131

روس سے معاہدے کا خاتمہ: امریکا، ایشیا میں نئے میزائل تعینات کرنے کیلئے بے تاب

واشنگٹن(ورلڈ پوائنٹ) پینٹاگون چیف نے کہا ہے امریکا ایشیا میں زمین سے فائر کیے جانے والے درمیانی درجے کے میزائل (نیو گراؤنڈ لانچڈ انٹرمیڈیٹ رینج میزائلز) تعینات کرنے کا خواہاں ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی یہ خواہش کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل ہی واشنگٹن نے روس کے ساتھ اسلحہ کنٹرول کے ایک تاریخی معاہدے کو باضابطہ طور پر ختم کیا تھا۔

اس بارے میں جب امریکی ڈیفنس سیکریٹری مارک اسپیر سے پوچھا گیا کہ اب واشنگٹن انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلر فورسز (آئی این ایف) معاہدے کی طرف سے پابند نہیں ہے تو آیا امریکا ایشیا میں درمیانے درجے کے روایتی ہتھیار رکھنے پر غور کررہا ہے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایسا کرنا چاہوں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی اس صلاحیت کو وہاں دیر سے تعینات کرنے کے بجائے جلدی ایسا کرنا چاہیں گے‘، اس معاملے میں ’میں کچھ مہینوں کو ترجیح دوں گا لیکن یہ چیزیں آپ کی امید سے زیادہ وقت لے سکتی ہیں‘۔

تاہم پینٹاگون کے نئے سربراہ نے یہ نہیں واضح کیا کہ امریکا کہاں ان ہتھیاروں کو تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے جمعہ کو باضابطہ طور پر روس کے ساتھ آئی این ایف معاہدے کو یہ الزام لگا کر ختم کردیا تھا کہ ماسکو کئی برسوں سے اس کی خلاف ورزی کر رہا، تاہم ماسکو نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

اس معاہدے سے علیحدگی کے چند گھنٹوں بعد ہی مارک اسپیر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا اس معاہدے کے تحت پابندی کے باعث پہلے سے رکی ہوئی تحقیق کو دوبارہ شروع کرے گا، جو بقول ان کے تیاری کے ’ابتدائی مراحل‘ میں ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’چونکہ اب ہم پیچھے ہٹ چکے ہیں تو اب روس کے ردعمل کو کنوینشنل اسٹرائک آپشن کے مشترکہ فورس بروڈر پورٹ فولیو کے حصے کے طور پر دیکھتے ہوئے محکمہ دفاع زمین سے مار کرنے والے ان روایتی میزائلوں کی تکمیل کو پوری طرح آگے بڑھائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’محکمہ دفاع اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا کیونکہ ہمارے قومی دفاع اور شراکت درانہ صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے قومی دفاعی حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں‘۔

امریکا کے روس کے ساتھ معاہدے کے خاتمے کے بعد اب امریکا اپنے درمیانی رینج، زمین سے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تیاری دوبارہ کرسکے گا۔

اس وقت امریکی فوج زمین سے مار کرنے والے کروز میزائل اور ایک بیلسٹک میزائل کا تجربے کرنے کا ارادہ کر رہی ہے جو پہلے آئی این ایف معاہدے کے تحت ممنوع تھا اور یہ تجربے رواں سال اگست سے نومبر کے درمیان ہوسکتے ہیں۔

پینٹاگون کے کچھ لوگوں کا اندازہ ہے کہ کم فاصلے کے کروز میزائل تقریباً 1 ہزار کلومیٹر کی رینج کا ہوگا، جس کا تجربہ اسی مہینے کیا جاسکتا ہے جبکہ 18 ماہ میں یہ تعیناتی کے لیے تیار ہوگا۔

اسی طرح اندازاً 3 سے 4 ہزار کلومیٹر رینج رکھنے والے بیلسٹک میزائل کی تعیناتی میں 5 سال یا اس سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے، تاہم یہ جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں