479

یہ دنیا امن اور محبت کا گلدستہ ہے

ڈاکٹرقمرفاروق

جب ریاست ماں کا کردار ادا کرتی ہے
میرے کانوں میں آج بھی اعتزاز احسن کی نظم کے بول رس گھولتے ہیں کہ “ریاست تو ہو گی ماں کے جیسی”اور واقعی ریاست ماں کے جیسی ہی ہوتی ہے جس کا عملی مظاہرہ میں نے اسپین کے صوبہ کاتالونیا کے دارالحکومت بارسلونا میں ہونے والی دہشت گردی میں دیکھا جب بادشاہ سلامت سے لے کر حکومت کے ہر فرد نے عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔اور کوئی ہمیں نا ڈرا سکتا ہے اور ناخوف زدہ کر سکتا ہے۔یہ عملی مظاہرہ ایک بار نہیں دو بار نہیں کئی بار ہوا ۔کبھی بادشاہ سلامت عوام کے درمیان موجود ہیں تو کبھی مقامی حکومت کا صدر اپنی عوام میں مل کر دکھ کی سانجھ نبھا رہا ہے۔یہی نہیں ایک ریاست اسی وقت ماں کا کردار ادا کر سکتی ہے جب اس کے ادارے اپنا کام ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کریں اور یہی ادارے اس کے بیٹے ہیں جو اپنی ماں کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں ۔اور کاتالو نیا کے اداروں نے بیٹوں جیسا کردار ادا کیا جس کی ادبی مثال
17 اگست کے سانحہ بارسلونا کے موقع پر فوری طبی امداد کے مراکز میں حادثہ کی اطلاع کے ٹھیک 6 منٹ پر ایمبولینس طبی عملہ کے ہمراہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا ۔جبکہ پہلا زخمی جس کا ہسپتال میں شروع کیا گیا وہ واقعہ کے 20 منٹ پر ہوا۔۔۔۔
بارسلونا اسپین طبی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔اور اس کی ایمرجنسی کی سہولت واقعی ایمرجنسی ہے۔۔جس کو انہوں نے سانحہ بارسلونا کے موقع پر عملی طور پر ثابت کیا۔یہ ایک بیٹے ادارے کی کہانی ہے ۔جبکہ بادشاہ سلامت کے ساتھ جن اداروں کو عوام نے سلام پیش کیا ان میں پولیس سرفہرست تھی۔باقی میں ایمرجنسی کے ادارے جن میں آگ بجانے ۔ڈاکٹرز ۔عام ٹرانسپورٹ شامل ہے ۔سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔
یہ ریاست ہے جسے اعتزاز احسن کہتا ہے “ریاست تو ہو گی ماں کے جیسی”
یہ دنیا امن اور محبت کا گلدستہ ہے
دہشت گردی کی مذمت اور سانحہ بارسلونا کے متاثرین سے اظہار یکجہتی ریلی جس میں ہزاروں افراد نے رنگ ونسل اور مذہب کی شناخت کے بغیر شرکت کی اور ایک ہی نعرہ لگاتے رہے کہ ہم دہشت گردی سے خوف زدہ نہیں ہیں۔
میں بھی اس ریلی میں شامل تھا ۔پاکستان کا نمائندہ تھا ۔میں بھی دہشت گردی سے متاثرہ ملک کا فرد ہوں مجھے بھی دہشت گردی سے نجات چاہیے، میں بھی دہشت گردی سے خوف زدہ نہیں ہوں ۔۔۔میں امن کے دیں کا ماننے والا ہوں ۔امن پسند ہوں اور دنیا کو امن کی جگہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔دنیا کے مختلف رنگ ونسل کے لوگ اللہ کی مخلوق ہیں ۔اور مختلف رنگوں کے پھول ہیں جو محبت اور امن کے گیت گاتے ہیں ۔ان پھولوں کے ملنے سے ایک گلدستہ بنتا ہے اور وہی گلدستہ یہ دنیا ہے۔
ادارے مضبوط ۔ملک مضبوط ۔قوم خوشحال
جہاں ادارے کام کر تے ہیں وہاں کی عوام ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔سانحہ بارسلونا میں پولیس کی کار کردگی پر عوام نے دل کھول کر داد دی ہے ۔کہیں تالیاں بجا کر تو کہیں پولیس اہلکاروں کو گلے لگا کر اور کہیں پولیس وین پر پھولوں کے گلدستے رکھ کر ۔۔یہ صرف پولیس کا ہی نہیں عوام نے شعبہ طب کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے ڈاکٹرز کی محنت اور کارکردگی کو سراہا گیا۔اس کے علاوہ دیگر سیکورٹی ادارے بھی شاباش لیتے نظر آئے ۔۔۔۔
ملکی ترقی شخصیات کی مضبوطی میں نہیں اداروں کی مضبوطی میں ہے اور یورپی ممالک کی ترقی کا راز اداروں کی مضبوطی میں ہے۔یہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے ۔اور پوری کرتا ہے۔
میں نے آج کاتالونیا کے سابق صدر کو دیکھا جو عوام میں موجود تھا لوگ آج بھی اس کے ساتھ اسی طرح محبت کااظہار کر رہے تھے جیسے کبھی صدر ہوتے ہوئے کرتے تھے۔
پولیس نے عوام کے سامنے سیکورٹی حصار بنایا ہوا تھا ایک خاتون نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار نے محبت بھرے انداز سے روکتے ہوئے کہا کہ اگر تم آگے جاو گی تو یہ سب بھی یہی کوشش کریں گے اور میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی ان کو روکنے کی ۔لہذا وہ خاتون وہی رک گئی اور اپنے عمل پر شرمندگی بھی محسوس کی۔یہ ہے تربیت جو قانون اپنے شہریوں کی کرتا ہے۔۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں