244

تارکین وطن اور ان کا ووٹ

تحریر:فیصل مرزا

پوری دنیا میں اس وقت تقریبا آٹھ ملین پاکستانی آباد ہیں۔ منسٹری آف اوور سیز پاکستان اینڈ ہیومن رائٹس کے مطابق 7.6 ملین پاکستانی بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔ چار ملین مشرق وسطی ، 2.25 ملین یورپ، 1.2 ملین شمالی امریکہ، 6 ملین براعظم ایشیا، جب کہ 1 ملین افریقہ میں رہ رہے ہیں۔ اس وقت برطانیہ کی دوسری بڑی کمیونٹی پاکستانی شہری ہیں، جن کی تعداد 1.5 ملین ہے۔ The United Kingdom UN Department of Economic and Social Affairs کے مطابق پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا تارکین وطن ہے۔ تارکین وطن اس لحاظ سے پاکستان بیس بلین ڈالز بیھجتے ہیں۔ تارکین وطن رقم تو بیھجتے ہیں مگر ماضی میں ان کو پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا گیا۔ تارکین وطن 1985 سے حق راے دہی کاحق مانگ رہے ہیں۔ ماضی میں نظر دوڑائی جاے تو 2013 کے عام انتخابات میں بھی تارکین وطن اس حق سے محروم رہے۔ سول سوسائٹی کی ممبر ڈاکٹر فرحت صدیقی، جو کہ پاکستانی-امریکی شہری ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جاے۔ اس کیس کو بیرسٹر داود غزنوی نے لڑا۔ 2013 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری نے بھی الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کیے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے عمل شامل کرنے کے ٹھوس اقدمات کیے جائیں۔ جنوری، 2018 کو چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک بینچ تشکیل دیا گیا جس میں جسٹس مشیر عالم، اور جسٹس ساجد شاہ شامل تھے- بینچ نے الیکشن کمیشن اور نادرا کو احکامات جاری کیے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو 2018 کے عام انتخاب میں حق راے دہی دینے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں۔ جس پر نادرا نے فروری 2018 کو ایک آن لان سافٹ ویئر جاری کیا۔ جس National Council of Province (NCOP) کا کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تمام بیرون ملک پاکستانی اس پلیٹ فارم پر جا کر آن لائن ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ ابھی بھی 2018 کے عام انتخابات میں 30 فیصد تارکین وطن ووٹ دے سکتے ہیں۔ جب کہ ستر فیصد ووٹ دینے سے محروم رہیں گے۔ اس طریقہ کار سے بیرون ملک پاکستانیوں کو جہاں آئینی حق ملے گا ہی مگر اس کے نتائج کچھ زیادہ اچھے نہیں ہونگے۔ اگر پاکستان کا الیکشن کمیشن کا نظام دیکھا جاے جو کہ ابھی تک فرسودہ حالت میں ہے۔ الیکشن کمیشن ملک کے وزیر اعظم کے تابع ہے۔ جس سے الیکشن کمیشن پر براہ راست سیاسی اثرورسوب آسانی سے جمایا جا سکتا ہے۔ دوسرا عام انتخابات میں بیلٹ سسٹم چل رہا ہے۔ ایک طرف تو بیلٹ سسٹم ہو گا تو دوسری طرف الیکٹرونک سسٹم ہو گا جو کہ آن لائن ہو گا۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی گئی کہ آن لائن ووٹ آیا محفوظ ہو گی کہ نہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال حالیہ امریکی الیکشن تھے۔ جس میں بہت بڑی تعداد میں روس نے ووٹ چوری کیے۔ پس پردہ روس نے ٹرمپ کو جتوا دیا۔ جب کہ ہیلری کلنٹن کے مقبول ووٹ ٹرمپ کی نسبت زیادہ تھے۔ لیکن ٹرمپ پھر بھی جیت گئے۔ ایسی ہی صورتحال پاکستان میں آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک بٹن کے فاصلے پر ملین ووٹ چوری کیے جا سکتے ہیں۔ 2013 کے الیکشن جو کہ آرمی بگرانی میں ہوے، اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ 2013 کے انتخابات میں بہت بیقائدگیاں سامنے آئی ہیں۔ جن کو دھاندلی کہا جاے تو غلط نہ ہو گا۔ اگر 2008 اور 2013 کے الیکشن نتائج کا موازنہ کیا جاے تو 2013 میں 46.6 ملین افراد نے ووٹ ڈالے, جبکہ 2008 میں 34.8 ملین تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہیکہ 11.8 ملین ووٹ اضافی ڈالے گئے۔
آئرلینڈ جس کی ٹوٹل آبادی 4.773 ملین ہے۔ اور اس کی ٹوٹل آبادی سے زیادہ لوگ بیرون ملک مقیم ہیں۔آئرش گورنمنٹ نے اوورسیز آئرش لوگوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا۔ اسی طرح برطانوی قانون کے مطابق ایک خاص عرصہ تک ملک سے باہر مقیم رہنے سے ووٹ کا حق واپس لے لیا جاتا ہے۔ جب کہ امریکہ اور فرانس میں صورتحال اس کے مختلف ہے۔ امریکہ اور فرانس کی مثال دینے والوں کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہاں صدارتی نظام حکومت ہے۔ اور لوگ براہ راست اپنے ملک کا سربراہ منتحب کرتے ہیں، نہ کہ کسی علاقے کا ممبر اسمبلی، جس کا کام الیکشن جیتنے کے بعد اسمبلی جا کر اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل کا حل کرنا ہوتا ہے۔
اوورسیز منسٹرز کی اگر ہسٹری دیکھی جائے تو ہمیں کامران مائیکل اور فاروق ستار جیسی شکلیں یاد آ جاتی ہیں۔ جو کبھی بھی اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا تو دور کی بات ہے، ان مسائل کو سمجھ بھی نہیں پائینگے۔ اسی طرح اگر بیرون ملک تارکین وطن آج عام الیکشن میں شامل ہونے کا حق مانگ رہے ہیں تو کچھ عرصے بعد وہ قومی اسمبلی اور سینٹ تک رسائی کا مطالبہ کرینگے۔ بے شک باہر کے تعلیم یافتہ افراد قومی اسمبلی اور سینٹ میں جگہ بنا بھی لیں مگر وہ عام پاکستانیوں کی نمائندگی نہیں کر پائینگے۔ ان کو عام شہریوں کی مشلات اور ان کے رسم و رواج کا کم ہی پتہ ہو گا۔ کیونکہ ان کی زیادہ زندگی باہر ملک گزری ہے اور وہ اپنے شہریوں کے طرز زندگی اور ان کی مشکلات سے ناآشنا ہی رہیں گے۔ آٹھ ملین لوگوں کو ان کے ممالک کے حساب سے نمائندگان چاہیے۔ جو ان کے ووٹ حاصل کر کے پاکستان جائیں، اور اسمبلی میں بیٹھ کر ان کے مسائل حل کریں۔ جیسا کہ برطانیہ، یورپ، امریکہ، مڈل ایسٹ، اور فار ایسٹ میں آج کل پاکستانیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔
رہی بات ووٹ کے حق کی تو وہ پہلے بھی سب کے پاس ہی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان میں فوج کی نگرانی میں بھی دھاندلی ہو سکتی ہے، تو اس کا مطلب یہاں سفارت خانوں سے آن لائن ڈالے گئے ووٹ ایک سنگل کلک پر من پسند جماعت کو ڈلوا کر وہاں بیٹھے پاکستانیوں کے ساتھ بہت بڑی سازش کا شاخسانہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ دھاندلی کا دائرہ کار وسیع ہونے کا اندیشہ ہے۔
بلاشبہ تمام پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ مگر تارکین وطن اگر عام الیکشن میں اپنا حصہ ڈالیں گے تو بہت سی پچیدگیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ پہلے ہی الیکشن کمیشن پر میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن سیاسی اثرورسوب کے تابع ہے۔ بجاے قانونی ماہرین اور تجربہ کار ججوں کو تقررکیا جاے۔ محکمہ تعلیم کے ناتجربہ کار طالب علموں کو آفیسرز بنا دیا جاتا ہے۔ جو جوڈیشری پڑھ کر الیکشن کمیشن کے قانون وضع کرتے پھرتے ہیں۔ دوسرا الیکشن عملہ ناتجربہ کار ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر آن لائن ووٹنگ کی جاے تو تجربہ کار قانونی ماہرین کو آگے نہیں لایا جاے گا۔ آئی-ٹی ماہرین کو نگرانی پر لگا دیا جاے گا جن کو آئین کی الف، بے بھی پتہ نہیں ہو گی اور وہ ووٹ کا تحفظ نہیں کر پائینگے۔ تیسرا جو منسٹرز تقرر کیے جاتے ہیں ان کا اور میرٹ کا دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا جیسے حالیہ پاکستان وزیر اعظم خاقان عباسی نے علی جہانگیر صدیقی کو امریکی سفیر مقرر کر دیا ہے جو کہ بزنس مین ہیں۔ وہ امریکہ میں موجود پاکستانیوں کی نمائندگی نہیں کر پائینگے کیونکہ۔ایک۔بزنس مین سفارت کاری کا تجربہ نہیں رکھتا۔ موجودہ الیکشن کمیشن کے فرسودہ نظام کے زیر سایہ بیرون ملک کے ووٹ آسانی سے ہیک کیے جا سکتے ہیں۔ ایک طرف من پسند نتیجے نکالے جا سکتے ہیں، تو دوسری طرف پاکستان میں موجود عوام کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں