67

ترکی نے شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا

شام (ورلڈ پوائنٹ) ترکی نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا اور سرحد سے ملحق قصبے راس العین میں فضائی کارروائی کی گئی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔

ترکی نے شام میں فوجی آپریشن کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد کیا، جبکہ ٹرمپ کے فیصلے کو واشنگٹن میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اسی لیے ٹرمپ کے اچانک فیصلے کو واشنگٹن میں اپنے اتحادیوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔

ٹرمپ کے فیصلے کو کرد جنگجوؤں نے بھی ‘پیٹھ میں چھرا گونپنے’ کے مترادف قرار دیا تھا تاہم امریکی صدر نے اس تاثر کو رد کردیا تھا۔

فوجی کارروائی کے حوالے سے ترک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ شام میں فوجی آپریشن فضائی کارروائی سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں بری فوج کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔

ترک میڈیا کے مطابق راس العین میں بمباری کی گئی، طیاروں کے اڑنے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں اور عمارتوں سے دھواں اڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔

شام میں فوجی کارروائی کے تازہ سلسلے پر متعدد ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس سے خطے کے بحران میں اضافہ ہوگا، تاہم ترکی کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ لاکھوں مہاجرین کو شام واپس بھیجا جاسکے۔

دوسری جانب شام کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی کسی بھی جارحیت کا قانونی طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو دہشت گرد جو ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انسانی بحران کے خدشے کے پیش نظر تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ شمال مشرقی شام میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں