91

روسی اور ترک فوجی شام میں سرحد سے دس کلومیٹر کے اندرعلاقے میں مشترکہ گشت کریں گے، صدر پوتن اور طیب ارگان کی روس، افریقہ اکنامک فورم میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

سوچی: رپورٹ شاہد گھمن
روس کے شہر سوچی میں ہونے والے “روس، افریقہ اکنامک فورم میں روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ ان کی ترک ہم منصب رجب طیب اردگان سے بات چیت کے بعد شام کے لیے ’’یادگار‘‘ نتائج برآمد ہوئے ہیں

ولادیمیر پوتن سے ترک صدر طیب اردگان نے روس کے سیاحتی مقام سوچی میں روس افریقہ اکنامک فورم کے موقع پر ملاقات کی ہے۔ انھوں نے شام کی صورت حال اور وہاں ترک فوج کی کردوں کے خلاف حالیہ کارروائی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔اس کے بعد صدر پوتن نے اور طیب اردگان نے مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام  کے علاقے میں ” سیف زون ” کے بارے میں مطابقت  پائی جانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ
شام کے اندر دس کلو میٹر اندر تک   ترک  فوجی دستے اور روسی فوجی دستے مشترکہ طور پر  گشت کریں گے۔ روسی صدر پوتن کے مطابق صدراردگان نے انھیں شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوج کے آپریشن کی وضاحت کی ہے۔

صدر ارگان نے کہا کہ  شام جہاں  ایک عرصے سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری تھا  ترکی کی کوششوں سے ایک بار پھر   امن اور استحکام  قائم  ہو رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ترکی نے ساڑھے تین  ہزار کردوں  اور تین ملین  شامی بھائیوں کو  گزشتہ ساڑھے آٹھ سالوں سے پناہ دے رکھی تھی ۔ اب   ہمارے شامی بھائیوں کے لیےاپنے وطن کی حسرت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اور پوتن نے چشمہ امن  آپریشن کے تناظر میں تازہ ترین پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا ہے

ان دونوں لیڈروں کی مختصر پریس کانفرنس کے بعد ترکی اور روس کے وزرائے خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کی اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بتایا کہ صدر پوتن اور اردگان دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ روس 1998ء میں ترکی اور شام کے درمیان طے شدہ عدنہ سکیورٹی سمجھوتے پر عمل درآمد کرائے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ’’تمام کرد جنگجوؤں اور ان کے ہتھیاروں کو شام کے سرحدی شہر منبج اور تل رفعت سے ہٹا دیا جائے گا۔روسی اور ترک فوجی شام میں سرحد سے دس کلومیٹر کے اندرعلاقے میں مشترکہ گشت کریں گے۔وہ سمجھوتے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے صورت حال کی بھی مشترکہ طور پر نگرانی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب کردوں کے پاس اس علاقے سے انخلا کے لیے 150 گھنٹے کا وقت ہوگا۔

دریں اثناء آج ہی کرد فورسز نے کہا ہے کہ انھوں نے شام کے ترکی کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں مجوزہ محفوظ زون کو خالی کردیا ہے۔ شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے کمانڈر نے امریکا کو مطلع کیا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کردیا ہے۔تاہم ترکی نے فوری طور پر ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ترکی نے نو اکتوبر کو شام کے سرحدی علاقے میں امریکا اور یورپ کی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کا مقصد کرد ملیشیا کوشام کے ترکی کے ساتھ واقع سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانا تھا۔وہاں ترکی ایک محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے۔
گذشتہ جمعرات کو امریکا اور ترکی کے درمیان اس کارروائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور ترکی کی مسلح افواج نے کرد ملیشیا کے خلاف پانچ روز کے لیے جنگی کارروائیاں روک دی تھیں۔ اس کے بعد سے علاقے میں صورت حال قدرے بہتر ہے۔ البتہ اس عرصے میں بعض جگہوں پرمتحارب فورسز میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں یا انھوں نے کہیں کہیں ایک دوسرے پر گولہ باری کی ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں