80

نیا کشمیری بیانیہ… محمد فیصل سلہریا

کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم کرنا نہیں چاہتے، دوسرا جو ہمیں کرنے نہیں دیا جاتا۔ ایک جذباتی، جسے اپنوں کی بھرپور تائید حاصل ہوتی ہے مگر دنیا سے ڈر لگتا ہے۔ دوسرا خالصتاً غیر جذباتی، جو غیروں کے ہاں قبولیت تو پا لیتا ہے مگر یہ خودکشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ علیٰ ہذالقیاس۔

اب مقبوضہ جموں و کشمیر ہی کو لیجئے۔ اس مسئلے کے حل کے بھی دو ہی طریقے ہیں۔ ایک وہ جو ہم اختیار نہیں کرنا چاہتے، یعنی کشمیر کے متعلق روایتی سوچ میں تبدیلی۔ دوسرا طریقہ جو ہمیں کبھی اختیار نہیں کرنے دیا جائے گا، وہ ہے جنگ۔

یہی وہ جنگ ہے جس کےلیے جذباتی ماحول بناتے دیر نہیں لگے گی۔ پوری قوم اپنی مایہ ناز فوج کے کندھے سے کندھا ملا کر لائن آف کنٹرول جانے کےلیے تیار ہوجائے گی۔ اس راستے میں جیت ہی جیت ہے۔ اللہ کی راہ میں شہید یا کشمیر کی آزادی۔ مگر دنیا والوں کو کون سمجھائے؟ جن سے ہم نے قرض لے رکھا ہے، کسی سے ادھار تیل، کسی کے کرایہ کے خدمت گار ہیں تو کسی سے خدمت کے معاوضے کی امید۔ اور سب سے بڑھ کر کشمیر کی آزادی سے پہلے یہ بھی ثابت کرنا باقی ہے کہ ہم دہشتگردوں کی مالی سرپرستی نہیں کرتے۔

اللہ کی راہ میں سر کٹانے سے پہلے کس کس کھونٹی سے گردن چھڑائیں گے؟ غیر جذباتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر پر بھی بات چیت کا عندیہ دینا ہوگا۔ مگر اس سیاسی خودکشی کا یارا کس میں ہے؟ تیسرے فریق کی طرح تیسرا طریقہ بھی معرض وجود میں آنا محال ہے۔ مگر دو کے درمیان تصفیہ ہمیشہ تیسرا ہی کراتا ہے۔ ایک راستہ جس پر ہم چلنا نہیں چاہتے، دوسرے پر ہمیں چلنے نہیں دیا جاتا تو تیسرا ازخود وجود میں آئے گا۔ کیوں کہ راستوں کو ہم سے محبت ہے۔ مگر ان سے نہیں، جن کو چابی نہیں ملتی۔

شوہر نامدار کو دفتر سے تاخیر ہورہی ہے اور گاڑی کی چابی نہیں مل رہی، آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ بیگم باورچی خانہ میں بچوں کےلیے ناشتہ تیار کرتے ہوئے پوچھے جارہی ہے، فلاں جگہ دیکھ لیا؟ شوہر بتاتا ہے ہاں! دیکھ لیا مگر نہیں ملی۔ کچھ دیر گزرنے پر بیگم کو اچانک کچھ سوجھتا ہے اور وہ پوچھتی ہے آپ نے اپنے کوٹ کے اندر والی جیب چیک کی؟
شوہر: نہیں!
بیگم: کیوں؟
شوہر: اگر وہاں بھی نہ ملی… تو؟

ہم نے بھی حفظ ماتقدم کے طور پر اقوام متحدہ اور اس کی قراردادوں میں مسئلہ کشمیر کی کنجی تلاش کرنے پر اکتفا کر رکھا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے فرمایا ہے کہ لائن آف کنٹرول جانے سے پہلے مجھے اقوام متحدہ سے ہو آنے دو۔ مودی کے 5 اگست والے اقدام کے بعد ہمیں یہ امید اب ختم کردینی چاہیے کہ بھارت کو ہم اقوام متحدہ کے اکھاڑے میں چت کرلیں گے۔ یہ اکھاڑا کبھی نہیں سجے گا۔ اکھاڑا وہی ہے جہاں وزیراعظم صاحب گزشتہ جمعہ لائن آف کنٹرول جانے کا ارادہ باندھ رہے تھے۔ ہمیں آزاد جموں و کشمیر ہی کو سیاسی و سفارتی اکھاڑا بنا کر بھارت کا للکارنا ہے۔

اگر چابی ڈھونڈنے کی علت پوری کرنی ہے تو پھر ہمیں مفت مشورے دے کر آپ کو بدمزہ نہیں کرنا۔ اس کےلیے ہماری وزارت خارجہ ہی کافی ہے، جو باورچی خانہ میں مصروف خاتون خانہ کی طرح ہمیں تلاش بسیار میں مصروف رکھنے کا فن بخوبی جانتی ہے۔ خاتون نے تو کوٹ کی اندر والی جیب کی نشاندہی کردی تھی، مگر وزارت خارجہ یہ تکلف بھی نہیں کرے گی۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ قوم تاخیر کے بہانے تعطیل کی عادی ہے۔ ویسے بھی یہ فی الوقت وزارت خارجہ نہیں داخلہ کی ذمے داری ہے کہ وہ اکھاڑا سجائے۔ وزارت خارجہ کے للکارنے کا مرحلہ بعد میں آئے گا۔ آپ کو کچھ عجیب لگے تو یہ امر ملحوظ رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ موجودہ کھلواڑ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی وزارت کے بینر تلے جاری و ساری ہے۔ پہلوان کا وزن دیکھ کر مقابل پہلوان کو لایا جاتا ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 70 سالہ پوزیشن تبدیل کردی ہے۔ ہماری وزارت داخلہ کو بھی آزاد جموں و کشمیر پر بھارتی دعویٰ ختم کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے بعد اکھاڑا سج جائے گا۔ پھر ہماری وزارت خارجہ کی باری آئے گی۔ جو مطالبہ کرے گی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر پاکستانی دعویٰ ختم کرنے کےلیے وہی اقدامات کیے جائیں جو ہم نے آزاد جموں و کشمیر میں کیے ہیں۔ یہیں سے نیا کشمیری بیانیہ جنم لے گا۔

ہم اکھاڑے میں بھارت کو للکاریں، دنیا والوں سے کہیں کہ اس کو اکھاڑے میں لاؤ۔ بھارت کبھی نہیں آئے گا، لیکن ایک فضا ضرور بنے گی جس میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلا کر دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات اب ایسے ہوگئے ہیں کہ ہم اس کی مسلح مدد کریں۔ عالمی قانون ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے۔ یہ وہی قانون ہے جس کے تحت امریکا نے بوسنیا کی مدد کی تھی۔ امریکا کے اعمال نامہ میں شاید یہ واحد نیکی ہوگی جو اس کی بخشش کا باعث بن جائے۔ مگر ہم نے یہ راستہ اختیار نہ کیا تو یہ یقیناً وہ گناہ ہوگا جو ہماری گرفت کا باعث بنے گا۔

سو باتوں کی ایک بات… مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے میں ہمیں غیر روایتی ہونا پڑے گا۔ روایتی طریقوں سے آر ایس ایس کے غنڈے قابو نہیں آئیں گے۔ مسلح مدد اس دوسرے طریقہ کا متبادل ہے جو ہمیں اختیار نہیں کرنے دیا جائے گا، یعنی جنگ۔ اور بھارت سے بہتر کون جانتا ہے کہ اس مسلح مدد کا مطلب کیا ہے۔ اسی مسلح مدد کے ذریعے ریاست کا 35 فیصد حصہ آزاد ہوا، باقی 65 فیصد کےلیے بھی یہی طریقہ اپنانا ہوگا۔ تیسرا فریق نہ سہی، تیسرا راستہ ہی سہی۔ اب یہ نیا کشمیری بیانیہ ہونا چاہیے۔

نوٹ: ورلڈ پوائنٹ نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں