174

سوات پھر دکھی کیوں ۔۔۔۔ ؟

 قادر خان یوسف زئی

سوات ایک خود مختار آزاد ریاست ہوا کرتی تھی ۔ ایوب خان کے بعد جب جنرل یحیٰی خان نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو انھوں نے 1969 میں سوات کو پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے مدغم کردیاتھا۔سوات کی عوام نے ہمیشہ پاکستان سے محبت کی ۔ سوات پر انتہائی درد ناک وقت اُس وقت آیا جب شدت پسندوں نے وادی میںظلم و ستم کی تاریخ رقم کردی ۔ چونکہ وادی سوات کی عوام ہمیشہ سینکڑوں برس پر محیط اسلامی و ثقافتی نظام کے تحت زندگی بسر کرتے رہے ہیں اس لئے اپنے تمام چھوٹے بڑے مسئلے مسائل و فیصلوں کو نظام شریعت و پختون ولی کی روایات کے مطابق حل کرنے کے حامی رہے ہیں۔ شدت پسندوں کی جانب سے وادی سوات کی عوام کو پاکستان کی ریاست سے بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی لیکن سوات کی عوام نے پاکستان کے ساتھ جڑے رہنے کو ترجیح دی یہاں تک کہ ریاست پاکستان کی رٹ قائم کرنے کے لئے انہوںنے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی ۔ اپنے گھر بار کوچھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں لاکھوں سواتیوں نے حب الوطنی کا عظیم ترین مظاہرہ کیا اور آئی ڈی پیز بن گئے۔صوبہ پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن کے مہاجرین کے ساتھ جذبہ ایثار و بھائی چارے کی کئی ناقابل فراموش مثالیں قائم ہوئیں ۔ مردان صوابی کے بھائیوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھولے چھوڑ دیئے تھے کہ کسی کو دروازہ کھٹکانے کی ضرورت پیش نہ آئے اور وہ کوئی بھی ہو بلا جھجک اپنا گھر سمجھ کر آجائے۔ ایک طرف جہاں جذبہ ایثار کا عظیم ترین مظاہرہ کیا جارہا تھا تو دوسری جانب بد قسمتی سے ملک کے بعض شہروں میں ان کے ساتھ نا روا سلوک بھی کیا گیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملاکنڈ ڈویژن میں ریاست کی رٹ قائم کردی اور شدت پسند وں کو شکست دے دی ۔ انتہا پسندوں کی قیادت و شدت پسندوں نے افغانستان میں پناہ حاصل کی اور دہشت گردوں کا گڑھ افغانستان کو بنا لیا ۔
وادی سوات کے عوام سمیت دیگر اضلاع کے رہائشیوں نے گھر واپسی کا سفر شروع کیا اور بالاآخر ریکارڈ مدت میں آئی ڈی پیز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے اپنے گھروں میں آباد ہوگئے۔ پاک فوج نے سوات کی تاریخی و ثقافتی حیثیت کو بحال کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے اور عالمی معیار کے سپورٹس فیسٹیول کے علاوہ سیر و سیاحت کے مقامات کو دوبارہ آباد کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ لاکھوں کی ریکارڈ تعداد میں سیاحوں نے سوات کی رونق کو دوبارہ بحال کردیا اور جنت نظیر خطہ امن کی جانب دوبارہ رواں دواں ہوگیا ۔ یہ سب کچھ ریاست کے دشمنوں کے لئے برداشت سے باہر تھا اسی لئے انہوں نے ملک دشمن عناصر ایجنڈے کے تحت سیکورٹی فورسز کو نشانے پر رکھا ہوا ہے ۔ چونکہ سوات جغرافیائی لحاظ سے گنجان جنگلات و بلند و بالا مقامات پر مشتمل خطہ ہے اس لئے شدت پسندوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ایسی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے حساس علاقوں میں چیک پوسٹیں بنائی ہوئی ہیں۔تاہم سوات گرینڈ جرگے نے کئی بار یہ مطالبات بھی کئے کہ سوات میں امن قائم ہوچکا ہے اس لئے پاک فوج واپس چلی جائیں تاکہ ان چیک پوسٹوں کی وجہ سے عام عوام و سیاحوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ابھی یہ مطالبات جاری ہی تھے کہ بد قسمتی سے سوات کے علاقے کبل میں قائم فوجی یونٹ پر 3فروری2018کو ایک خود کش حملہ ہوگیا ۔جس میں ایک فوجی افسر کیپٹن جہانزیب سمیت 11اہلکار شہید اور کیپٹن عدیل سمیت13زخمی ہوگئے۔یہ حالیہ برسوں میں سوات میں ہونے والے سب سے بڑا حملہ تھا۔حملے کے بعد چیک پوسٹوں پر نگرانی و تلاشیوں کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات میں سختی آگئی۔
گزشتہ دنوں مینگورہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ جس میں سیکڑوں مقامی افراد شریک تھے جو مینگورہ شہر کے وسطی علاقے نشاط چوک اور خوازہ خیلہ میں فوج کی قائم کردہ چوکیوں کے خاتمے اور علاقے کا انتظام و انصرام سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔خوازہ خیلہ کے پولیس تھانے نے مظاہرے کی قیادت کرنے والے چھ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جن میں ریاست سے غداری اور ریاستی اداروں بالخصوص سکیورٹی فورسز کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات شامل ہیں۔خوازہ خیلہ کے علاوہ مینگورہ پولیس اسٹیشن میں بھی انہی دفعات کے تحت سات افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔یہ مظاہرے سوات کے عوام کی فطری بے چینی تھی یا کسی گروپ کی جانب سے مخصوص ایجنڈا؟ ۔ اس پر ریاست کو سوات کی عوام کے تحفظات کو دور کرنے کی پہلی فرصت میں کوشش کرنی چاہیے۔اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ سوات میں داخلے کے وقت مقامی و غیر مقامی افراد کو سخت چھان بین کا سامنا ہوتا ہے۔ گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں اور گھنٹوں طویل انتظار سمیت مقامی آبادکاروں کو بار بار شناخت کے عمل سے گذرنے میں مستقل پریشانی کا سامنا ہے۔ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ ملک بھر میں چیکنگ کا نظام ہے جہاں زمینی راستے سے جانے والوں کی ویڈیو بنا کر شناخت کرنے کے عمل سے لیکر فرد و سامان کی تلاشی بھی لی جاتی ہے اس لئے اس بات پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں کہ علاقائی حدود میں داخلے پر جس طرح حساس شہروں میں چیکنگ کا نظام ہے ، سوات میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس عمل میں اگر شخصی آزادی متاثر ہو رہی ہے تو اس کا مدوا کرنا بھی ضروری ہے۔ پشاور ، کوئٹہ ، لاہور ، کوہاٹ ، کراچی سمیت کئی شہروں میں دہشت گردی کے بڑے بڑے سانحات و واقعات ہوچکے ہیں۔ سیکورٹی فورسز پر حملے بھی کئے جاتے ہیں ۔ کیا وادی سوات میں کئے جانے والے اقدامات ویسے ہی ہیں جیسے دہشت گردی سے متاثرہ شہروں و علاقوں میں ہے، یا پھر سوات میں سیکورٹی کا معیار کچھ اور ہے یہ جاننا ضروری ہے۔ کبل میں ہونے والا خود کش حملہ سوات میں کافی عرصے بعد بڑا حملہ ہے لیکن اس سے بڑے خطرناک حملے و واقعات پاکستان کے کئی علاقوں میں ہوتے رہے ہیں اور انہیں ابھی تک مکمل محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا ، کسی بھی تہوار ، جلسے وغیرہ میں اب بھی سخت ترین سیکورٹی اورموبائل و انٹر نیٹ سروس کی بندش سمیت اقدامات کئے جاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی اہلکاروں سے عوام کو شکایات کا ہونا بھی فطری ہے ۔ پنجاب ، سندھ میں ماورائے عدالت ہزاروں قتل کے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ بعض اہلکار قانون سے تجاوز کرجاتے ہیں اور اداروں کی بد نامی کا سبب بنتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سوات میں بھی ایسا کچھ ہو رہا ہو یا پھر بعض واقعات کو بڑھا چڑھا کر منظم طریقے سے پھیلا یا جارہا ہو۔ کسی بھی قسم کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا کیا جاسکتا ۔ ریاستی اداروں اور عوام کو تحمل سے کام لینا ہوگا کیونکہ جب تک عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک صفحے پر نہ ہوں کسی کو کامیابی نہیں مل سکتی۔
وادی سوات پر امن عوام کا خوب صورت و مہمان نوازی کا تاریخی مسکن ہے۔ قدیم تہذیب و ثقافت کے آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وادی سوات نے گندھارا تہذیب سے موجودہ حالات تک ہر قسم کے حالات میں اپنی روایات اور ثقافت کی خود حفاظت کی ہے۔وادی سوات کے عوام کی قربانیوں اور پاک فوج کے ساتھ تاریخی تعاون کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ریاست کو سنجیدگی کے ساتھ سوات کی عوام میں اٹھنے والی کسی بھی بے چینی کو دور کرنے کی اشد کوشش کرنی چاہیے۔ سوات کی عوام کے ساتھ ان کے لاکھوں رشتے دار جو پاکستان و دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ وادی میں متشدد واقعات و دیگر معاملات کے عالمی میڈیا میں آنے پر انتہائی دکھی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کی ساتھ بھی ریاست کے دیگر شہریوں کے طرح غیر جانبدارنہ رویہ اختیار کیا جائے ۔ ان کے جائز مطالبات کو ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ سوات کی عوام ابھی تک ماضی میں پہنچنے والی تکالیف کو نہیں بھول سکے ہیں ۔ ان میں اعتماد کو بحال کرنے کی مثبت کوششوں کو رائیگاں ہونے سے بچانا ریاستی اداروں کا فرض ہے۔ وادی سوات ایک بار پھر دکھی کیوں ہے یہ سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں