڈی کیا- اس کے بعد اسی یونیورسٹی میں وہ اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت میں خدمات سرانجام دینے لگے۔ ان کا شعبہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے اسپیس شٹل انجن کے ڈویلپمنٹ پروگرام میں تعاون کر رہا تھا۔ 1985میں مرسی مصر واپس آگئے اور زقازق یونیورسٹی میں بطور پروفیسر 2010 تک خدمات سرانجام دیں-

اس عرصے میں انھیں عالمی تناظر میں سیاسی منظرنامے کو دیکھنے اور اپنے ملک، عوام اور سیاسی حالات کو سمجھنے کا جو موقع ملا اس نے انھیں عملی سیاست کی طرف مائل کیا۔ وہ اس حقیقت کو واضح طور پر محسوس کر چکے تھے کہ اپنا قومی کردار وہ سیاست کے مرکزی دھارے میں آئے بغیر ہرگز ادا نہیں کر سکتے۔ ان کی شخصیت کی تعمیر میں مذہبی شعور نے بھی ایک اہم عامل کے طور پر حصہ لیا تھا۔ ملکی اور عالمی منظرنامہ بیک وقت حالات کا جو رخ پیش کر رہا تھا، اس نے بھی ان کو یہ بات سمجھا دی کہ اس وقت خاموشی اور لاتعلقی کا رویہ ملک و قوم کی طرف سے بے حسی اختیار کرنے کے مترادف ہو گا۔

چناںچہ وہ عملی سیاست کی طرف آئے اور پہلی بار سن 2000 میں مصری پارلیمنٹ میں پہنچے۔ وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اپنے مذہبی شعور کی بنا پر وہ کسی ایسی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر کا آغاز کرنا چاہتے تھے جو دینی اقدار کے ساتھ سیاسی میدان میں ہو۔ وہ ذہنی اور فکری لحاظ سے اخوان المسلمون کے قریب تھے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت اخوان پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی تھی- سیاست کے مرکزی دھارے میں آنے کے بعد جو حالات و حقائق ان پر کھلے، ان کی وجہ سے سیاست میں رہنا ان کے لیے ناگزیر ٹھرا۔ 2011 میں اخوان نے مرکزی سیاست میں شمولیت کی راہ نکالنے کے لیے “جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی” قائم کی تو مرسی اس کے صدر منتخب ہوئے۔2011 میں جب انتخابات ہوئے تو اس جماعت نے شان دار کام یابی حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں مرسی اپنے ملک کی تاریخ میں پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے اور اقتداری طاقت کے مرکز تک پہنچ گئے – یہ مصر کی تاریخ کا نیا موڑ قرار دیا گیا، صرف ملک کے مذہب پسند عوام اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی۔

مرسی کو اپنی سیاسی، مذہبی، تاریخی اور قومی ذمہ داریوں کا بخوبی احساس تھا، لہٰذا صدر کی حیثیت سے انھوں نے مصر کے معاشی حالات کی درستی، کرنسی کے استحکام، نظام تعلیم کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگی، بے روزگاری کے خاتمے اور عالمی برادری میں مصر کے قومی وقار کے لیے تیزی سے اقدامات کیے- اس کے ساتھ انھوں نے مصرکے اندرونی حالات پر بھی توجہ دی۔ یہاں بھی انتشار اور بے یقینی کی فضا تھی۔ حالات کی درستی کا کام سخت اور فوری اقدامات کا متقاضی تھا۔ مرسی کی توجہ ان سب معاملات پر تھی۔ انھوں نے مختلف جہتوں میں بیک وقت کام شروع کیا۔ ملک میں نئی آئین سازی کا کام بھی ہوا، تاکہ ادارے اپنا اپنا کام اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے پوری ذمہ داری سے انجام دیں اور ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں-

تاہم محمد مرسی اپنے ملک اور عوام کے لیے جو کرنا چاہتے تھے اس کے لیے وقت تو درکار تھا ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ بے حد سخت اقدامات کی بھی ضرورت تھی۔ دوسری طرف غیرجمہوری قوتیں بھی یہ اندازہ لگا چکی تھیں کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں اور آگے چل کر ان کو کن حالات کا سامنا ہو گا۔ ان کی کارروائیوں میں بھی تیزی آگئی۔ ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہونے لگا۔ مرسی کا سیاسی شعور اور قومی و بین الاقوامی اہداف بالکل واضح تھے۔ اس کا اظہار پوری قطعیت کے ساتھ

ان کی زندگی کی اس لازوال تقریر میں ہوا جو انھوں نے اقوام متحدہ میں ساری دنیا کی لیڈرشپ کے سامنے کی اور کہا:

“عزت اسی کی کی جائے گی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرے گا- اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہیں کریں گے ان کی کوئی عزت نہیں کی جائے گی۔”

اب ایک طرف مرسی تھے اور دوسری طرف متحارب قوتیں۔ ان کی ساری کوششوں کے باوجود ملک میں پیدا کیے گئے حالات نے خرابی کا نقشہ تیزی سے ابھارنا شروع کیا۔ متحارب قوتوں نے ایک طرف عالمی سطح پر اور دوسری طرف ملک کے اندر سیاست اور بیوروکریسی کے کرپٹ عناصر کی مدد حاصل کرنی شروع کی۔ جلد ہی ان کو مطلوبہ نتائج حاصل ہونے لگے۔ ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا کی گئی، معیشت کی تباہی کے اقدامات پر خاص طور سے توجہ دی گئی، مختلف سماجی، مذہبی، ثقافتی اور سیاسی گروہوں کے ذریعے احتجاج کا آغاز ہوا جسے بڑھاوا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف عوام میں فوج کا امیج بہتر کرنے کے لیے باقاعدہ منظم طریقے سے بھرپور کوششیں شروع کی گئیں، مثلاً اگر ملک کے طول و عرض کہیں کوئی حادثہ ہو جاتا تو قریب ترین فوجی یونٹوں کو ہدایات دی گئی تھی کہ سول ایڈمنسٹریشن سے بھی پہلے وہاں پہنچیں اور ہر ممکن طریقے سے عوامی ہم دردیاں سمیٹیں۔

ادھر یہ کہ ملک کے سرحدی علاقے میں مختلف نوع کے دھماکے شروع ہو گئے جن کی ذمہ داری ان جان قسم کے گروہوں نے لینا شروع کر دی، اپوزیشن کے مختلف دھڑے متحد ہو کر حکومت کے خلاف بہت سرگرم ہو گئے۔ کھلے لفظوں میں اور بار بار حکومت کی ناکامی کا اعلان ہونے لگا۔ ظاہر ہے یہ سب ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے تھا اور پھر اس کا وقت طے کر لیا گیا۔ اٹھارہ جون کو ایک خفیہ خط کے ذریعے کورکمانڈرز کو کسی بھی ایمرجینسی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا، فوجی جوانوں سے وفاداری کا حلف لیا گیا۔ اور پھر تین جولائی کو صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

جرنل السیسی اور اس کے ساتھی جرنیلوں نے ملک کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا، آئین کو ایک بار پھر ردی کی ٹوکری میں اٹھا کر ڈال دیا گیا، ریاست کے ٹیلی وڑن نیٹ ورک سے خطاب شروع ہو گیا۔ تین مہینے میں الیکشن کا اعلان، بیرکوں میں واپس جانے کا وعدہ، وہی گھسی پٹی تقریر جو اس سے پہلے کتنے ہی ملکوں میں ڈکٹیٹر ہمیشہ کرتے آئے ہیں اور بھولے بھالے لوگ اپنی ازلی ابدی سادگی کے ہاتھوں جس پر ہمیشہ یقین کرلیتے ہیں۔ عدالتوں نے بھی چڑھتے سورج کی طرف رخ کر لیا۔ مظاہرین اپنے گھروں کو چلے گئے، اپوزیشن کی قیادت تو جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ صدر مرسی اور اس کے ساتھیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا، غداری، قتل، بدعنوانی سمیت تعزیرات مصر میں جو بھی کبیرہ گناہ تھے انھیں بہت سے مقدمات میں ملوث کر لیا گیا۔ ایسا صرف ان کے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ اخوان کی اعلٰی قیادت سے لے کر گلی محلے کے اراکین تک بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ لوگ بغیر وارنٹ کے گھر سے اٹھائے گئے، کچھ جیلوں تک پہنچے اور کچھ تاریک اور گم نام راہوں میں مارے گئے۔ وہ سب کچھ ہوا جو اس طرح کی صورت حال میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔

وقت گزرنے پر آتا ہے تو گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہاں بھی دیکھتے ہی دیکھتے چھے برس گزر گئے، نہ معیشت سنبھلی، نہ ہی لوگوں کے روزگار میں کوئی بہتری آئی، نہ انصاف ہوا، نہ الیکشن کرائے گئے اور نہ ہی ملک کی تقدیر بدلی۔ ان چھے برسوں میں مرسی قیدوبند کی صعوبتیں اٹھاتے رہے۔ ان کو بنیادی انسانی سہولتیں بھی فراہم نہ کی گئیں۔ علاج معالجے کی ضرورت تک کی نفی کی گئی، حق و انصاف تک رسائی مفقود۔ گھر والوں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی۔ قیدتنہائی میں رکھا گیا، مشقت سے گزارا گیا۔ مذاق اڑایا گیا۔ تذلیل کی گئی۔ اذیت رسانی کے ایسے طریقے اختیار کیے گئے کہ جن کو بتانا اور ثابت کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کے علاوہ ملک میں ہی نہیں عالمی سطح پر بھی مرسی کی ساکھ خراب کرنے کے سارے حربے استعمال کیے گئے۔

صرف یہی نہیں، ان چھے برسوں میں مصری افواج نے سابق صدر مرسی کو غدار ثابت کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، اس کام کے لیے ادارے استعمال کیے گئے، پروپیگنڈا کیا گیا، پریس ریلیزیں جاری ہوئیں، صحافی قتل کیے گئے، اخبار خریدے گئے، غرض ہر ممکن طریقہ اور حربہ اختیار کیا گیا۔ لیکن قدرت کا اپنا انتظام ہوتا ہے۔ عدالتی کارروائی تو ابھی چل ہی رہی تھی۔ عدالت کو ابھی فیصلہ نہیں سنانا تھا۔ ابھی کچھ اور اقدامات باقی تھے۔ لیکن یہ کیا ہوا؟

محمد مرسی 17 جون 2019 کو عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے عدالت سے کہا کہ ان کے سینے میں کچھ راز ہیں، کچھ حقائق ہیں جن تک وہ پہنچ گئے ہیں، اب وہ عدالت تک اور مصر کے عوام تک یہ سب کچھ پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے عدالت سے شکایت بھی کی کہ ان کے ساتھ جیل حکام کا رویہ بہت برا ہے۔ وہ ان کی جان کے درپے ہیں۔ ان کو خاموشی سے اور غیرمحسوس انداز میں قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان ابھی جاری تھا کہ وہ عدالت کے کمرے میں گر پڑے۔ معائنہ کیا گیا اور ان کو بے ہوش بتایا گیا۔ اس کے بعد ہوش مندوں کی اس دنیا میں وہ لوٹ کر نہیں آئے۔ بے ہوشی کے عالم میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا اور سب سے بڑی عدالت میں جا پہنچے۔

مرسی نے عدالت سے رہائی نہیں مانگی، کسی رعایت کی درخواست نہیں کی، رحم کی اپیل نہیں کی، کسی این آر او کا سوال نہیں کیا۔ حکم رانوں اور اقتدار کی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کیا۔ وہ جن اصولوں اور اقدار کی بات کرتے تھے، ان پر قائم رہے۔ قدرت مہربان ہوئی اور ان کی آزمائش کو سمیٹ کر سرخ روئی کا سامان کردیا۔ آدمی کی مٹی کم زور ہوتی ہے جلد ڈھے سکتی ہے، لیکن قدرت آدمی کو نوازنے پر آ جائے تو ساری طاقتیں ایک طرف دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔

تاریخ بڑی سفاکی سے عمل کرتی ہے۔ بعض اوقات بس ایک منٹ میں فیصلہ دے دیتی ہے، جیسے مرسی کا دے دیا۔ اب برس گزریں یا کہ صدیاں بیت جائیں، جرنل السیسی کا اقتدار ہزار برس قائم رہے، لیکن یہ طے ہے کہ تاریخ اسے فرعون کے طور ہی نہ صرف یاد رکھے گی بلکہ اس یاد کے ساتھ ہزیمت کے حوالے بھی جوڑ دے گی۔

اب سوچیے کہ تاریخ محمد مرسی کی موت کو کس عنوان سے یاد رکھے گی؟ کیا اسے کمرہ عدالت میں ماورائے عدالت قتل کہا جائے گا؟ اسے کام یاب سازش سمجھا جائے گا؟ یا پھر اقتدار کی راہ داریوں میں ایک آئیڈیالسٹ کی ناگزیر تقدیر؟ اسے کچھ بھی کہا جائے، لیکن یہ طے ہے کہ مرسی عزم، ارادے، اخلاص اور اصول پسندی کی مثال کے طور پر اپنے قومی حافظے میں دمکتے رہیں گے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں