153

ترکی کا شام میں آپریشن ‘غلط فیصلہ’ ہے، ٹرمپ

واشنگٹن(ورلڈ پوائنٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ترکی کا شمالی شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو شام سے واپس بلالیا تھا جس کے بعد ترکی کو امریکا کے سابقہ اتحادی کرد جنگجوؤں پر حملہ کرنے کا موقع ملا تھا۔

فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سینیئر اراکین سمیت واشنگٹن کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ٹرمپ کے فیصلے کو کرد ملیشیاز کے ساتھ دھوکا قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کرد جنگجووں کے ساتھھ مل کر امریکی فورسز نے شام سے داعش کے خاتمے کے لیے لڑا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہ ‘واشنگٹن اس حملے کو قبول نہیں کرتا’۔

امریکی صدر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انسانی بحران کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دے گا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے’۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے داعش کے دوبارہ پروان چڑھنے کا موقع ملے گا۔

ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘ترکی نے شہریوں اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے اور اس کے علاوہ ترکی تمام داعش کے جنگجوؤں کو قید میں رکھنے تنظیم کو کسی بھی شکل میں دوبارہ قائم ہونے سے روکنے کا ذمہ دار ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ ترکی اپنے تمام وعدوں پر پورا اترے گا اور ہم صورتحال کا قریب سے جائزہ لیتے رہیں گے’۔

ان کا یہ بیان وائٹ ہاؤس کی جانب سے طویل عرصے سے معاملے پر ملے جلے تاثر ملنے کی کڑی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ترکی کے کرد کے خلاف اقدامات کی راہ میں نہیں کھڑے ہوں گے جبکہ اس ہی دوران اقدامات کرنے پر نیٹو کے اتحادی کو معاشی پابندیوں کی دھمکی بھی دی گئی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر ترکی نے کچھ بھی ایسا کیا جسے میں حد سے تجاوز کرنا سمجھتا ہوں، تو میں ترکی کی معیشت پوری طرح سے تباہ کردوں گا اور میں ایسا پہلے بھی کرچکا ہوں’۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کم تعداد میں مگر سیاسی طور پر نمایاں فوجیوں کو شام-ترک سرحد سے واپس بلانا ان کا مشرق وسطیٰ کے تنازع میں پھنسے امریکی فوجیوں کے انخلا کے منصوبے کا حصہ ہے۔

قبل ازیں انہوں نے کرد کو دھوکا دینے کے الزامات مسترد کیے اور کہا تھا کہ ‘ہم شام سے نکلنے کے مرحلے میں ہیں تاہم ہم کرد کو تنہا نہیں چھوڑ رہے جو بہت اہم لوگ ہیں اور بہترین جنگجو ہیں’۔

یاد رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے فوج کو کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔

شام میں فوجی کارروائی کے تازہ سلسلے پر متعدد ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس سے خطے کے بحران میں اضافہ ہوگا، تاہم ترکی کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ لاکھوں مہاجرین کو شام واپس بھیجا جاسکے۔

خیال رہے کہ ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو دہشت گرد جو ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں