109

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن(ورلڈ پوائنٹ) امریکا نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی موجود تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا بعدازاں دونوں رہنماؤں نے ون آن ون ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر، افغان امن عمل اور دیگر اہم امور پر بات چیت ہوئی ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی۔

مسئلہ کشمیر کیلیے کردار ادا کرسکوں تو خوشی ہوگی، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں بھارت اور افغانستان کے معاملے پر بات چیت ہوئی، امریکا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کا کردار ادا کرسکتا ہے طویل تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرسکوں تو مجھے خوشی ہوگی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی مسئلہ کشمیر پر مدد کے لیے کہا ہے۔

افغان مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے عمران خان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، ٹرمپ

ٹرمپ نے کہا کہ میں عمران خان کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات سے ہوگا اسی لیے افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد کم کررہے ہیں، پاکستان افغان امن عمل کے لیے ہماری کافی مدد کررہا ہے اور پاکستان افغان عمل میں کردار ادا کرکے لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہے۔

عمران خان پاکستان کے انتہائی مقبول وزیر اعظم ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے اہم تعلقات ہیں، پاکستان عظیم لوگوں کا عظیم ملک ہے، عمران خان پاکستان کے انتہائی مقبول وزیر اعظم ہیں اور میرے کئی اچھے دوستوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔

ٹرمپ کی قیادت میں امریکا بھارت اور پاکستان کو قریب لاسکتا ہے، عمران خان

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے دورہ امریکا کی دعوت ڈونلڈ ٹرمپ نے دی اور ان کے ساتھ انتہائی خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی، ملاقات میں پاک بھارت کشیدگی پر بات ہوئی، صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا بھارت اور پاکستان کو قریب لاسکتا ہے۔

امید ہے طالبان کو بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ کرسکوں گا، عمران خان

عمران خان نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اس کا حل صرف مذاکرات ہیں افغان جنگ سے لاکھوں لوگ متاثر ہوچکے ہیں لیکن ہم افغان امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، پاکستان نے خطے کے امن میں اہم کردار ادا کیا امید ہے کہ آنے والے دنوں میں طالبان کو بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ کرسکوں گا۔

قبل ازیں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وزیراعظم عمران خان کے وفد کے رکن کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے، آرمی چیف اجلاس کے بعد امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کا دورہ کریں گے۔ جہاں آرمی چیف امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع رچرڈ اسپینسر سے ملیں گے۔ اس کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور چیف آف اسٹاف جنرل مارک اے ملے سے بھی ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان دو روز قبل امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پہنچے تھے۔ اپنے دورے کے پہلے دن انہوں نے کئی بین الاقوامی شخصیات اور پاکستانی نژاد تاجر برادری سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی کے اسٹیڈیم کیپیٹل ایرینا ون میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب بھی کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں