89

’’کشمیر بھارتی فوج کے لیے ویت نام بن جائے گا‘‘… سید عاصم محمود

ممتاز چینی فلسفی، کنفیوشس نے دانش مندی، رحم دلی اور بہادری کو ایک عمدہ انسان کی تین بنیادی خصوصیات قرار دیا تھا۔

تاریخ انسانی سے عیاں ہے کہ صرف دلیر و بہادر رہنما ہی ظلم اور ظالم کے سامنے کھڑے ہوئے اور سچ و حق کا پرچم سربلند کیا۔ ہر دور میں ایسے ہی رہنما خیر و سچائی کی شمع روشن رکھتے ہیں۔

آج بھارت میں نفرت و تعصب کے پرچارک ہندو لیڈروں کا راج ہے۔ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار (انتہا پسند ہندو جماعتوں) کے نظریات پر تنقید کرنے والے ’’غدار‘‘ اور ’’دشمن‘‘ کہلاتے ہیں۔ آزادی رائے کا گلا گھونٹا جاچکا۔ شدید گھٹن کے باوجود بعض رہنما ڈنکے کی چوٹ پر حق بات کہتے اور ہندو قوم پرستوں کی منفی سرگرمیوں پر گرفت کرتے ہیں۔بہتر سالہ جسٹس (ر) مرکنڈے کاٹجو کا شمار بھی انہی گنے چنے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
جسٹس (ر) مرکنڈے کا تعلق کشمیری پنڈت خاندان سے ہے۔والد اور دادا بھی وکیل تھے۔ پانچ سال (2006ء تا 2011ء )بھارتی سپریم کورٹ کے جج اور تین سال پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین رہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بھارتی معاشرے میں قانون و انصاف کا بول بالا ہو جائے۔ ذاتی طور پر سیکولر ہیں۔ اسی باعث ایک زمانے میں انہیں دو قومی نظریہ ناپسند تھا۔ مگر جب 2014ء کے بعد بھارت کو ہندو قوم پسندی بلکہ انتہا پسندی نے اپنی لپیٹ میں لیا، تو دو قومی نظریے کی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔ جسٹس (ر) مرکنڈے وقتاً فوقتاً میڈیا کو انٹرویو دیتے ہیں۔ ان کے سینکڑوں انٹرویوز سے چیدہ اور فکر انگیز سوالات و جوابات کا انتخاب نذر قارئین ہے۔

سوال:مودی حکومت نے آرٹیکل 370 تقریباً ختم کرکے ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنادیا۔ آپ اس اقدام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: یہ فیصلہ کرتے ہوئے کشمیریوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب کشمیر میں بھارتی حکوعمت کے خلاف مسلح جدوجہد بڑھے گی۔ ممکن ہے کہ وہاں ویت نام کی طرح بھارت کے خلاف گوریلا جنگ شروع ہوجائے۔ گوریلا جنگ اسی وقت کامیاب ثابت ہوتی ہے جب عوام چھاپہ مار گروہوں کے حامی بن جا ئیں۔ بھارتی حکمرانوں کی بیوقوفی کے باعث وادی کشمیر میں بستے کشمیریوں کی اکثریت بھارت مخالف بن چکی۔ اب وہ ہمیں پسند نہیں کرتے۔ مودی حکومت کے اقدامات سے اب وہ کشمیری بھی مسلح جدوجہد میں شامل ہو سکتے ہیں جو پہلے اس پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ انہیں اسلحے کی عالمی منڈی سے ہر قسم کا اسلحہ مل سکتا ہے۔

گوریلا جنگ لڑنے والوں کا بنیادی ہتھیار اچانک اور غیر متوقع حملہ کرنا ہے۔ وہ یہ طے کرتے ہیں کہ کب ،کہاں اور کیسے حملہ کرنا ہے۔ ’’حملہ کرو‘ بھاگ جاؤ‘‘ اور ’’آسان نشانوں پر حملہ کرو‘ مشکل چھوڑ دو‘‘ ان کی روایتی حکمت عملی ہے۔اب یہ ہو گا کہ کشمیری گوریلے ان تمام کشمیریوں کو غدار قرار دے کر ختم کر سکتے ہیں جو بھارتی حکومت کے طرف دار ہوں۔

ویت نام میں ایسا ہی ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ جموں و کشمیر پولیس میں شامل کشمیری ان کا پہلا ٹارگٹ بن جائیں۔ ان کے بعد بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز سے چھاپہ ماروں کا مقابلہ ہو گا۔کشمیری گوریلے پھر بھارتی فوجی قافلوں پر حملے کریں لگے۔ چھوٹی فوجی چوکیاں ان کا نشانہ بنیں گئیں۔ یہ صورت حال بھارتی افواج کو خاصا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ شہد کی ایک مکھی کاٹنے سے زیادہ تکلیف نہیںہوتی‘ مگر جب پورے چھتے کی مکھیاں حملہ آور ہو جائیں تو وہ کسی کی جان بھی لے سکتی ہیں۔

گوریلا جنگ متحارب فوج پر منفی نفسیاتی اثرات بھی مرتب کرتی ہے۔ ہمارے جوانوں کو کشمیری گوریلوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ہر وقت چوکنا رہنا ہو گا۔ایک جوان کو آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر گوریلوں کی کارروائیاں انہیں اس آرام سے محروم کر سکتی ہیں۔ امریکاکی جنگ آزادی‘ نپولین بونا پارٹ کی روس سے واپسی‘ چین کی جنگ آزادی اور ویت نام جنگ میں بھی گوریلوں کا یہ خاص حربہ تھا کہ وہ رات کو یا غیر متوقع وقت دشمن پر حملے کرتے ۔

اس طرح پوری فوج حملوں کے نفسیاتی خوف میں مبتلا رہتی ہے اور جوان سکون سے نیند نہ لے پاتے۔آرام و سکون سے محروم ہو کر بیشتر فوجی متشدد اور غصیلے بن جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھارتی فوجی کشمیری عوام پر مزید ظلم و تشدد کریں گے۔ مگر اس کے ردعمل میں مزید کشمیری مسلح جدوجہد کا حصہ بن جائیں گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک فوج دوسری فوج کا مقابلہ کر سکتی ہے لیکن وہ عوامی مسلح دستوں سے کبھی جنگ نہیں لڑ پاتی۔ ایک شیر ہاتھی کو بھی گرا لے گا مگر وہ مچھروں کے غول کے سامنے نہیں ٹھہر پاتا۔

روایتی جنگ میںہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کہاں ہے۔ گوریلا جنگ میں گوریلے ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انہیں ڈھونڈنا آٹے میں نمک تلاش کرنے کے متراف ہے۔ یہ گوریلے تب سائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ روایتی جنگ میں دشمن وردی پہنے ہوتاہے۔ گوریلا جنگ میں چھاپا مار شہریوں میں گھل مل جاتے ہیں۔

جیسا کہ ویت نام میں امریکی فوجیوں کے ساتھ ہوا کہ وہ شہریوں اور گوریلوں میں کوئی تمیز ہی نہ کر پاتے۔اسی صورت حال میں کشمیر میں بھارتی فوجیوں کو جس کشمیری پر گوریلا ہونے کا شبہ ہوا‘ وہ اسے گولی مار دیں گے۔ مگر وہ عام شہری بھی ہو سکتا ہے۔ ایسا قتل عام وادی میں بھارت کے خلاف جذبات شدید تر کر دے گا۔ چنانچہ گوریلوں کی تعداد بڑھے گی اور وادی میں بھارتی فوج کو بہت جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ عین ممکن ہے کہ جیسے امریکی افواج کو ویت نام سے ذلت اٹھا کر نکلنا پڑا تھا‘ اسی طرح بھارتی افواج بھی کشمیر میں خوار ہو کر رہ جائیں۔

سوال: لیکن مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے اقدام سے ریاست جموں و کشمیر ترقی کرے گی اور وہاں خوشحالی آئے گی؟

جواب: جس علاقے میں گولیاں چل رہی ہوں، وہاں کون سرمایہ لگائے گا؟ میں حکومت کے اس دعویٰ سے اتفاق نہیں کرتا کہ اب ریاست ترقی کرے گی۔ مسلح تحریک جنم لینے سے تو وہاں حالات مزید خراب ہوں گے۔ ستر سال گزر جانے کے باوجود ہمارے حکمران کشمیریوں کا دل نہیں جیت سکے بلکہ ان کی سخت مزاجی سے کشمیری عوام بھارت کے مخالف بن چکے۔کشمیری ہونے کے ناتے میں نے کشمیریوں پر کیے جانے والے ظلم و ستم کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر کشمیری عوام سمجھتے ہیں کہ آزاد ہونے کے بعد وہاں غربت و جہالت پر قابو پالیں گے اور ان کا معیار زندگی بلند ہوگا، تو بھارتی حکومت کو انہیں آزادی دے دینی چاہیے۔

سوال: مودی حکومت کے متنازع اقدامات سے وقتاً فوقتاً برصغیر پر جنگ کے بادل منڈلانے لگتے ہیں۔ یہ کیا معاملہ ہے؟

جواب: ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ اگر بھارتی افواج نے اس پر حملہ کیا، تو بھارت کو بھی زبردست نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہمیں یہ سچائی تسلیم کرلینی چاہیے کہ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت بھارت کے خلاف ہوچکی۔ اب مسلح تنظیموں کو زیادہ کشمیری عوام کی حمایت حاصل ہوگی۔ اس طرز فکر کو بھارتی حکمرانوں نے خود جنم دیا ۔

سوال:کہا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی بھارتی آئین کی سیکولر ہیئت ختم کرنا چاہتی ہیں۔ یہ بات درست ہے؟

جواب: ہندو قوم پرستوں کی تو منزل ہی یہ ہے کہ بھارت میں ہندو راشٹریہ قائم کر دی جائے۔ لہٰذا سیکولر آئین ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ لیکن انہوںنے بھارتی آئین سے چھیڑ چھاڑ کی تو بھارت میں مزید علیحدگی پسند تحریکیں جنم لیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ بھارتی آئین ہی نے مختلف بھارتی ریاستوں کو متحد کر کے وفاق کی صورت ملا رکھا ہے۔

بھارت میں مختلف ذاتوں ‘ نسلوں ‘ مذاہب ‘ زبانوں اور تہذیب و ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ان کے رسم و رواج اور روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر بھارتی آئین کی بدولت ان میں اتحاد پیدا کر دیا گیا تاکہ شہری خاص طور پر معاشی ترقی کر سکیں اور خوشحال ہو جائیں۔ اس کے باوجود ہر ریاست میں مخصوص ریاستی طرز حکومت بھی قائم ہے۔ ریاستی حکومتیں انہی پر عمل کرتے ہوئے اپنی اپنی ریاست کا انتظام سنبھالتی ہیں۔ بھارتی آئین کے 245تا248 آرٹیکلز میں بتایا گیا کہ وفاق اور ریاستوں کادائرہ کار کیا ہے اور انہیں کس قسم کی ذمہ داریاں انجام دینی ہیں۔

گویا بھارتی آئین کے ذریعے سبھی ریاستوں کو ایک طرح کی خود مختاری بھی دی گئی۔ اگر آر ایس ایس اور بی جے پی نے یہ خود مختاری کم یا ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی تو کئی ریاستوں کے مقامی گروہوں میں غم و غصّہ جنم لے گا۔ انہیں بجا طور پر یہ احساس ہو گا کہ وفاق انہیں اپنا تابع و غلام بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ ایسی نازک صورت حال میں کئی ریاستوں مثلاً تامل ناڈو‘ پنجاب‘ ناگا لینڈ‘ گوا وغیرہ میں علیحدگی کی تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔مختلف ذاتوں‘ نسلوں ‘ مذاہب ‘زبانوں وغیرہ باشندوں میں اتحاد پیدا کر دینا بھارتی آئین کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ اسی لیے بھارتی آئین کا خمیر سیکولرازم سے بنا ہے۔ اگر اسی بنیاد پر ہی وار کیا گیا تو بھارت کی شکست و ریخت کا آغاز ہو سکتا ہے۔

سوال:آپ پارلیمانی جمہوریت پر اکثر تنقید کرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: پارلیمانی جمہوریت انگریزوں کی ایجاد ہے۔ یہ خوبیاں رکھتی ہے اور خامیاں بھی مگر یہ بھارت میں کامیاب ثابت نہیں ہو سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں عوام کی اکثریت جس طرف ہو جائے‘ وہی طاقتور اور حکمران مانا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں عوام کی اکثریت جاہل اور جذباتی ہے۔ وہ عقل و دانش نہیں جذبات یا مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ اسی لیے غنڈے موالی حتیٰ کہ زانی تک روپے پیسے اور اثرو رسوخ کی بنا پر پارلیمنٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔

ماضی کے یورپ اور امریکا میں بھی عوام کی اکثریت ناخواندہ اور توہمات کی اسیر تھی۔ مثلاً فلکیات داں کو پرنیکس نے بتایا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو پوپ سے لے کر عوام تک سبھی نے اس کا مذاق اڑایا۔ پادریوں نے تو گلیلو کوعدالت میں گھسیٹ لیا تھا۔ تب یہ نظریہ عام تھا کہ زمین نظام شمسی کا مرکز ہے۔ گلیلو کی جان بڑی مشکل سے بچی ورنہ لوگ تو اسے آگ میں جلا کر مارنے کے در پے تھے۔ اسی طرح امریکا کی ابتدائی تاریخ میں ایسے لوگ بھی اہم حکومتی عہدے حتیٰ کہ صدر بننے تک کامیاب رہے جو اخلاقی یا مالی طور پر کرپٹ تھے۔

ماضی میں جو برا حال یورپی معاشروں کا تھا‘ بھارتی معاشرہ بھی اسی کا شکار ہے۔ عام لوگ متعصب ‘ تنگ دل‘ ہم اقسام کی توہمات میں مبتلا اور فرسودہ روایات اپنائے ہوئے ہیں۔ جب الیکشن آئیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا امیدوار ایماندار ‘ باصلاحیت اور با عمل ہے؟ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا امیدوار انہیں کسی قسم کے فائدے پہنچا سکتا ہے۔

اور وہ کس مذہب اور نسلی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے بیشتر سیاست داں بھی خود غرض اور اپنی خواہشات کے اسیر ہیں۔ وہ عوام کی خدمت کرنے اور ملک و قوم کو ترقی دینے نہیں پیسہ کمانے سیاست میں آتے ہیں۔ اس لیے بھارت میں پارلیمانی سیاست مذاق بن کر رہ گئی۔ اس نے یہاں ایک ایسا چالاک و عیار امیر طبقہ پیدا کر دیا جو بیشتر قومی وسائل پر قابض ہے۔ عوام کو مونگ پھلی دے کر مطمئن رکھا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت میں صدارتی طرز حکومت زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ ایسا صدر برسراقتدار آئے جو عوام دوست‘ دیانت دار اور باصلایت ہو تبھی حکمرانی کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں گے۔

سوال: بھارت میں معاشی بحران جنم لے چکا۔ اس کے سامنے آنے کی کیا وجوہ ہیں؟

جواب: 2014ء میں نریندر مودی بڑے دھوم دھڑکے سے یہ دعویٰ کرتے اقتدار میں آئے تھے کہ وہ ملکی معیشت اور حکومتی نظام ٹھیک کردیں گے۔ لیکن پچھلے پانچ برس کے دوران وہ کوئی کارنامہ نہیں دکھلا سکے۔ معاشی ترقی بھی بنیادی طور پر تیل کی قیمت کم ہونے سے انجام پائی لیکن اس ترقی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے۔ وہ آج بھی غربت، بھوک اور جہالت کا شکار ہیں۔ ایسی معاشی ترقی کا کیا فائدہ جو صرف پہلے سے مال و دولت رکھنے والے چند لاکھ بھارتیوں ہی کو فائدہ پہنچائے؟میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا حکومتی نظام کرپٹ ہوچکا۔ ہمارے سیاست داں دراصل غنڈے ہیں۔ انہیں پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے۔ یہ ملک سے کوئی الفت یا لگاؤ نہیں رکھتے۔ سچ یہ ہے کہ ان کے مفادات تو ملک کے مفادات سے متصادم ہیں۔

آج ہمارے سیاست دانوں کا بنیادی مقصد زندگی یہ بن چکا کہ کسی نہ کسی طرح الیکشن جیت لیا جائے۔ الیکشن میں جیت کی خاطر ہی آر ایس ایس، بی جے پی اور دیگر متعصب جماعتوں نے مذہب اور ذات پات کے نظام کو اپنا ہتھیار بنالیا۔ انہوں نے بھارتی معاشرے کو مذہبی، نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کر ڈالا۔ماضی میں ذات پات کا نظام اور رجعت پسندانہ مذہبی روایات جاگیرداروں کے ہتھیار تھے۔

ان کے ذریعے وہ اپنی جاگیروں میں اپنا اثرورسوخ بحال رکھتے تھے۔ لیکن ملکی مفاد متقاضی ہے کہ جاگیردارانہ نظام کے ہتھیار ملیامیٹ کردیئے جائیں تاکہ ملک و قوم ترقی کرسکیں۔ لیکن دور جدید کے بیشتر سیاست داں اسی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے جاگیردارانہ نظام کے طور طریق اپنا رکھے ہیں۔ اسی لیے وہ یہ نظام ہرگز ختم نہیں کرنا چاہتے۔ مجھے یہ بتائیے کہ جب چار پانچ سو سیاست داں ایک مملکت کو یرغمال بنالیں، تو وہ کیونکر ترقی کرسکتی ہے؟ اس وقت ہمارے بیشتر ملکی وسائل مٹھی بھر طبقے کے ہاتھوں میں ہے۔ صرف انقلاب ہی بھارتی عوام کو ملکی وسائل میں حصے دار بناسکتا ہے۔

سوال: ہمارے ہاں یہ تاثر جنم لے چکا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت افسر شاہی، سکیورٹی فورسز اور عدلیہ میں اپنی آئیڈیولوجی سے متفق لوگ ہی اہم عہدوں پر تعینات کررہی ہے۔ یہ بات درست ہے؟

جواب: سچ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا حکمران آئے تو پورے حکومتی ڈھانچے میں اپنے من پسند افراد تعینات کرتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ نئی حکومت کے آنے سے کیا عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئی؟ بھارت، پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ملک میں غربت، بیروزگاری، بھوک، سہولیات صحت کی عدم دستیابی، جہالت، بڑھتی مہنگائی اور خودکشیاں عوام کے حقیقی مسائل ہیں۔ جو حکومت یہ مسائل دور نہیں کرپاتی، وہ ناکارہ اور فضول ہے۔ تب عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ فلاں منظور نظر گورنر بن گیا یا فلاں چہیتے کو سیکرٹری بنادیا گیا۔

سوال: ہندو قوم پرست رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندومت کے حقیقی شارح و ترجمان ہیں۔ کیا آپ اس دعوی سے متفق ہیں؟

جواب: میرا یہ ماننا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنما ہندومت کی تاریخ، نظریات اور فکر سے قطعاً واقف نہیں۔ انہوں نے تو ہندومت کو اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ بنالیا ۔ میں ان سے زیادہ ہندومت کے متعلق جانتا ہوں۔ اسی لیے گوشت کھاتا، اردو بولتا اور مسلمانوں سے ملنا پاپ نہیں سمجھتا۔یہ ضروری ہے کہ ان نام نہاد ہندو قوم پسندوں کے طریق واردات کو سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر زمانہ قدیم میں رام ایک بڑا بادشاہ گزرا ہے۔ وہ ایک اچھا حکمران تھا۔اس کے حقیقی یا فرضی کارناموں کو ایک رزمیہ داستان،رامائن میں بیان کیا گیا۔ دور جدید میں مگر اسے دیوتا بنا دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ ہندو قوم پرست رام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو اپنی چھتری تلے لانا چاہتے تھے تاکہ اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کرسکیں۔ بی جے پی کی نظریاتی بنیاد اقلیتوں سے نفرت پر مبنی ہے اور یہ پارٹی اسی وقت نشوونما پاتی اور پنپتی ہے جب اقلیتوں کے خلاف فساد و تشدد جنم لے۔

سوال: بھارت آج بھی ذات پات کے نظام سے پیچھا نہیں چھڑا سکا۔ اس کی کیا وجوہ ہیں؟

جواب: بنیادی وجہ یہ ہے کہ اونچی ذات والے بھارتی ملکی وسائل میں نچلی ذاتوں والے ہندوؤں کو شراکت دار نہیں بنانا چاہتے۔ یہ خرابی اوپر سے نیچے تک پائی جاتی ہے۔ درحقیقت اسی خرابی کے باعث اٹھائس سال پہلے میری ججی خطرے میں پڑگئی تھی۔ہوا یہ کہ میں نومبر 1991ء الٰہ آباد ہائی کورٹ میں بہ حیثیت جج تعینات ہوا۔ انہی دنوں نریش چند نامی ایک استاد کو ریاستی محکمہ تعلیم نے ضلع غازی آباد کے ایک سکول میں تعینات کردیا لیکن ضلعی انسپکٹر آف سکولز نے یہ تعیناتی قبول نہیں کی۔ وجہ یہ تھی کہ نریش چند اچھوت (دلت) تھا جبکہ وہ ملازمت شیڈول کاسٹس یعنی اچھوت سے بلند ذات والے ہندوؤں کے لیے مخصوص تھی۔

ہریش چند نے اپنی تعیناتی کینسل کرنے کے عمل کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا اور یہ کیس میرے سامنے آیا۔ میں نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ ہریش چند کی تعیناتی قانون کے مطابق ہے۔ لہٰذا اسے کینسل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار پایا۔ ملک بھر کے طلبہ و طالبات نے میرے فیصلے کو سراہا مگر پارلیمنٹ میں شیڈول کاٹس سے تعلق رکھنے والے ارکان میرے خلاف ہو گئے۔جلد ہی مجھے دہمکی آمیز فون اور خط آنے لگے۔ مجھے اپنی حفاظت کے لیے پولیس بلوانا پڑی۔ انہی دنوں اخبار میں پڑھا کہ شیڈول کاسٹس کے ارکان اسمبلی میرے خلاف بل پیش کرنے والے ہیں تاکہ میرا مواخذہ کیا جا سکے۔ میں حیران رہ گیا۔ بہر حال یہ بل تو پیش نہیں ہوا مگر میں کئی ماہ تک اپنے گھر میں قید رہا۔ حتیٰ کہ صبح ورزش کرنا بھی مسئلہ بن گیا ۔ رفتہ رفتہ معاملہ ٹھنڈا پڑا تو میری جان میں جان آئی۔

سوال: آپ کے خیال میں کیا عام بھارتی شہری کو عدالتوں میں انصاف میسر ہے؟

جواب: پہلے تو لفظ ’’انصاف‘‘ کے معنی سمجھ لیجیے۔ انصاف محض عدالتوں ہی میں نہیں ملتا‘ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ ریاست کے ہر شہری کو عمدہ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ وہ اپنی اچھی خوراک کھائے‘ اچھے گھر میں رہے‘ اچھا پہنے‘ اسے مناسب ملازمت ملے اور تعلیم و صحت کی سہولیات بھی۔ اس کے بال بچے بھی خوشحال زندگی بسر کریں… اس کو انصاف کہتے ہیں۔

عدالتوں میں انصاف ملتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ مسئلہ بھی حل کر دیں۔ مثلاً عدالت میں ایک مالک مکان نے اپنے کرایہ دار پر مقدمہ کھڑا کر دیا۔ وہ مقدمہ جیت گیا اور کرایہ دار کو گھر خالی کرنے کا حکم ملا۔ لیکن بیچارا کرایہ دار اب کہاں جائے؟ گویا فیصلے سے ہاؤسنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انصاف یہ ہے کہ مالک مکان اور کریہ دار‘ دونوں کا اپنا گھر ہو۔ چونکہ بھارت کا مروجہ نظام دونوں کو گھر فراہم نہیں کرتالہٰذا یہ انصاف پر منبی نہیں۔ یہ ایک کرپٹ نظام حکومت ہے۔

سوال: آپ بھارت میں عدلیہ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟

جواب: میرے بھائی اس ملک میں عدلیہ تباہ ہ چکی۔عام طور پر ایک مقدمے کا فیصلہ آتے بیس پچیس برس بیت جاتے ہیں۔ یہ کس قسم کا عدالتی نظام ہے؟ میں تو اسے شرمناک اور ذلت آمیز کہوں گا۔ بتایئے ‘ کوئی شہری اپنے مقدمے کا فیصلہ پانے کے لیے پچیس برس انتظار کرے گا؟ اس عدالتی نظام میں عام آدمی کو قطعاً انصاف نہیں مل سکتا۔ اس خرابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جج کرپٹ ہو چکے ۔آپ کسی بھی ہائی کورٹ میں چلے جایئے۔ اس کی عمارت بڑی شاندار ہو گی۔ لان میں رنگ برنگ پھول کھلے ہوں گے۔ کمروں میں قیمتی اشیاء نظر آئیں گی لیکن ان کمروں میں انصاف دینے والے رشوت کھاتے ہیں۔ غرض یہ محض ظاہری دکھاوا ہے‘ اصل میں ہمارا عدالتی نظام کھوکھلا ہو چکا۔ دراصل حکومتی نظام ہو یا عدالتی‘ ہر نظام کو انسان چلاتے ہیں۔ جب ایک نظام کو چلانے والے دیانت دار باصلاحیت اور اہل ہوں تو وہ خود بخود بہترین بن جاتا ہے۔لیکن چلانے والے ہی کرپٹ‘ نااہل اور ناکارہ ہوں‘ تو نظام نے خراب ہونا ہی ہے۔یہ دیکھے کہ ہمارے ہاں سینئر ترین جج سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں ترقی پاتا ہے۔ حالانکہ ترقی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس نے کیا انصاف پر مبنی فیصلے کیے ؟ کیا وہ ایک ایمان دار جج ہے؟ محض سینارٹی کو ترقی کا معیار ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

سوال: بھارت میں سیکولر ازم کا کیا مستقبل ہے؟

جواب: ہندو قوم پرستوں کی بڑھتی مقبولیت دیکھتے ہوئے تاریک دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت بے حس بلکہ معتصب ہے۔ جب انتہا پسند ہندو مسلمانوں پر ظلم و تشدد کریں‘ تو ان کے ہم مذہبوں کی اکثریت چپ چاپ تماشا دیکھتی رہتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ دل میں اس اقدام کو اچھا نہ سمجھیں مگر انتہا پسندوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بہت سے یہ سوچتے ہیں کہ اچھا ہے‘ مسلمانوں کو سبق سکھانا چاہیے۔ اقلیتوں پر خوفناک حملوں سے ہندوؤں کی معمولی تعداد ہی غم و غصّہ کا اظہار کرتی ہے۔سیکولرازم ایک جدید نظریہ ہے جس نے یورپی ممالک میں جنم لیا۔ یہ ایک ایسے معاشرے میں ہی پھل پھول سکتا ہے جہاں تعلیم اور علم کا راج ہو۔ بھارتی معاشرہ اب بھی پسماندہ ‘ تعصب پرست اور جاہلانہ ہے۔ لہٰذا سیکولرازم یہاں پنپ نہیں سکا۔ سنگھ پریوار کے اقتدار میں آ جانے سے تو یہ آخری سانسیں لے رہاہے۔

سوال: مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں بھارتی حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہیں؟

جواب: دیکھیے اس مسئلے کے ضمن میں بھارتی حکومت کے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ وہ دو قومی نظریہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو بطور قانونی و جائز ریاست اپنالے۔ اس نظریے کے مطابق مسلمان اور ہندو دو مختلف اقوام ہیں۔ اس صورت میں بھارت کو کشمیر پاکستان کے حوالے کر دینا چاہیے کیونکہ وہاں آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ ایک فرد (مہاراجا) عوام کی قسمت کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ دو قومی نظریا تسلیم نہ کرے اور یہ قرار دے کہ پاکستان کا قیام غیر قانونی اور ناجائز ہے۔ ہم وہاں اپنا سفارت خانہ بند کر دیں ا ور ایسے ہر ممکن اقدامات کریں کہ پاکستان دوبارہ ہندوستان میں ضم ہو جائے۔ اب آپ مودی حکومت کے اقدامات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون سے راستے پر چل رہی ہے۔

سوال: آپ کے نزدیک بھارتی مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ تقسیم ہند کے بعد بھارتی مسلمانوں کو اہل اور باصلاحیت قیادت میسر نہیں آ سکی جو انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیتی۔ شروع میں کئی برس مسلمان کانگریسی امیدواروں کو ووٹ دیتے رہے تاکہ ہندو قوم پرست اقتدار میں نہ آ سکیں۔ جب کانگریس زوال پذیر ہوئی‘ تو وہ مقامی جماعتوں مثلاً بہوجن سماج پارٹی وغیرہ سے منسلک ہو گئے ۔ لیکن مودی لہر کے سامنے وہ بھی ٹھہر نہ سکیں۔ آج بھارتی مسلمان بہت منتشر اور پریشان ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کس کا سہارا لیں۔انہیں بے یارو مددگار دیکھ کر ہی ہندو انتہا پسند انہیں نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو مزید دبایا جا سکے۔

سوال: آر ایس ایس اور بی جے پی کو عموماً جرمنی کی نازی پارٹی سے تشبیہہ دی جاتی ہے ۔کیا یہ درست ہے؟

جواب: یہ امر کسی حد تک درست ہے۔ نظریاتی طور پر دونوں فاشسٹ نظریات رکھتی ہیں ۔مثلا یہ کہ ایک نسل کو دیگر نسلوں پر برتری حاصل ہے اور یہ کہ حزب اختلاف کو تہس نہس کر دینا چاہئے۔ مگر نازی پارٹی اور ہندو قوم پرست جماعتوں میںایک بنیادی فرق ہے۔ نازی پارٹی جب برسراقتدار آئی تو جرمنی صنعتی و اقتصادی طاقت بن چکا تھا۔ اس طاقت کے سہارے ہٹلر نے پڑوسی ممالک پر قبضہ کیا اور وہاں کے وسائل کی مدد سے نئی جنگیں چھیڑ دیں۔ اس نے یہودی کو جرمن قوم کے سیاسی و معاشی مسائل کا ذمے دار قرار دیا اور ان کی نسل کشی کر دی۔

بھارت مگر ترقی پذیر ملک ہے اور یہاں غربت و جہالت کا دور دورہ ہے۔ 2014ء میں نریندر مودی ’’وکاس‘‘ (ترقی) کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ سبھی بیروزگاروں کو ملازمتیں دیں گے۔ صحت و تعلیم کی سہولیات ہر شہری کو ملیں گی۔ لیکن مودی کے وعدے پورے نہ ہو سکے۔ بھارتی معیشت اس وقت زوال پذیر ہے۔

معاشی بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے ہی آر ایس ایس اور بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف مہمیں چلا رکھی ہیں۔ وہ نازی جرمنوں کی طرح اقلیتوں کو اپنے سیاسی و معاشی مسائل کا ذمے دار قرار دیتی ہیں۔ اسی لیے ہندوقوم پرستوں نے منظم طریقے سے مسلمانوں کو ٹارگٹ بنا رکھاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھیں ہندو اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ مگر یہ ڈراما زیادہ عرصے نہیں چل سکتا۔وجہ یہ ہے کہ عام آدمی کا اصل مسئلہ روٹی ہے۔ وہ سارا دن یہی تگ و دو کرتا ہے کہ اسے اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے روٹی مل جائے۔ ہندو اکثریت کو آخرکار یہ احساس ہو گا کہ اصل مسائل گائے کی رکھشا یا رام مندر کی تعمیر نہیں بلکہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو روز گار ملے‘ غربت دور ہو‘ صحت و تعلیم کے مسئلے حل ہو جائیں‘ بھوک کا خاتمہ ہو۔

سوال : پاکستان اور بھارت کیا مذاکرات سے اپنے اختلافات حل کر سکتے ہیں؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ پہلے برطانوی انگریز اور پھر امریکی گورے نے برصغیر پاک و ہند میں ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان بڑے منظم طریقے اور چالاکی سے اختلافات پید ا کیے۔ حقیقت میں پہلے ان دونوں گروہوں کے مابین کوئی واضح دشمنی یا نفرت نہیں تھی۔ اختلافات اس لیے پیدا کیے گئے تاکہ ہندوستان عالمی طاقت نہ مل سکے۔ پھر پاک بھارت تصادم کے سبب عالمی قوتوں کو یہ سنہرا موقع مل گیا کہ دونوں ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے سے سالانہ کھربوں روپے کما سکیں۔اگر آج بھارت اور پاکستان اتحاد کر لیں تو چند برس میں ان ممالک کے شہریوں کا معیار زندگی بلند ہو جائے۔ غربت و جہالت کا خاتمہ ہو اور سبھی سکھ چین سے رہیں۔ لیکن پاکستان اور بھارت کی دوستی سے عالمی قوتوں کو زبردست معاشی نقصان پہنچے گا۔ اسی لیے سپر پاور دونوں ممالک کے مابین اختلافات کی آگ کو ہوا دیتی ہیں تاکہ وہ مزید بھڑک جائے۔ اسی میں ان کا فائدہ ہے۔

سوال: بھارت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا رکن بننا چاہتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ وجہ کیا ہے؟

جواب: فرانس اور برطانیہ بھی سکیورٹی کونسل کے رکن ہیں۔ ان کی آبادی چھ سات کروڑ کے مابین ہے۔ بھارت کی آبادی ایک ارب پینتیس کروڑ ہے مگر وہ سر توڑ کوشش کے باوجود سکیورٹی کونسل کا رکن نہیں بن سکا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ وہاں کروڑوں کی تعداد میں غریب بستے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی غریب بھکاری کی عزت نہیں کرتا۔جب چین میں بھی کروڑوں غریب بستے تھے‘تو دنیا والے چینی قوم کو حقارت سے دیکھتے اور انہیں ’’افیونچی‘‘ کہتے۔ مگر جب اسی قوم نے سائنس و ٹیکنالوجی کو اپنایا اور صنعتی و معاشی طاقت بن گئی‘ تو دنیا بھر میں چین کو رشک و حسد سے دیکھا جانے لگا۔

اب ہر جگہ چینی احترام پاتے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ کو بھی چھوٹے ملک ہونے کے باوجود ایسی اہمیت ملی کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کر گئے۔بھارتی اس لیے سائنس و ٹیکنالوجی پر دسترس نہیں پا سکے کہ بھارت میں تنگ دل اور تنگ ذہن والے معتصب باشندے بستے ہیں۔ وہ آج بھی ذات پات کے نظام‘ تعصب اور غیر سائنسی توہمات و نظریات میں گرفتار ہیں۔ جب تک بھارتی قوم سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہیں کرتی وہ بدستور غربت‘ جہالت اور ذلت کے گرداب میں پھنسی رہے گی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں