54

صلاح الدین پر موت سے قبل بہیمانہ تشدد کی تصدیق

لاہور(ورلڈ پوائنٹ) پنجاب میں پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے مبینہ اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین ایوبی کے پوسٹ مارٹم سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ملزم پر موت سے قبل بہیمانہ تشدد کیا گیا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر غلام ربانی نے ڈان کو بتایا کہ یہ رپورٹ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے مرتب کی اور اسے پیر کو پولیس کے سٹی اے ڈویژن میں جمع کرایا گیا تھا۔

صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جسم کے مختلف حصوں سے نمونے لیے گئے تھے، جن سے تشدد کے ثبوت ملے جبکہ صلاح الدین پھیپھڑوں کے مرض اور ہیپاٹائٹس کا بھی شکار تھے۔

ڈان کو موصول ہونے والی فرانزک رپورٹ کے مطابق جمع کرائے گئے نمونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم پر موت سے قبل تشدد کیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ دائیں کندھے اور بائیں ہاتھ پر شدید تشدد کے ثبوت ملے۔

ادھر محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زخموں کی نوعیت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزم کو موت سے قبل بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جسم کے اکثر حصوں پر خون جمع ہوا تھا، دائیں ہاتھ کے اوپری حصے اور پیٹ سے اوپر بائیں ہاتھ پر بھی تشدد کے نشان ملے ہیں۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی حتمی رپورٹ میں کہا گیا کہ فرانزک ٹوکسی کولوجی اور فرانزک ہسٹو پیتھولوجی رپورٹس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زخم موت سے قبل آئے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ممکنہ طور پر اسی کے نتیجے میں موت واقع ہوئی۔

واضح رہے کہ گوجرانوالہ کے رہائشی صلاح الدین ایوبی کو 31 اگست کو مبینہ طور پر اے ٹی ایم سے کارڈ چوری کے الزام میں رحیم یار خان سے گرفتار کیا تھا۔

ضلعی پولیس افسر کے ترجمان ذیشان رندھاوا نے کہا تھا کہ صلاح الدین ایوبی جب لاک اپ میں تھے اور عجیب حرکتیں کررہے تھے تو ‘اچانک ان کی طبیعت خراب’ ہوگئی اور بعدازاں ان کی موت واقع ہوئی۔

بعدازاں ملزم کے لواحقین کی جانب سے پولیس پر صلاح الدین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر دوران حراست قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

اس معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صلاح الدین ایوبی کی موت کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا اور صلاح الدین کے والد محمد افضال کی درخواست پر اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمود الحسن، تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفاعت علی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) مطلوب حسن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔

اس کے بعد انویسٹی گیشن سپرنٹنڈنٹ پولیس حبیب اللہ خان کو ڈی پی او آفس کا اضافی چارج دیا گیا تھا، تاہم متاثرہ شخص کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب سے شکایت کی تھی کہ متعلقہ افسر مبینہ طور پر کیس میں اثر انداز ہورہے، جس پر ان کا بھی تبادلہ کردیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں