153

دوحہ : امریکہ افغان طالبان مذاکراتی عمل 3 ماہ بعد قطر میں دوبارہ شروع

دوحہ(ورلڈ پوائنٹ) افغان طالبان اور امریکی ٹیم کے درمیان معطل ہونے والے امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے، فریقین نے قطر میں بیٹھ کر اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کو وہی سے شروع کیا جائے جہاں اس کو معطل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان مذاکرات کو معطل کرنے کے اعلان کے 3 ماہ بعد قطر میں مذاکراتی عمل کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ مذاکرات وہیں سے شروع ہوئے جہاں پر رکے تھے، افغان طالبان وفد کی سربراہی ملا برادر اخوند نے کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ مذاکرات میں گزشتہ دستخط شدہ معاہدوں اور عنوانات پر دوبارہ گفتگو ہوئی، مذاکرات کل بھی دوبارہ جاری رہیں گے،۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد اور طالبان مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے مذاکرات کو اسی موڑ سے شروع کرنے پر زور دیا جہاں مذاکرات کو معطل کردیا گیا تھا۔

امریکا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات میں ابتدائی طور پر تشدد میں کمی اور مستقل جنگ بندی کے لیے طالبان کو قائل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوشش بھی کی تھی اور ایک دور منعقدہ ہوا تھا جس کے بعد طالبان نے اشرف غنی کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں