111

اس سال حج سے متعلق کوئی بھی نیا معاہدہ نہ کیا جائے، سعودی وزیر

ریاض(ورلڈ پوائنٹ) سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے کہا کرونا وائرس کے باعث پیدا والی صورت حال واضح ہونے تک حج سے متعلق کوئی بھی نیا معاہدہ نہ کیا جائے ۔

تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت حج وعمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ سعودی وزارت حاجیوں کی خدمات کیلئےپرعزم ہیں اور حاجیوں کی حفاظت، سہولتوں کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے کہا کہ ہماری درخواست ہے اس سال حج سے متعلق کوئی بھی نیا معاہدہ نہ کیا جائے ، معاہدے اس وقت تک نہ کئےجائیں جب تک وبا کا راستہ واضح نہ ہو، سعودی حکومت کوروناوائرس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سعودی وزیرمذہبی امور نے کہا کہ سعودی حکومت حج پر یقینی بنانے کیلئےکوشاں ہے کہ کوئی نقصان نہ ہو، حج میں عوام کے اجتماع سے کورونا وائرس کے پھیلاؤکا خدشہ ہے ، وائرس کاپھیلاؤروکنے کے لئے اعلیٰ احتیاطی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں.

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ تحفظ کیلئےموجودہ حفاظتی اقدامات کو مستحکم کرنا ہے اور مسجدالحرام، مسجدنبویﷺ جانیوالوں کا خیال رکھناضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عازمین عمرہ کو کسی بھی وقت آنے کی اجازت دے سکتا ہے، مملکت عمرہ اور حج دونوں کے لیے پوری طرح تیاری کررہی ہے مگر عازمین کی سلامتی ہرچیز پرمقدم ہے۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ حج سے متعلق حتمی فیصلہ اسلامی ممالک کی مشاورت سے کیاجائے گا۔

یاد رہے سعودی عرب نے پاکستان کوحج معاہدوں سےروک دیا تھا، سعودی حکومت کی جانب سے مراسلے میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کےخدشات کے پیش نظر حج معاہدہ نہ کریں، سعودی حکومت صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے، صورتحال بہتر ہوتے ہی آگاہ کریں گے۔

بعد ازاں سعودی وزیر حج ڈاکٹرصالح بن طاہر نے وفاقی وزیر مذہبی امورنورالحق قادری کو حجاج کی رہائش، خوراک، سفری سہولتوں کے معاہدے کیلئے نئی ہدایات جاری کیں تھی۔

نورالحق قادری کا کہنا تھاکہ فریضہ حج کی ادائیگی کا حتمی فیصلہ خادم حرمین شریفین کریں گے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں