57

وزیر اعظم عمران خان مسلم امہ کے سال کے بہترین شخص قرار

وزیر اعظم عمران خان کو اردن کے خود مختار اور غیر سرکاری عالمی انسٹی ٹیوٹ رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر نے مسلم دنیا کا ‘سال کا بہترین شخص’ قرار دے دیا۔

‘دی مسلم 500’ پروجیکٹ کے چیف ایڈیٹر اور قاہرہ میں امریکی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے پروفیسر ایس عبداللہ شلیفر نے وزیر اعظم عمران خان کو سال کا بہترین شخص قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے پڑوسی ملک بھارت سے امن کی جستجو کی وجہ سے وہ اس اعزاز کے حق دار ہیں۔

پروفیسر عبداللہ شلیفر نے وزیر اعظم کے بطور کرکٹر کیریئر کو نمایاں کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر مسلم 500 کو 1992 میں شائع کیا جاتا اور میں اس وقت بھی چیف ایڈیٹر ہوتا تو میں عمران خان کو کرکٹ کی بہترین پرفارمنس پر مسلمانوں کا سال کا بہترین شخص نامزد کرتا جن کی وجہ سے پاکستان نے 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا’۔

وزیر اعظم کے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے لیے مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان کےکینسر کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ تحقیق کے لیے ہسپتال قائم کرنے کی فنڈ ریزنگ مہم نے میرے دل کو چھوا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘1985 میں کینسر کی وجہ سے اپنی والدہ کو کھونے کے بعد یہ عمران خان کا بہترین رد عمل تھا اور عمران کی خوش مزاج شخصیت کی وجہ سے ان کی پاکستان اور بیرون ممالک میں مقبولیت کی وجہ سے انہوں نے 1994 تک اتنے فنڈز اکٹھے کیے کہ شوکت خانم میموریل ہسپتال نے لاہور میں اپنے دروازے کھولے، جہاں 75 فیصد مریض اپنا مفت علاج کرواتے ہیں’۔

رپورٹ کے مصنف نے وزیر اعظم کی سیاسی جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ‘عمران خان 22 سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد کرپشن کے معاملے پر پاکستان کی عوامی سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے’۔

پروفیسر عبداللہ کا کہنا تھا کہ تاہم وزیر اعظم کے اپنے روایتی حریف بھارت سے دیرپا امن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے وہ اس اعزاز کے حق دار بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے اگست 2018 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد بھارت سے دیرپا امن کی اپنی ترجیح واضح کی تھی، وہ چاہتے تھے کہ تعلقات کشمیر کا تنازع حل کرتے ہوئے اور تجارت کے ذریعے بہتر ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور گزشتہ 3 جنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کا خاص خیال رکھنا تھا کہ بھارت کی آبادی، رقبہ اور اس کی فوج کو دیکھتے ہوئے جنگ پاکستان کو تباہی کی طرف لے جائے گی’۔

مصنف نے کہا کہ وزیر اعظم نے پہلی مرتبہ ٹی وی پر بیان میں صرف پاکستان کے عوام نہیں بلکہ دنیا، بالخصوص بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان، بھارت سے دیرپا امن چاہتا ہے اور اس کے لیے اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم 2 قدم آگے بڑھائیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے پہلے قدم کا انتظار نہیں کیا اور پاکستان اور بھارتی وزرائے خارجہ کی گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سائیڈ لائن میں ملاقات طے ہوئی تاہم بھارت نے اسے منسوخ کردیا اور اس مہینے عمران خان نے پہلی مرتبہ بھارتی وزیر اعظم کو 3 خط لکھ کر مذاکرات اور دیرپا امن کا مطالبہ کیا تاہم نریندر مودی نے ان کا جواب نہیں دیا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان نے مودی کے دوبارہ انتخابات جیتنے کے بعد بھی انہیں مبارک باد کا خط لکھا اور امید ظاہر کی کہ وہ مل کر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے کام کریں گے، ایک ماہ بعد عمران خان نے مودی کو دوبارہ خط لکھا تاہم دوبارہ مودی نے جواب دینے سے گریز کیا’۔

آخر میں مصنف نے کہا کہ ‘یہ عمران خان کے عظیم اقدامات ہیں، آپ ایسی قوم سے کیسے دیرپا امن حاصل کرسکتے ہیں جسے پاکستان سے امن میں کوئی دلچسپی نہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ عمران خان کی توجہ اب عالمی رائے کو یکجا کرتے ہوئے آر ایس ایس کی قیادت میں چلنے والے بھارت کو نیچا دکھانا ہے’۔

وزیر اعظم نے مسلم دنیا کے سب سے نمایاں شخصیت کا اعزاز حاصل کیا جبکہ ان کے ساتھ امریکا کی کانگریس ویمن راشدہ طلیب کو ادارے نے مسلم دنیا کی سال کی بہترین خاتون قرار دیا۔

قبل ازیں رواں سال وزیر اعظم کو ٹائم میگزین نے 2019 کی ‘100 سب سے بااثر شخصیات’ کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں