86

میزائل استعمال نہیں کرنا چاہتے، ایران جوہری منصوبے سے دستبردار ہوجائے، ٹرمپ

واشنگٹن(ورلڈ پوائنٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری منصوبےسےدستبردار ہونا پڑے گا، میں جب تک امریکا کا صدر ہوں ایران ایٹمی طاقت نہیں بن سکتا۔

ایران کے جوابی حملے کے بعد صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کے حملے میں کسی امریکی کونقصان نہیں ہوا، اس حملے میں امریکی فوجی محفوظ ہیں البتہ فوجی اڈے کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایران دہشت گردوں کاسرپرست اعلیٰ ہے، ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے جب کہ جنرل سلیمانی نےخطےمیں قتل وغارت گری مچارکھی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے دہشت گرد جنرل سلیمانی کو حملےمیں ہلاک کیا، جنرل سلیمانی ہزاروں افراد کی ہلاکتوں میں ملوث تھا اور میرے حکم پر جنرل سلیمانی کو ہلاک کیا گیا، دنیا ایران کے دہشت گردانہ رویےکو برداشت کرتی رہی ہے جب کہ ایرانی حکومت نے مظاہروں کےدوران اپنےہی1500لوگوں کوقتل کیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی دہشت گردی، قتل اور فساد کی پالیسی برداشت نہیں کی جائےگی، ایران پرنئی اورسخت معاشی پابندیاں عائدکریں گے، امریکی افواج ہرقسم کےحالات کے لئے تیار ہے، امریکاخودمختارہے ہمیں مشرق وسطیٰ کےتیل کی ضرورت نہیں، ہمارے میزائل طاقتور اور انتہائی تباہ کن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یمن، لبنان ،افغانستان اور عراق میں تباہی مچائی، ایران نے حالیہ دنوں میں 2 امریکی ڈرون بھی تباہ کیے، ایران اپنی ایٹمی سرگرمیاں روکے، میرے صدر ہوتے ہوئے ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اوباما دور میں ایران کو پیسے ملے اور اس نے میزائل بناکرہم پرحملہ کیا، ہم اپنےزبردست مہلک ہتھیا راستعمال نہیں کرناچاہتے مگر ایران کو جوہری منصوبے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں