99

بھارت میں ہندو اکثریت کا فریب… سید عاصم محمود

5 اگست 2019ء کی دوپہر بھارتی وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں بڑے طمطراق اور مغرورانہ انداز سے ریاست جموںو کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا۔

انہوں نے بڑے غرور سے بتایا کہ پچھلے ستر برس سے جو کام دوسرے حکمران نہیں کرسکتے تھے، وہ بی جے پی نے محض چند دن میں کر دکھایا۔ ہمارے پڑوس میں حکمران جماعت کو یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور ناجائز اقدام کرنے کی ہمت اسی لیے ہوئی کہ وہ بھارت میں ہندومت کے نام پر کروڑوں شہریوں کو اپنے پلیٹ فارم پر جمع کرچکی۔

اس کامیابی کے بل بوتے پر وہ بھارت کو ہندو ریاست (ہندو راشٹریہ)بنانا چاہتی ہے۔آرٹیکل 370 کا خاتمہ محض آغاز ہے، وہ بھارت کے آئین میں مزید تبدیلیاں انجام دے کر اس کی سیکولر ہئیت ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کرے گی۔اس موقع پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی بھارت میں ہندو اکثریت رکھتے ہیں؟ اکثر اہل وطن کہیں گے کہ یہ کیسا بچکانہ سوال ہے؟ ظاہر ہے، بھارت میں ہندومت کے پیروکار ہی سب سے زیادہ ہیں۔سچ مگر یہ ہے کہ بھارت میں ہندو اکثریت ’’نہیں‘‘ رکھتے۔ دراصل پچھلے ڈیڑھ سو برس کے دوران یہ جھوٹ نہایت عیاری و مکاری سے برہمن طبقے نے تخلیق کیا تاکہ وہ بھارت میں حکمرانی کرنے کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنا سکے۔
برہمن مت کا قیام

سچ کی تلاش میں ہمیں تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنا پڑے گا جہاں حقائق بکھرے ہیں۔ ماہرین اثریات کی رو سے برصغیر پاک و ہند کے اصل باسی براعظم افریقا سے آئے۔ دس پندرہ ہزار سال پہلے وادی دجلہ و فرات (عراق و شام) سے بھی کچھ گروہ یہاں آن بسے۔ افریقی مہاجرین کی اولاد نے وادی سندھ کی تہذیب کی بنا رکھی۔

جبکہ عرب مہاجرین نے بلوچستان میں اپنی بستیاں بسائیں جن میں ’’مہر گڑھ‘‘ مشہور ہے۔تین ہزار سال قبل وسطی ایشیا سے جنگجو قبائل ہندوستان آن پہنچے۔ تب تک طویل قحط نے وادی سندھ کی تہذیب کے شہراجاڑ کر رکھ دئیے تھے۔جنگجو قبائل نے انھیں مزید تخت و تاراج کیا اور وہاں کے باشندوں کو غلام بنالیا۔ ان شہروں کے بہت سے باسی جنوبی ہند ہجرت کرگئے۔

ان باسیوں کی اولاد آج ’’دراوڑ‘‘ کہلاتی ہے۔ بھارتی ریاستوں، تامل ناڈو، کیرالہ،کرناٹک ،آندھرا پردیش،اڑیسہ اور تلگانہ میں آباد بہت سے لوگ یہی دراوڑ ہیں۔وسطی ایشیا اور بعدازاں ایران سے آنے والے جنگجو قبائل نے شمالی ہندوستان میں نئے شہر بسائے اور وہاں اپنی تہذیب و ثقافت اور مذہب کو رواج دیا۔ دور جدید کے مورخین انہیں ’’آریا‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ آہستہ آہستہ آریاؤں کی سلطنت میں طبقاتی تقسیم وجود میں آگئی۔ حکمران خاندان کے افراد ’’برہمن‘‘ بن بیٹھے۔ فوج کے اعلیٰ افسر ’’کھشتری‘‘ کہلائے۔ تجار کو ’’ویش‘‘ کہا گیا۔ معمولی پیشوں سے وابستہ افراد ’’شودر‘‘ جبکہ مقامی لوگ (دراوڑ) ’’اچھوت‘‘ بن گئے۔

برہمنوں نے قصّے کہانیاں لکھیں اور مذہبی روایات پر مبنی تحریریں بھی۔ ان تحریروں سے وجود میں آنے والی کتب میں وید، اپنشد، سمرتی، (رامائن اور مہا بھارت وغیرہ) پران (بھگوت گیتا وغیرہ) شامل ہیں۔ ان تمام کتب کے لکھاری برہمن تھے۔ اسی لیے ان کتابوں میں جس مذہبی و سماجی نظام کے خدوخال ملتے ہیں، اس میں برہمنوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دیوی دیوتا، منتر، جاپ، بجھن، الاپ وغیرہ سبھی برہمنوں کے ایجاد کردہ ہیں۔ شمالی ہندوستان میں مردوزن کو مجبور کیا گیا کہ وہ حکمرانوں کے تخلیق کردہ اس نئے مذہبی و سماجی نظام کو اختیار کرلیں جسے ’’برہمن مت‘‘ کا نام دیا گیا۔

برہمن شودر اور اچھوت افراد کو نیچ سمجھتے تھے، اسی لیے انہیں الگ تھلگ کرنے کی خاطر قوانین بنائے گئے۔ حتیٰ کہ ان سے جانوروں جیسا سلوک ہونے لگا۔ ایک اچھوت کسی برہمن کا جسم بھی چھولیتا، تو اکثر اس جرم کی سزا موت کی صورت اسے ملتی۔ کتب تاریخ میں اچھوتوں پر برہمنوں کے ظلم و ستم کی داستانیں تفصیل سے لکھی ہیں۔

جب برہمن شمالی ہند میں قدم جماچکے تو اپنے مت کو مشرقی و جنوبی ہندوستان میں پھیلانے کی کوششیں کرنے لگے۔ اس زمانے میں ہندوستان کے یہ دونوں حصے چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھے۔ تاہم وہاں کا سماجی و مذہبی نظام برہمنوں کی طرح متعصب اور ذات پات کی لعنت سے آلودہ نہ تھا۔ بادشاہ غریب و نادار لوگوں کو اچھوت یا جانور سمجھنے کے بجائے ان کی مالی مدد کرتے اور انہیں انسان سمجھتے ۔ یہی وجہ ہے، مشرقی و مغربی ہندوستان کے باسیوں کو معتصب برہمن مت ایک آنکھ نہ بھایا۔جلد ہی وہاںکے دو شہزادوں، مہاویر اور گوتم بدھ نے برہمن مت کے خلاف سماجی و مذہبی تحریکیں برپا کردیں۔

انہوں نے جس مذہبی و سماجی نظام کی بنیاد رکھی، وہ بہرحال برہمن مت کی طرح متعصب اور نفرت انگیز نظریات پر مبنی نہ تھا۔ مہاویر کے نظریات سے ’’جین مت‘‘ وجود میں آیا۔ گوتم بدھ نے ’’بدھ مت‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان میں بدھ مت کو مقبولیت ملی۔228 قبل مسیح میں اشوک اعظم نے اسے مشرقی و مغربی ہی نہیں شمالی ہندوستان تک بھی پہنچا دیا۔

یوں اسی نئے مذہب نے برہمن مت کو چاروں شانے چت کر ڈالا۔شمالی ہندوستان میں بہرحال برہمن اپنے مذہبی و سماجی نظام کو محفوظ کرنے میں کامیاب رہے۔ البتہ بدھ مت کے زیر اثر وہ سبزی خور بن بیٹھے اور انہوں نے گوشت کھانا ترک کردیا۔ اب گائے ان میں مقدس و پوتر ہستی بلکہ دیوی سمجھی جانے لگی۔ برہمنوں کے اجداد مگر گوشت خور تھے۔ وہ مویشیوں کے علاوہ گھوڑوں کا گوشت بھی کھاتے تھے۔

اسلام کا فروغ

319ء میں گپتا خاندان شمالی ہندوستان میں برسراقتدار آیا۔ گپتا بادشاہ برہمنوں کی سرپرستی کرتے رہے چناں انہوں نے معاشرے میں دوبارہ اثر و رسوخ حاصل کرلیا۔ وہ پھر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اپنے مذہبی و سماجی نظام کی تبلیغ کرنے لگے۔ بعض افراد نے ان کا نظام قبول کرلیا۔ بہت سے ہندوستانیوں نے ان کی دیکھا دیکھی مقامی دیوی دیوتا تخلیق کرلیے۔ حتیٰ کہ گوتم بدھ کے مجسمے بنائے جانے لگے۔

یوں پورے ہندوستان میں بت پرستی کا رواج پڑگیا۔ہندوستان میں سینکڑوں اقوام آباد تھیں جو اپنے مخصوص مذہبی و سماجی نظام اور تہذیب و ثقافت رکھتیں۔ تاہم آہستہ آہستہ بت پرستی ان میں قدر مشترک بن گئی۔ لیکن سیاسی طور پر یہ اقوام انتشار اور عدم اتفاق کا شکار رہیں۔ یہی وجہ ہے، گپتا خاندان کی سلطنت ختم ہونے کے بعد ہندوستان مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔

اسی دوران مسلمان یہاں آپہنچے اور مذہبی و سماجی لحاظ سے ہندوستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔عرب مسلمانوں نے سندھ کو اپنا مسکن بنایا، تو بعدازاں افغان مسلمان شمالی ہند فتح کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے جلد مشرقی اور مغربی ہندوستان پر بھی اپنا تسلط جمالیا اور ایک بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مسلم صوفیا اور بزرگوں کی تبلیغ سے لاکھوں بت پرست مسلمان ہوگئے جن میں برہمن بھی شامل تھے۔

اسلامی تعلیمات نے ذات پات اور تعصب پر مبنی برہمن مت کو کاری ضرب لگائی اور اسے ماند کر ڈالا۔ لیکن برہمن مت ہندوستان سے مٹ نہ سکا۔ شمالی ہند میں خصوصاً شنکر اچاریہ اور اس کے دیگر مذہبی رہنماؤں نے اسے زندہ رکھا۔بیشتر مسلمان حکمران روادار اور غیر معتصب تھے۔ انہوں نے کسی بت پرست کو زبردستی مسلمان نہ بنایا۔

مقامی لوگوں کے مذہبی نظریات سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے ،ہندوستان میں ہمیشہ غیر مسلم آبادی کی ا کثریت رہی۔ مسلم حکمران چاہتے تو وہ غیر مسلموں کو بہ آسانی مسلمان بنا لیتے۔ زمانہ قدیم میں رواج تھا کہ حکمران خاندان جو مذہب اختیار کرتا‘ رعایا بھی اسی کو بخوشی اپنا لیتی ۔ لیکن یہ ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کی انصاف پسندی اور رواداری ہے کہ انہوں نے کبھی غیر مسلموں کو زبردستی مسلمان بنانے کی مہم نہیں چلائی۔ سچ یہ ہے کہ انہوںنے برہمنوں سمیت تمام بت ترستوں کو اپنی حکومتوں میں اعلیٰ عہدے دیئے ۔خصوصاً مغل حکمرانوں کے حکومتی انتظامی ڈھانچے میں برہمن کئی اہم عہدوں پر فائز تھے۔

انگریز نجات دہندہ بن گئے

اٹھارویں صدی میں انگریز تجارت کرنے ہند وستان پہنچے۔ تب مغل سلطنت زوال پذیر تھی۔ جلد ہی ماضی کی طرح ہندوستان کے مختلف علاقوں میں چھوٹی بڑی ریاستیں وجود میں آ گئیں۔وہ ہر وقت ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتیں۔ یہ دیکھ کر یورپی طاقتوں کا بھی جی للچانے لگا کہ وہ ہندوستان میں اپنی نو آبادیاں قائم کر لیں۔

چونکہ انگریز جدید اسلحہ ایجاد کر چکے تھے لہٰذا وہ ہندوستانی ریاستوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔1857ء تک ہندوستان کا بڑا رقبہ ان کے زیر نگیں آ گیا۔انگریزوں نے مسلم حکمرانوں سے ریاستیں چھینی تھیں‘ اسی لیے قدرتاً وہ مسلمانوں کو اپنا مشیر اور وزیر بنانے سے کتراتے ۔ انہوںنے جو حکومتی انتظامی ڈھانچا تشکیل دیا‘ اس میں غیر مسلموں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اسی نئے حکومتی نظام میں خصوصاً برہمنوں نے مرکزی حیثیت حاصل کر لی۔ وجہ یہ کہ وہ فارسی‘ عربی اور سنسکرت زبانوں کے ماہر تھے۔ پھر انہیں انتظامی امور کا بھی تجربہ تھا کہ مغل حکومت کے اہم ریاستی عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے برعکس انگریزوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اسی لیے کاروبار مملکت چلانے میں وہ غیر مسلموں خصوصاً برہمنوں کے محتاج بن گئے۔ یہی وجہ ہے،برہمنوں نے بہت جلد نئی حکومت میں اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ کئی صدیوں بعد انہیں حکومتی نظام میں دوبارہ طاقت ملی اور وہ ہندوستانی معاشرے میں پھر نمایاں ہونے لگے۔

برہمن طبقے کی اب سب سے بڑی تمنا یہ بن گئی کہ اس قوت اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھا جائے تاکہ وہ معاشرے میں طاقتور ترین گروہ کی حیثیت اختیار کر لیں۔غور و فکر کے بعد برہمن رہنماؤں پر القا ہوا کہ اگر وہ تمام بت پرستوں کو اپنے زیر قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع کر لیں تو نہ صرف وہ خود طاقتور ہوں گے بلکہ برہمن مت بھی ہندوستان کا سب سے بڑا مذہبی و سماجی گروہ بن جائے گا۔

اس طرح وہ بلا شرکت غیرے ہندوستان کے مالک و مختار بن بیٹھتے۔ اب یہ اہم سوال سامنے آیا کہ مختلف دیوی دیوتاؤں کو پوجنے‘ ایک دوسرے سے متضاد مذہبی رسم و رواج اور روایات رکھنے والی بت پرست اقوام کو برہمن مت کے جھنڈے تلے کس طرح جمع کیا جائے؟ بظاہر یہ ناممکن کام تھا کیونکہ تمام اقوام میں مذہبی ‘ معاشرتی‘ تہذیبی‘ معاشرتی اور جغرافیائی اختلافات موجود تھے۔ درحقیقت کئی گروہ ایک دوسرے سے اینٹ کتے کا بیر رکھتے ۔

مثال کے طور پر اٹھارہویں صدی کے اواخر تک شمالی ہندوستان میں وشنو اور شیو دیوتاؤں کے پیروکار بت پرستوں میں سب سے بڑے گروہ بن چکے تھے۔یہ پیروکار ہر وقت ایک دوسرے سے برسرپکار رہتے۔ بھارتی مورخین لکھتے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کی باہمی لڑائیوں میں اتنے زیادہ غیر مسلم مارے گئے کہ حملہ آوروں (یونانیوں ‘ ایرانیوں‘ عربوں وغیرہ ) کے حملوں میں بھی اتنے نہیں مرے تھے۔سوچ بچار کے بعد برہمن رہنماؤں نے اپنا منصوبہ کامیاب بنانے کی خاطر ایک حکمت عملی اپنا لی۔یہ حکمت دو بنیادی جزو رکھتی تھی۔

اول یہ کہ برہمن مت کی کتابیں ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کر کے پورے ہندوستان میں پھیلا دی جائیں۔ مقصد یہ تھا کہ بت پرستوں میں برہمن مت کے دیوی دیوتا (شیو‘ وشنو‘ رام‘ کرشن‘ برہما‘ ہنومان‘ سیتا وغیرہ ) مشہور ہو جائیں۔دوسری چال یہ چلی گئی کہ بت پرستوں کے مسائل ا ور مشکلات کا ذمے دار ’’ملیچھوں ‘‘ (مسلمانوں) کو قرار دیاجائے۔ بھرپور انداز میں یہ پروپیگنڈا کیا جائے کہ آٹھ سو سالہ دور حکومت میں مسلمانوں نے ہندوستان اور غیر مسلموں کو تباہ و برباد کر دیا۔ غیر مسلموں پر بے انتہا ظلم کیے‘ ان کی عبادت گاہیں مسمار کر دیں اور مقامی لوگوں کو اپنا غلام بنا لیا۔ چونکہ مسلمانوں نے غیر مسلموں پر بے انتہا مظالم کیے لہٰذا اب اکٹھے ہو کر ان سے بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔برہمن طبقے کی درج بالا منفی حکمت عملی کو انگریز آقاؤں نے بھی پسند کیا۔

پہلی وجہ یہ کہ اسی حکمت عملی میں انگریز کو ’’نجات دہندہ‘‘ دکھایا گیا کیونکہ اس نے معصوم غیر مسلموں کو ظالم مسلم حکمرانوں سے نجات دلوا دی۔ دوسری اوربڑی وجہ یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی لڑائی سے انگریزوں کو اپنی ’’پھوٹ ڈالواور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کامیاب ہوتی نظر آئی۔ ظاہر ہے‘ اگر مسلمان اور غیر مسلم آپس میں لڑ پڑتے تو ان سے کوئی تعرض نہ کرتا اور وہ آرام سے اقتدار کے مزے لوٹتے رہتے۔برہمن طبقے اور انگریزوں کی ملی بھگت سب سے پہلی بنگال میں دیکھنے کو ملی ۔

تب 1757ء میں برہمن بنیوں کی مدد سے انگریز نواب سراج الدولہ کی حکومت ہتھیانے میں کامیاب رہے۔یہ شراکت داری پھر بڑھتی چلی گئی۔ درج بالا حکمت عملی کامیاب بنانے کے لیے انگریزوں نے 1784ء میں کلکتہ میں ’’ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال ‘‘ نامی تنظیم قائم کر دی۔ اس تنظیم کے تحت برہمنوں کی مذہبی و ادبی کتب(وید‘ اپنشد‘ مہا بھارت‘ رامائن وغیرہ) جمع کر کے مختلف مقامی اور غیر ملکی زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا گیا۔ یہ ترجمے پھر اندرون اور بیرون ہندوستان پھیلا دیئے گئے۔ حتیٰ کہ ہندوستان کے قدیم مذاہب کا مطالعہ کرنے کی خاطر ایک نیا شعبہ‘ انڈولوجی وجود میں آ گیا۔رفتہ رفتہ انگریزوں کے ساتھ ساتھ جرمن اور فرانسیسی دانشور بھی ہندوستانی قدیم مذاہب پر تحقیق کرنے لگے۔ اسی تحقیق کا لب لباب یہ تھا کہ ہندوستان کے بت پرست متنوع مذہبی و معاشرتی نظریات کے باوجود برہمنوں کی کتب کو سب سے زیادہ مقدس مانتے ہیں۔ اسی لئے انہیں ایک مذہب کا پیروکار کہا جا سکتا ہے۔

نئے مذہب کی تخلیق

انڈولوجی کے یورپی ماہرین نے یوں زبردستی ہندوستان میں ایک نیا مذہب تخلیق کر ڈالا۔ یہ اقدام کرنے کی وجوہ بیان کی جا چکیں ۔ اس نئے مذہب کو انہوں نے ’’ہندومت‘‘ کا نام دیا۔ اس کے پیروکار ’’ہندو‘‘ کہلانے لگے۔ دلچسپ بات یہ کہ ہندو مذہبی نہیں جغرافیائی اصطلاح ہے۔

ہزاروں سال پہلے بیرونی اقوام نے دریائے سندھ کے پار بسنے والے ہندوستانیوں کو ’’سندھو‘‘ کہہ کر پکارا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لفظ ’’ہندو‘‘ بن گیا۔ اب انگریز و دیگر یورپی دانشوروں نے اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر ہندوستان میں بستے سبھی بت پرستوں کو ’’ہندو‘‘ کہہ ڈالا۔1817ء میں برطانوی مورخ‘ جیمز مل نے ہندوستان کی تاریخ مرتب کی۔ اس تاریخ میں حکمت عملی کے تحت مسلم حکمرانوں کو ’’لٹیرا‘ اور ’’ظالم‘‘ قرار دیا گیا۔ ہندو مظلوم اور پسماندہ دکھائے گے۔ لیکن اب برہمن انہیں دوبارہ خوشحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے تھے۔ انگریز حکومت کے دیگر تنخواہ دار مورخین مثلاً چارلس ولکنز‘ کولسن میکنز ے‘ ہنری تھامس کول‘ میکس میولر وغیرہ اس نظریے کی شدو مد سے تبلیغ کرنے لگے۔

1828ء میں بنگال کے ایک برہمن رہنما، راجا رام موہن رائے نے ’’برہمو سماج‘‘ نامی تنظیم قائم کی ۔ بظاہرتنظیم کا مقصد بت پرستوں یعنی ہندووں میں پھیلی توہمات اور فرسودہ روایات کا خاتمہ کرنا تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ برہمن مت کی مذہبی کتب اور نظریات بنگالی غیر مسلم عوام میں پھیلادیئے جائیں۔

اسے دوران دیگر برہمن رہنما مختلف علاقوں میں بت پرستوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ وہ اس حکمت عملی سے انھیں ہندو بنا کر اپنے پلیٹ فارم پر لانا چاہتے تھے۔ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آباد بت پرست بھی دیکھ رہے تھے کہ مسلمان اب حکمران نہیں رہے اور ان کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ اس دوران مسلمانوں کے خلاف برہمنوں کے زہریلے پروپیگنڈے نے ان میں اشتعال پیدا کر دیا۔ بت پرستوں کے ناسمجھ دماغ یہی سمجھنے لگے کہ ان کی مشکلات کے ذمے دار سابق مسلمان حکمران ہیں۔ لہٰذا اب مسلمانوں سے انتقام لینے کا وقت آ پہنچا ۔برہمنوں کی منفی اور نفرت انگیز پالیسی نے آخر 1853ء میں ایودھیا قصبے میں عملی روپ دھار لیا۔ ا یودھیا میں دیوتا رام کی پوجا کرنے والی ایک تنظیم، نرموہی اکھاڑے کو نواب اودھ نے مندر بنانے کے لیے زمین دی تھی۔ یہ مندر اب ہنومان گڑھی کہلاتا ہے۔

1853ء میں نرموہی اکھاڑے کے یوگیوں نے قریب ہی واقع عید گاہ (قناتی مسجد) پر قبضہ کر لیا۔ یوں وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ایودھیا کے قریب فیض آباد شہر میں مسلمان کثیر تعداد میں آباد تھے۔ جب انہیں علم ہواکہ یوگیوں نے عید گاہ پر قبضہ کر لیا ہے تو قدرتاً ان میں اشتعال پھیل گیا۔

تبھی شہر کے ایک مذہبی رہنما‘ شاہ غلام حسین نے یوگیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ ایودھیا میں پھر مسلمانوں اور دیوتا رام کے پیروکاروں کے مابین کئی لڑائیاں ہوئیں۔ دور جدید کی اصطلاح میں یہ ہندوستان میں پہلا باقاعدہ ’’ہندو مسلم فساد‘‘ تھا ۔ آخری معرکے میں شاہ غلام حسین کے ایک ساتھی‘ مولوی امیر علی انگریز و اودھی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے کئی سو ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔اس فساد کی خصوصیت یہ ہے کہ جلد ہی نرموہی اکھاڑے کے یوگیوں نے دعویٰ کہ دیا کہ قریب ہی واقع بابری مسجد ایک مندر ڈھا کر تعمیر کی گئی۔ اور یہ کہ و ہ مندر رام دیوتا کی جائے پیدائش پر بنایا گیا ۔ اس دعویٰ کی بنیاد پر یوگیوں نے بابری مسجد کے سامنے ایک چبوترہ بنایا اور وہاں رام کی عبادت کرنے لگے۔ یوں ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔ سوا سو سال بعد اسی تنازع نے قوم پرست ہندوجماعتوں آر ایس ایس ار بی جے پی کو بھارت میں مقبول بنانے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا۔

مفادات کی جنگ

جیسا کہ بتایا گیا، بت پرستوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنا اور ان سے لڑوانا برہمنوں اور انگریزوں کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ اس طرح وہ اپنے مفادات پانا چاہتے تھے۔ اسی لیے انگریز انتظامیہ بظاہر فسادات کی روک تھام کرتی مگر اندرون خانہ ایسی چالیں چلی جاتیں کہ بت پرستوں اور مسلمانوں کے مابین تصادم بڑھتا چلا جائے۔ اسی تصادم نے بت پرستوں کو ہندومت کے پلیٹ فارم پر لانے اور برہمنوں کو اقتدار دلوانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انگریزوں کے تعاون سے برہمن غیر مسلم طبقے میں آقا اور رہنما کی حثیت اختیار کرگئے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دور جدید کے برہمن دعویٰ کرتے ہیں، ان کی مذہبی کتب ہزاروں سال پرانی ہیں۔ اسی لیے وہ ’’ہندومت‘‘ کو قدیم ترین مذہب قرار دیتے ہیں۔ لیکن شاطر برہمن یہ سچائی سامنے نہیں لاتے کہ ان کی مذہبی کتب کا قدیم ترین مخطوطہ تیرہویں صدی سے تعلق رکھتا ہے۔ گویا وہ صرف سات آٹھ سو سال پہلے لکھا گیا۔ وہ پھر کس بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندومت یعنی برہمن مت ہزاروں سال پرانا ہے؟ اس کے برعکس قرآن پاک حتیٰ کہ بائبل کے قدیم ترین مخطوطے کئی سو سال پہلے لکھے گئے اور آج تک محفوظ ہیں۔ مثلاً ’’مخطوطات صنعا ‘‘578ء تا 669ء کے دوران لکھے گئے جو خلفائے راشدین کا دور ہے۔اسی طرح توریت کے قدیم مخطوطے دو ہزار سال پرانے ہیں۔ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ سات آٹھ سو برس قبل ہی برہمن مت المعروف بہ ہندومت کو معین شکل دینے کا آغاز ہوا۔

1865ء میں آگرہ کے ایک برہمن لیڈر،شیو پرشاد نے یہ تحریک چلا دی کہ اردو نہیں ہندی کو سرکاری زبان بنایا جائے۔ 1875ء میں ایک انتہا پسند برہمن، دیانند سرسوتی نے ’’آریہ سماج‘‘ تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم نے سب سے پہلے ہندومت کی ترویج کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا۔ مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کی مہم (گھرواپسی) شروع کی ۔ گائے کاذبیح روکنے کی تحریک کا آغاز ہوا۔ سوامی سرسوتی نے اپنی کتب میں نبی کریم ﷺ اور حضرت عیسیٰؑ پررکیک الزامات لگائے۔ 1887ء میں برہمن ادیب، بنکم چٹرجی نے ناول ’’آنند متھ‘‘ تحریر کیا۔ اس میں بت پرستوں کو ’’ہندو‘‘ کا نام دے کر مسلمانوں کے خلاف لڑتا دکھایا گیا۔ بھارت کا قومی ترانہ، وندے ماترم اسی ناول کی ایک نظم سے ماخوذ ہے۔1885ء میں اعتدال پسند برہمنوں اور انگریزوں نے ’’کانگریس‘‘ جماعت کی بنیاد رکھی۔

اس طرح برہمنوں میں دو تحریکیں ایک ساتھ چل پڑیں، اگرچہ دونوں کا مقصد بت پرستوں کو ہندو بنانا تھا۔ آریہ سماج کے زیر اثر انتہا پسند اور قوم پرست برہمن رہنماؤں نے جنم لیا۔ وہ پورے ہندوستان کو ہندوریاست بنانا چاہتے تھے۔ ان رہنماؤں میں سوامی ویویکانند، بال گنگا دھرتلک، پنڈت مدن موہن مالویہ، دمودر ساورکر اور کیشو بلرام ہیڈگوار (آر ایس ایس کا بانی) نمایاں ہیں۔ کانگریس میں اعتدال پسند برہمن و کھشتری چھائے رہے جن میں گاندھی اور پنڈت نہرو مشہور ہوئے۔ ان دونوں تحریکوں کی وجہ سے بہرحال انیسویں صدی کے اواخر ہندوستان میں ’’ہندومت‘‘ اور ’’ہندو‘‘ کی اصطلاحوں نے جڑ پکڑلی۔

عالم فاضل مسلمان جانتے تھے کہ ہندوستان میں آباد بت پرستوں کی مختلف اقوام اپنی مخصوص مذہبی، معاشرتی و تہذیبی روایات رکھتی ہیں۔ انہیں ’’ہندو‘‘ کہہ کر پکارنا درست نہیں مگر برہمنوں کے پروپیگنڈے خصوصاً بت پرستوں اور مسلمانوں کے بڑھتے تصادم نے یہ اصطلاح مقبول بنادی۔ یوں برہمنوں و انگریزوں کا تخلیق کردہ نیا مذہب، ہندومت نشوونما پانے لگا۔ 1932ء میں اس کے خلاف ایک بڑی بغاوت ہوئی۔ اچھوتوں(دلتوں) کے رہنما، ڈاکٹر امبیدکر پارلیمنٹ میں اپنی قوم کے لیے علیحدہ نشستیں چاہتے تھے۔

اس پر گاندھی اور دیگر برہمن لیڈروں نے شور مچا دیا۔ اگر اچھوتوں کو الگ نشستیں ملتیں تو کروڑوں ہندوستانی ہندومت کی صف سے نکل جاتے۔ چناں چہ ڈاکٹر امبید کر پہ شدید دباؤ ڈال کر انہیں مطالبے سے دستبرار ہونے پر مجبور کیا گیا۔1939 تا 1945ء جاری رہنے والی جنگ عظیم دوم نے برطانیہ کو دیوالیہ کردیا۔ چناں چہ انگریز کو 1947ء میں ہندوستان بھارت اور پاکستان میں تقسیم کرنا پڑا۔ بھارت میں جلد ہی بت پرستوں کے ان معاشی، مذہبی اور معاشرتی اختلافات نے سر اٹھالیا جنہیں برہمن طبقے نے مسلمانوں کے خلاف فسادات کروا کر بڑی عیاری سے پس پشت ڈال دیا تھا۔ یہ اختلافات پھیلتے تو بھارت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا اور ماضی کی طرح وہ مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوسکتا تھا۔

چشم کشا اعداد وشمار

1941ء کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 39 کروڑ افراد آباد تھے۔ ان میں 64 فیصد ہندو، 24 فیصد مسلمان اور 6 فیصد سکھ و عیسائی بتائے گئے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان 64 فیصد ہندوؤں میں 70 فیصد آبادی شودر (نچلی ذاتوں)، اچھوت اور مختلف قبائل سے تعلق رکھتی تھی۔ گویا ہندوستان کی آبادی میں 27 کروڑ 30 لاکھ ہندو تھے تو ان میں 19 کروڑ 10 لاکھ شودر، اچھوت اور قبائلی نکلے۔ 25.5 فیصد یعنی 6 کروڑ 96 لاکھ ہندو کھشتری یا ویش تھے جبکہ ہندوستان کے غیر مسلموں میں برہمنوں کی تعداد صرف 4.5 فیصد یعنی ایک کروڑ 28 لاکھ تھی۔

گویا یہ 4.5 فیصد بقیہ 95.5 فیصد غیر مسلموں پر غلبہ پانے کی کوششوں میں لگے تھے۔ یہ برہمن دولت، مذہبی اثرورسوخ اور اپنی مکارانہ چالوں کے ذریعے بت پرستوں (ہندوؤں) کے سردار بن بیٹھے۔ ہندوستانی آبادی کی مذہبی تقسیم کم و بیش آج بھی یہی ہے۔ بھارت بننے کے بعد مگر جب شودروں، دلتوں اور قبائل کے رہنما اپنے حقوق حاصل کرنے کی خاطر سرگرم ہوئے تو برہمن حکمران طبقے نے انہیں مطمئن کرنے اور شانت رکھنے کی خاطر سرکاری ملازمتوں کا نصف کوٹہ (49.50 فیصد) دے ڈالا۔ مگر بڑی چالاکی سے بقیہ ملازمتیں برہمنوں، کھشتریوں اور ویشوں کے لیے مخصوص کردیں جو بھارتی آبادی کا محض 30 فیصد حصہ ہیں۔ برہمن حکمرانوں نے ایک کام یہ کیا کہ شودر ذاتوں کو ’’ادر بیک ورڈ کاسٹ‘‘کا نیا نام دیا۔ اچھوتوں کی ذاتیں ’’شیڈولڈ کاسٹس‘‘ کہلانے لگیں جبکہ مختلف قبائل کو ’’شیڈولڈ ٹرائبس‘‘ کہا گیا۔ برہمن، کھشتری اور ویش ’’جنرل کیٹگری‘‘ میں آگئے جسے اپر یا فارورڈ کلاس بھی کہا جاتا ہے۔

برہمن طبقے نے نصف ملازمتیں دے کر اپنی رعایا کو رجھا لیا تاکہ اپنے مذہب (ہندومت) کو زیادہ سے زیادہ طاقتور بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں مختلف چالیں چلی گئیں۔ مثلاً سردار پٹیل نے بھارتی آئین تشکیل دیتے ہوئے سکھوں اور جینوں کو بھی ہندوؤں کی صف میں شامل کردیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہندو اکثریت جنم لے سکے۔ کم پاکستانی جانتے ہیں کہ آج تک سکھ رہنماؤں نے بھارتی آئین کی دستاویز پر دستخط نہیں کیے کیونکہ ان کا مطالبہ ہے کہ سکھ مت کو علیحدہ مذہب قرار دیا جائے۔ برہمن طبقہ 1947ء سے یہ بات ٹال رہا ہے۔بھارت میں ہندوؤں کی جعلی اکثریت بنانے کے لیے برہمن طبقے نے معاشی ہتھیار استعمال کیا۔ تمام سیکرٹریوں اور وزرا کو حکم دیا گیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کو ہی سرکاری ملازمتیں دیں۔

لہٰذا رفتہ رفتہ لاکھوں بت پرست سرکاری ملازمت پانے کی خاطر ہندو بن گئے۔ اسی طرح نجی شعبہ بھی ہندوؤں ہی کو بیشتر ملازمتیں دیتا ہے۔ آج بھی بھارتی مسلمانوںکو اچھی سرکاری و نجی ملازمتیں بہت کم ملتی ہیں۔ وہ معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی لیے بھارتی مسلمانوں کی اکثریت پس ماندہ اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وکی پیڈیا میں ’’ادر بیک ورڈ کاسٹ‘‘ کے نام سے پیج بنا ہے۔ اس کی رو سے ادر بیک ورڈ کاسٹ اور جنرل کیٹگری میں مسلمان، سکھ اور عیسائی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔

دونوں کیٹگریوں میں چند مسلم ذاتیں شامل ہیں۔بھارت میں ہندو اکثریت پیدا کرنے کی خاطر حکمران برہمن طبقے نے ایک اور چال چلی۔ جب مردم شماری ہونے لگے تو متعلقہ اہل کار ادر بیک ورڈ کاسٹ اور شیڈولڈ کاسٹس سے تعلق رکھنے والوں کا مذہب فارم میں پنسل سے لکھتے ہیں۔ بعدازاں اسے مٹا کر وہاں ’’ہندومت‘‘ لکھا جاتا ہے۔ اس طرح پچھلے برس سے کروڑوں بت پرست سرکاری طور پر ہندو بنائے جاچکے۔ یہ بت پرست عموماً ناخواندہ ہوتے ہیں، اس لیے برہمن طبقے کی عیاری کو نہیں جان سکے۔برہمن طبقے نے جنوبی ہند کے لنگایت فرقے کو بھی زبردستی ہندومت کی صف میں شامل کرلیا۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ فرقہ برہمن مت کی اجارہ داری کے خلاف ہی تیرہویں صدی میں سامنے آیا۔ اس فرقے کے پیروکار ویدوں کو افسانہ کہتے اور کروڑوں دیوی دیوتاؤں کی عبادت نہیں کرتے۔ مگر مودی حکومت مسلسل لنگایت فرقے کو ہندو کہتی ہے۔ وجہ یہ کہ ان کے غیر ہندو ہونے سے ہندوؤں کی آبادی چھ کروڑ کم ہوجائے گی۔

آج بھارت کی آبادی ایک ارب چونتیس کروڑ ہے۔ اس میں کم از کم بیس کروڑ مسلمان ہیں۔ تین کروڑ عیسائی اور ڈھائی کروڑ سکھ ہیں۔ ایک کروڑ بدھ مت اور پچاس لاکھ جین مت کے پیروکار ہیں۔ ان اقلیتوں کی کل تعداد 27 کروڑ بنتی ہے۔ گویا بھارتی برہمن حکومت کے لحاظ سے بقیہ ایک ارب سات کروڑ افراد ہندو ہیں۔ لیکن بتایا جاچکا کہ اس ہندو آبادی میں برہمن، کھشتری اور ویش صرف 30 فیصد ہیں۔ بقیہ 70 فیصد آبادی شودر، اچھوت اور قبائلی بت پرستوں سے تعلق رکھتی ہے۔چلیے مان لیا کہ پچھلی ایک صدی میں شودر، اچھوت اور قبائلی آبادی میں سے نصف ہندو بن چکی۔

انہوں نے اپنے دیوی دیوتا اور مذہبی و سماجی روایات ترک کرکے برہمن مت المعروف بہ ہندومت اختیار کرلیا۔تب بھی برہمن حکمران بھارت میں ہندو اکثریت ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ درج بالا اعدادو شمار کی رو سے بھارت میں شودر، اچھوت اور قبائل کی آبادی 93 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ ہم فرض کرچکے کہ ان میں سے نصف یعنی 46 کروڑ 90 لاکھ بت پرستوں نے اب بھی برہمن مت کو قبول نہیں کیا۔ جب ان کی تعداد اقلیتی آبادی میں ملائی جائے، تو اس کے مطابق بھارت میں 71 کروڑ 90 لاکھ غیر ہندو آباد ہیں۔ ہندوؤں کی آبادی 60 کروڑ 90 لاکھ بنتی ہے۔ پھر مودی حکومت کس منہ سے دعویٰ کرتی ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی اکثریت ہے؟ سچ یہ ہے کہ باقاعدگی سے پوجا پاٹ کرنے والے ہندو چند کروڑ ہی ہوں گے۔ ان میں بھی سادھو، یوگی، پنڈت وغیرہ بکثرت ہیں۔

برہمن طبقے نے دراصل بھارت میں میڈیا پر قبضہ کررکھا ہے۔ بھارتی ٹی وی نیٹ ورکس، اخبارات اور رسائل پر برہمن، کھشتری یا ویش چھائے ہوئے ہیں۔ چناں چہ یہ میڈیا مسلسل پروپیگنڈا کرتا ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ مودی حکومت میں تو یہ پروپیگنڈا زور شور سے ہونے لگا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے قدرتی وسائل پر پانچ چھ فیصد برہمن و کھشتری قابض ہیں۔ جبکہ کروڑوں شودر، اچھوت اور قبائلی غربت و لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر سال سینکڑوں بھارتی غربت کے مارے خودکشیاں کرلیتے ہیں۔

لیکن بے بس اور ناخواندہ ہونے کے سبب وہ احتجاج نہیں کرپاتے۔ماضی میں بھارت کئی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اسی تقسیم کے باعث برہمن طبقہ ہندوستان کے وسائل پر قبضہ نہیں کرسکا تھا۔ اگر شودر، اچھوت اور قبائلی بھی ملکی وسائل سے برابر کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیںاپنی ریاستیں تشکیل دینا ہوں گی۔ اس کے بعد ہی وہ ترقی و خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں گے۔ اگر ایسا نہ ہواتو ان کے آنے والی نسلیں بھی برہمن و کھشتریوں کی غلام بنی رہیں گی۔برہمن طبقے اور آر ایس ایس کا ایجنٹ،نریندر مودی اسی ڈراؤنے خواب کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔2014ء سے وہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے پر شد ومد سے عمل پیرا ہے تاکہ برہمنوں کے اقتدار کو دوام مل جائے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں