179

شام و یمن جنگ کب ختم ہوگی ؟

قادر خان یوسف زئی
ایک ہفتے کے دوران کم سن بچوں سمیت630افراد شامی فوجی اتحاد کی بمباری کا نشانہ بن گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ صرف تین دن میں 130معصوم بچوں کا ان بمباریوں میں شہید ہوجانا امت مسلمہ و اقوام عالم کے ضمیر کو نہیں جھنجوڑ سکا ۔ گزشتہ کئی برسوں سے شام کی خانہ جنگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ شام کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کاروں نے خطے کی صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ اس وقت قیامت مشرقی الغوطہ جو شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے میں برپا ہے۔ فرانس کی قائم ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم “طبیبا ن ماورائے سرحد”کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران مشرقی الغوطہ پر فضائیوں حملوں میں 630افراد ہلاک اور 3300سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فضائی حملوں میں اسپتالوں اور عارضی طور پر قائم کئے گئے کلینکوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امداد ی کاموں میں مصروف کارکنان پر بھی فضائی بمباری کی گئی جس سے مزید سو افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ شامی حلیف فوجی اتحاد نے 30دنوں کے لئے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے صرف صبح نو بجے سے دن دو بجے تک مسلسل بمباری میں وقفے کا اعلان کیا ہے ۔ویسے بھی عارضی جنگ بندی سے غوطہ پر کوئی نمایاں فرق نہیں پڑ ے گا ۔ شامی فوجی اتحاد نے علاقے کا سخت ترین محاصرہ کیا ہوا ہے ۔ امدادی سامان لے جانے پر بد ستور پابندی ہے ۔ نقصانات کے ازالے کے بجائے حلب کی طرز پر علاقہ بدری کے احکامات دیئے جا رہے ہیں ۔ اشیا خورد نوش سمیت طبی سامان کی شدید کمی ہے ۔اس بمباری کو ایک نئی جنگ کی شروعات قرار دیا جارہا ہے۔ سینکڑوں لاشوں کے بکھرے اعضا اورزخمیوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ تک نہیں بھیجا سکتا ۔ مصنوعی تنفس کی بحالی کے لئے ماسک موجود نہیں ۔ جن اسپتالوں میںسینکڑوں زخمیوں کو لایا جاتا ہے اُن پر بمباری کردی جاتی ، جو ایمبولنس گاڑی باہر نکلتی اُسے نشانہ بنا دیا جاتا ۔ سرنگیں بنا کر مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔عام شہریوں کی تکالیف و بربادی کی صورتحال میں اتنی مخدوش ہے کہ معالجوں تک کو خوراک و زخمیوں کو ادویات کا ملنا محال ہوگیا ہے۔
شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے عالمی قوتوں کی جانب سے بھرپور طاقت کا مظاہرہ بے کس ، نہتے شہریوں پر کیا جارہا ہے۔ معصوم بچے نشانہ بن رہے ہیں ۔ شام سے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے ۔ امت مسلمہ کے کردار پر بات کرتے اور لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں ۔ اگر امت مسلمہ گروہ بندیوں ، فرقوں میں تقسیم نہیں ہوتی تو پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر نوحے نہیں لکھے جا رہے ہوتے ۔ مسلمانوں کے درمیان نا اتفاقی کا فائدہ براہ راست مسلم دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے ۔ غوطہ کے حوالے سے جب سینکڑوں شہریوں اور معصوم بچوں کی ہلاکتوں کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلی تو بشار الاسد کے حامیوں نے ان خبروں ، تصاویر اور ویڈیوز کو خود ساختہ قرار دیتے ہوئے ایسے جعل سازی قرار دیا ۔ اس کے لئے یہ مفروضہ بیان کیا کہ شام میں بشار الاسد مخالفین کو سعودی عرب ، امریکا اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے اس لئے روس اور ایران کی مخالفت میں ‘ وائیٹ ہلمنٹ ‘ نامی ایک امدادی تنظیم کی جانب سے جعلی ویڈیو و جھوٹی تصاویر بنوائی جاتی ہیں۔ بقول ان کے تندرست بچوں کو جعلی پلاسٹر چڑھا کر ان سے اداکاری کروائی جاتی ہے اور تباہ کاریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔رجیم بشار الاسد کے حامیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وائیٹ ہلمنٹ کو پسندیدہ مناظرہ نہ ملیں تو یہ دیواروں پر پینٹ کرکے جدید ترین کیمروںو ٹیکنالوجی سے فلمسازی کرتے ہیں۔یقین کیجئے کہ مجھے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ مخالفت میں کوئی انسانیت کے مقام سے اتنا گر سکتا ہے کہ انہیں معصوم بچوں کے زخمی چہرے، آہ وفغاں ، کٹے اعضا ، کیمیائی گیس سے ہلاک ہونے والوں کے دل خراش منظر ، کرم خوردہ لاشیں ، عمارتوں کے تباہ حال ملبے دبے انسان کسی ہالی وڈ فلم کے مناظر لگیں گے۔ ایک جانب تو امت مسلمہ تقسیم ہے ۔ دوسری جانب عالمی قوتوں نے شام کی سرزمین کو اپنے طاقت کے مظاہرے کے لئے میدان جنگ بنا یا ہوا ہے۔ سقوط حلب ہوگیا ۔ فوعہ ، کفریا ، مادایا اور زبادانی سے ہزاروں کی تعداد میںعام شہریوں کا انخلا کرایا گیا ۔ کئی کئی مہینوں سے علاقوں کو محصور رکھاگیا ۔ کھانے پینے کی اجناس ختم ہوئیں تو شہریوںنے جانور کھانا شروع کردیئے ۔ گھاس و درختوں کے پتے کھانے لگے ۔ زندگی مفلوج ہوگئی ۔ لیکن ہمارے لئے یہ انتہائی شرم کا مقام ہے کہ ہم جنگ کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہی کرنے اورذے داروں کے تعین کے بجائے زخموں پر نمک چھڑکنے سے باز نہیں آتے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سر زمین شام مختلف ممالک کی جانب سے مخصوص مفادات کا شکار ہے۔ لیکن انسانیت بھی کسی شے کا نام ہے۔ اگر ہم یمن میں بمباریوں کا ذکر کرتے ہوئے معصوم ، نہتے اور عام شہریوں کی بات کریں تو ان کا بھی کوئی قصور نہیں ۔ انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ ایک انسان اور سب سے بڑھ کر مسلمان ہونے کے ناطے شام میں ہونے والی بربریت پر بھی غم زدہ ہیں۔یمن، لبنان ، عراق، افغانستان اور شام میں خانہ جنگی کیوں ہو رہی ہے کیا ہم اس سے نا بلد ہیں کہ کون کس ملک میں دخل اندازی کررہا ہے ۔ ایک عام انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک یہود ، ہنود و نصاری کی سازشوں سے باہر نکلیں اور جو وسائل اپنی عوام پر ، غریب مسلمانوں پر خرچ کرنے چاہیے تھے وہ مسلم دشمن کے خزانوں میںدینے سے باز آئیں ۔امت مسلمہ کی بد قسمتی ہے کہ ان کے درمیان صلح و تصفیہ کرانے کے لئے سنجیدگی سے کوئی کوشش نہیں کررہا ۔ سعودی عرب تبدیلیوں کے بڑے دور سے گذر رہا ہے ۔ شاہی محلات میں بد عنوانیکے نام پر با اثر شاہی خاندان کے شہزادوں کی گرفتاریوں و کرپشن کی رقم کی واپسی کے بعد سعودی شاہ سلمان نے چیف آف سٹاف سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈر برطرف، بری اور فضائی افواج کے سربراہوں کو بھی تبدیل کردیا ہے۔یمن کی تین برس کی جنگ نے شاہی خزانے پر بھاری بوجھ بڑھا دیا ہے ۔ یمن جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کو کھربوں ڈالرز امریکا ، روس سے دفاعی نظام کی خریداری پر خرچ کرنا پڑے ۔ سعودی فوج اتحاد پر اربوں ڈالرز کے اخراجات سعودی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں ۔سر زمین حجاز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سعودی شاہی خاندان اپنی پالیسیوں کو بھی تبدیل کررہا ہے۔ قدامت پسند پالیسیوں سے روشن خیالی کی جانب گامزن ہورہا ہے۔ شاہی خاندان بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنگی اخراجات کا بار اٹھانا کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔ عوام میں معاشی بد حالی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ غیر ملکیوں کی جگہ سعودی باشندوں کو ملازمت دیئے جانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں مالیاتی بحران و دیوالیہ کا شکار ہوچکی ہیں ۔ غیر ملکی ملازمین کو کئی کئی ماہ کی تنخوائیں نہیں دی جا سکیں ۔ سعودی سرزمین میں دہشت گردی کے واقعات بھی وقتاََ فوقتاََ رونما ہونے لگے ہیں ۔
دوسری جانب ایران میں بھی حکومت مخالف جماعتوں کی جانب سے ریاست کی پالیسیوں پر احتجاجی مظاہرے اور سابق صدر احمد نژاد کے حامیوں کی جانب سے عدلیہ اور حکومت پر الزامات سمیت بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے ایران کے داخلی حالات کو بھی انتشار کا شکار کیا ہوا ہے۔مسلم ممالک میں خانہ جنگیوں میں مداخلت کے سبب ایران جیسا ملک بھارت کے مالی تعاون کا محتاج ہو گیا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ میں بھارتی مداخلت اور بُغض پاکستان میں بھارت کی شر انگیزیوں و سازشوں سے ایران ، پاکستان تعلقات میں رخنہ پیدا ہوچکا ہے۔ ایران کی قدامت پسند پالیسوں کے خاتمے کے لئے عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں ۔ حکومت کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے ہیں ۔ عالمی پابندیوں کے خاتمے کے باوجود ایران مالیاتی بحران سے مکمل نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ ایرانی عوام کا آسودہ حال ہونا خواب بنتا جا رہا ہے ۔ ایرانی عوام کے تمام وسائل جنگوں میں خرچ ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں شام و یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کس کو فائدہ ہورہا ہے یہ سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔غوطہ میں نہتے ، معصوم بچوں اور عام شہریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کوئی ہالی وڈ کی فلم نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت ہے کہ یہ کوئی خواب نہیں جسے صبح اٹھنے کے بعد بھول جائیں ۔ یمن ہو ، عراق ہو ، لبنان ہو ، افغانستان ہو ، پاکستان ہو ،فلسطین ہو یا پھر شام ، سب جگہ صرف نقصان مسلمانوں کو ہے ۔ تباہ و برباد صرف مسلمان ہو رہے ہیں ۔ شدت پسندی کا شکار صرف امت مسلمہ ہو رہی ہے ۔ بستیاں صرف مسلمانوں کی اجڑ رہی ہیں ۔ نسل کشی مسلمانوں کی جا رہی ہیں۔غربت ، معاشی بدحالی صرف مسلمانوں کی ہو رہی ہے ۔ یہود، ہنود اور نصاریٰ کے غلام صرف مسلمان بن رہے ہیں ۔ کیا ہم کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں؟؟۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں