176

عزیزبنناچاہتے ہوتو’ذلیل‘ ہوناسیکھ لو

صادق رضامصباحی،ممبئی
کچھ دنوں قبل ایک نسبتاً’بڑے‘ شخص کی خودنوشت دیکھنے میں آئی جس میں انہوں نے ببانگ دہل یہ دعویٰ کیاہےکہ ان کوکبھی ناکامی ونامرادی کامنہ ہی نہیں دیکھناپڑااوروہ ہمیشہ کامرانی وترقی کے زینے طے کرتے کرتے بلندیوں پرجاپہنچے۔یہ دعویٰ اس وقت بھی میری فہم ناقص کی سرحدوں میں نہ آسکاتھااورآج بھی ا تناوقت گزرجانے کے باوجودمجھے’کامیابی ‘کے اس فارمولے کاسِرانہیں مل سکاہےاوریقین کریں کہ مل بھی نہیں سکے گا۔آپ میں اگرتھوڑی سی بھی سمجھداری ہے توآپ میری اس بات سے ضروراتفاق کریں گے کہ اس طرح کادعوی ایک کامیاب انسان کی ’بڑ’ہے کامیابی کافارمولہ ہرگز نہیں کیوں کہ پہاڑجیسی حقیقت یہ ہے کہ انسان پہلے نامرادیوں کے دن دیکھتاہے پھراسے گوہر مرادحاصل ہوتاہے ۔کامیابی ،ناکامیوں کامنہ دیکھے بغیر نہیں آتی اوراگرآبھی گئی تووہ پائیدارنہیں ہوتی ۔اب یہ قسمت پرمنحصرہے کہ انسان کتنی ناکامیوں سے گزرتاہے ۔آپ دنیاکے کامیاب ترین لوگوں کی فہرست مرتب کریں اورپھران کے بارے میں پڑھناشروع کریں توپتہ چلے گاکہ وہ پہلے ناکام تھے اوراسی ناکامی نے انہیں کامیابی کے راستے پرڈال دیاتھا۔اس سلسلے میں آپ نے ہزاروں کہانیاں سن رکھی ہوں گی ۔اس لیے کسی کایہ دعوی کہ اس نے اپنے کیرئرکے سفرمیں کبھی بھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھا،نہایت عجیب ہے ،بلکہ غیرعملی ہے اور غیر فطری بھی ۔اسےہمیں ہم زیادہ سے زیادہ اپنی کامیابی کی دھاک بٹھاناکہہ سکتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ کامیابی کی یہ ’’بڑ‘‘کم سن طالب علموں کو احساس کمتری میں مبتلاکرسکتی ہے ۔چھوٹے لوگ عموماًبڑوں کی کامرانیوں کے رازجانناچاہتے ہیں تاکہ کیرئرکے سفرمیں وہ انہیں حاصل کرکے زادراہ بنائیں اور وہ بھی کامیابی تک پہنچ جائیں ۔مجھے بتائیے کہ جب بچے اس طرح کے دعوی سنیں گے یاپڑھیں گے تووہ فطری طور پریہ سوچنے پرمجبورہوجائیں گے کہ کامیاب شخص ہمیشہ کامیاب ہوتاہے، وہ طالب علمی کے زمانے میں بھی ناکام نہیں ہوتااسی لیے بڑے منصب تک پہنچ جاتاہے۔ان بچوں کواگرکوئی سرپرست نہ ملے تویہ اپنے حالات کے آئینے میں اس دعوی کوبارباردیکھیں گے اور اپنے آپ سے بات کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم اس جیسےنہیں بن سکتےاوریوں وہ احساس کمتری کی گہری کھائیں میں لڑھکتے چلے جائیں گے۔
ہمارے بڑوں کی ذمے داری ہے کہ وہ چھوٹوں کو سمجھائیں کہ کامیابی ،ناکامی سے ہی آتی ہے ،ناکامی کے کھنڈرپرترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔انہیں بتایا جائے کہ انسان کتناہی بڑاہوجائے ،وہ پہلے چھوٹا ہوتا ہے ، حقیرہوتاہے اورکبھی کبھارذلالت بھی اس کامقدربن جاتی ہے مگریہ چھوٹاپن ،یہ حقارت اوریہ ذلالت اس کی زندگی کاجزولاینفک نہیں ہوتی اورہوبھی نہیں سکتی کیو ںکہ زندگی ابتداسے لے کرانتہاتک مختلف مراحل کے مجموعے کانام ہے ،زندگی مرمرکرجینے اورجی جی کرمرنے کانام ہے ۔ہرکسی کی زندگی میں عبوری دور آتے ہیں اورگزرجاتے ہیں ۔دراصل یہ عبوری دورانسانوں کی آزمائش کے لیے ہوتے ہیں ۔اللہ پاک کسی کویوں ہی کامیاب نہیں کرتا،پہلے اسے ناکامی کے مزے چکھاتاہے اور یہ ناکامی اسے کامیابی کے لیے تیارکررہی ہوتی ہے ۔ ناکامی دراصل کامیابی کاامتحان ہوتی ہے۔انسان اگر ناکامی کے امتحان میں پاس ہوگیاتووہ یقیناکامیابی سند حاصل کرلیتاہے اوراپنے معاشرے کابہترین سپوت قرار پاتاہے ۔آپ کاتعلق چاہے کسی بھی شعبے سے ہو،آپ پہلے چھوٹے ہوتے ہیں ،زندگی کے خاردارراستے میں اپنے پائوں چھلنی کرتے ہیں تب جاکرکامیابی کے گلشن میں قدم رکھتے ہیں ۔مثلاًآپ اگرکسی بھی دفتر،کمپنی ،ادارے میں کام کررہے ہوں توپہلے آپ جونیئرہوتےہیں ،سینئرس کے ماتحت ہوتے ہیں ،آپ کو سینئرس کاحکم مانناپڑتاہے ۔ اگر خدانخواستہ آپ کاسینئراپنی سینئریٹی میں کچھ زیادہ ہی چورہے ،اسے اناکامرض کالاحق ہے توآپ کواس کی جھڑکیاں بھی سننی پڑتی ہیں ،آپ کی تنقیص ،توہین بلکہ تذلیل تک ہوسکتی ہے ۔اس سلسلے میں آپ کوبے شمارواقعات معلوم ہوں گے ۔آپ اگرملازمت پیشہ رہے ہیں توآپ اس تلخ تجربے سے ضرورگزریں ہوں گے کہ انا پرست سینئرنہیں چاہتا ہے کہ اس کاجونیئرآگے بڑھے اور اسے کامیابی کاراستہ سجھائی دے اس لیے وہ ہمیشہ آپ کوآپ کی ’اوقات‘ یاد دلاتارہتاہے مگر آپ یقین کیجیے کہ آپ کی ’اوقات‘دلاکرایساسینئردراصل اپنی ’اوقات‘ دکھارہاہوتاہے اوراس بات کاببانگ دہل اعلان کررہاہوتاہے کہ وہ کس قماش کاآدمی ہے ۔یہاں ایک اٹل حقیقت معلوم ہوئی کہ اگرآپ عزت چاہتے ہوتوپہلے ذلیل ہونا سیکھ لو،اگرآپ بڑے بنناچاہتے ہوتوپہلے چھوٹاہوناسیکھ لو،اگرآپ کامیاب ہوناچاہتے ہوتوپہلے ناکام ہوناسیکھ لو۔ اس لیے میرے دوستو!ایک بات ہمیشہ پلے باندھ لوکہ اگر آپ کسی کی نگاہوں کاتارہ بنناچاہتے ہیں توپہلے کسی کی نگاہ میں ’ذلیل‘ ہوناہی ہوگا۔بس یہی ہے کامیابی کا گر۔اگرآپ اس رازتک پہنچ گئے توسمجھ لیجیے کہ پھرکامیابی آپ کی ہوگئی اورآپ کامیابی کے ۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں