468

کاتالونیا انتخابات 2017 اور پاکستانی کمیونٹی کی اہمیت

ڈاکٹرقمرفاروق

کاتالونیا کے نئے انتخابات 21 دسمبر 2017 کوہو نے جا رہے ہیں۔ جس کی تیاری زور وشور سے جاری ہے۔ اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی فہرستیں تیار کر رہی ہیں۔ گزشتہ 2015 کے انتخابات میں کئی ایک پاکستانی ان فہرستوں میں اپنی جگہ بنانے میں کا میاب ہوئے تھے۔امسال کون سی سیاسی جماعت پاکستانیو ں کو اپنی فہرست میں جگہ دیتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہو گی کہ کیا پاکستانیو ں کی حیثیت کو بھی کوئی جماعت تسلیم کرے گی یا صرف آخری نمبروں میں جگہ دے کر خانہ پری کرے گی۔ یا پھر ہم بھی صرف فہرست میں نام آنے تک کا شوق رکھتے ہیں ۔یہ تو آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ کہ کوئی پارٹی اہمیت دیتی ہے یا صرف مذاق کرتی ہے۔کیونکہ اس وقت ہم بارسلونا میں کل آبادی کا 12فیصد ہیں جو بارسلونا میں سب سے بڑی کمیونٹی ہے۔
کاتالونیا 2015 کے عام انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی کاتالونیا نے 15نشستیں حاصل کیں۔2017کے انتخابات میں 17 نشستوں کی امید کی جارہی ہے جو ایک سروے میں بتایا گیا ہے۔اگر سروے غلط بھی ہو جائے اور پارٹی بڑی چھلانگ بھی لگائے تو 19 تک چلی جائے گی قوی امید ہے 2015والی ہی تاریخ دہرائے گی۔اسی طرح کپ کی 10نشتیں تھیں جو کم ہو کر 9 تک ہو جائیں گی۔پی پی کاتالونیا اپنی پہلے والی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے ۔جس نے 11 نشستیں حاصل کر رکھی ہیں نئے سروے میں بھی 11ہی حاصل کر رہی ہے۔جنت پر سی نے 60نشستیں حاصل کی تھیں جو اب نئے سروے کے مطابق 63 حاصل کر رہی ہے۔نئی سیاسی جماعت سیوتادانس 25 نشستوں کے ساتھ اپنی پہلے والی پوزیشن کو برقرار رکھے ہو ئے ہے۔
اگر کسی سیاسی جماعت میں پاکستانی کمیونٹی کا کوئی فرد انتخابی فہرست میں پہلی بار آتا ہے تو اسے داد دیں کہ اس نے محنت کی اور فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔فہرست میں نمبر چاہے کوئی بھی ہو ۔اور اگر کوئی فرد دوسری یا تیسری بار فہرست میں جگہ پا رہا ہو تو اس کا فہرست میں نمبر دیکھیں اور پارٹی کی گزشتہ انتخاب میں نشستیں دیکھیں اگر تو کامیاب نمبروں میں جگہ ملی ہے تو اس کی سیاسی خدمات کو دل کھول کر ناصرف داد دیں بلکہ اس کا ساتھ بھی دیں ۔اور اگر پھر بھی آخری نمبر میں ہی جگہ ملے تو سوچئے کہ کیا وجہ ہے۔کمیونٹی کہیں غلط کر رہی ہے ۔وہ سیاسی پارٹی زیادتی کر رہی ہے۔یا پھر ہم خود مذاق بن رہے ہیں ۔

میں اور میرا باطن
میں نے بہت سے ایسے کام کئے جن سے عوام کی ہمدردی حاصل کی ۔ میں شریف بن کر معاشرہ میں زندہ رہا ۔کسی پر تنقید نہیں کی کسی کو برا نہیں کہا۔کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہیں کی۔میری کہی ہوئی بات پر لوگ سر دھنتے بلکہ واہ واہ کہتے نہیں تھکتے۔میں سماجی پروگراموں میں بھی نہیں جاتا کہ کہیں مجھ پر کوئی چھاپ نا لگ جائے۔اس کے باوجود مجھے کبھی کبھی صفائی دینا پڑتی ہے۔کہ میرا یہ کام اس مقصد کے نہیں تھا ۔جبکہ اب فیس بک کا زمانہ ہے ۔صفائی دینے کی نوبت ہی نہیں آتی۔سب کچھ فیس بک پر عیاں ہے۔وہاں سے آپ کی دماغی حالت سے لے کر آپ کی عملی سوچ تک کو جانا جا سکتا ہے۔تو پھر صفائی کی بات کیوں کی جاتی ہے۔دراصل آپ اس بات کو صفائی کی چادر میں چھپا رہے ہوتے ہیں جو آپ کے باطن میں ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جو آپ کے من میں چھپا ہوتا ہے۔اگر ایسی بات نا ہو تو صفائی دینے کی نوبت ہی نا آئے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں