263

بیرون ممالک قیدی

فیصل مرزا

بیرون ملک اس وقت پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ منسٹری آف اوور سیز اینڈ ہیومن رائٹس کے مطابق 7.6 ملین پاکستان بیرون ملک رہائش پزیر ہیں۔ جن میں 96% پاکستانی آبادی گلف ممالک میں رہائش پذیر ہے۔ جن کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں کام کرنے کے غرض سے جاتی ہے۔ اسی طرح یورپ اور دوسرے ممالک میں بھی پاکستانی بہتریں زندگی گزارنے اور جاب کے سلسلے میں جاتے ہیں۔ سال 2017 میں اوورسیز پاکستانیوں کی ایک رپورٹ قومی اسمبلی میں لائی گئی جس کے مطابق، 947،718 پاکستانی کام کی غرض سے بیرون ملک گئے۔ 522،932 افراد ڈیپنڈد ہیں۔ منسٹری آف اوورسیز ادارہ ہونے کے باوجود پاکستانیوں کو بیرون ممالک بہت سی مشکالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں کام کرنے والے افراد کو تنخواہوں کی عدم عدائیگی، غیر میعاری رہائش، Foreign Services Agreement (FSA) کا غیر نفاذ، NICOP کارڈ کے اجرا میں پیچیدگیاں، OPC(Overseas Pakistan Commission)) اور Machine Readable Passport کے اجرا میں سست روی، اور سخت سکیورٹی کے قوانین شامل ہیں۔ منسٹری آف فارن آفئیرز ہیومن رائٹس ڈیولپمنٹ کے مطابق دنیا بھر میں بیرون ممالک پاکستانیوں کے لیے انیس دفاتر بناے گئے ہیں، پاکستانی کمیونٹی والفئیر کے سولہ functional mission چودہ ملکوں میں موجود ہیں۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد گلف ممالک میں موجود ہے جہاں پاکستانیوں کو بہت سی مشکلات کا شکار کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ ترسیلات زر بھیجنے کے لیے اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور منسٹری آف فارن آفئیرز نے Pakistan Remittance Investigations 2009 میں بنایا۔
مگر ان سب اصلاحات کے باوجود بیرون ملک پاکستانیوں کا استحصال جاری ہے۔ جن میں سب سے زیادہ گلف ممالک میں پاکستانیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ جیسے سعودی عرب میں حالیہ معاشی بحران کی وجہ سے، 2016 سے اب تک 8،500 پاکستانیوں کو سعودیی عرب کی کمپنیوں کی طرف سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ پاکستانی کمیشن سعودی عرب کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی ورکرز کی تعداد 8500 ہے۔ جن میں سے معاشی بحران کی وجہ سے 4856 افراد کو جدہ، ریاض، اور دمام سے ڈپورٹ کیا گیا۔ پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں پھنس کر رہ گئی تھی اور حکومت پاکستان نے کوئی توجہ نہ دی۔ متاثرین نے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر بھیجیں تو مسلہ میڈیا پر آیا۔ یوں حکومت پاکستان حرکت میں آئی اور مہینوں بعد جیلوں اور سڑکوں پر پڑے پاکستانیوں کو واپس ملک لائی۔ اسی طرح دبئ، کویت، اور قطر میں بھی پاکستانی مزدور برادری کی حالت قابل رحم ہے۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں پانچ افراد سوتے ہیں۔ اور کچھ مزدور کمیونٹی باری باری آنے پر سوتے ہیں۔ ویانا کنویشن کے مطابق گلف ممالک پاکستانیوں کے کیس حکومت پاکستان کے ساتھ ایکسچینج نہیں کرتے۔ اس صورت الحال میں حکومت پاکستان کو بیرون ملک پاکستانیوں کی مشکلات تک رسائی رکھنا ہو گی۔ جو کہ نظر نہیں آتی کہیں بھی۔ اس کے علاوہ پاکستانیوں کو ائیرپورٹز پر سخت سیکیورٹی کا سامنا رہتا ہے۔ جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور حکومت پاکستان اس مسلے میں نہیں بولتی۔ حالیہ برطانیہ میں ہونے والے امیگریشن اسکینڈل میں برطانیہ کی وزیر داخلہ نے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کیا اور سالوں سے رہنے والے امیگریشنز کو ملک بدر کیا۔ جن میں افریقہ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ ان ممالک کی حکومتوں نے برطانیہ سے احتجاج کیا جس کے جواب میں تمام بے دخل کیے گئے تارکیں وطن کو برطانیہ نے اپنے خرچے سے واپس برطانیہ لایا۔ حالیہ ایتھوپیا کے صدر کا دورہ سعودی عرب اس کی اہم مثال یے۔ جس میں ایتھوپیا کے صدر نے اپنے ملک کے تمام قیدی جو سعودی جیل میں قید ہیں۔ انہیں رہا کرنے کی اپیل کی۔ یعنی کہ دوسرے ملکوں کے رہنما اپنے شہریوں کی فکر کرتے ییں اور پاکستان کے رہنما کروڑوں روپے ایک دورے پر لگا کر ایسے ہی ہاتھ ملا کر اور گھوم پھر کر واپس آ جاتے ییں۔ پاکستان کے سفارتی اداروں نے کبھی اپنے شہریوں کے لیے بیرون ملک کبھی سخت آواز اٹھائی ہی نہیں۔
غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے والوں 13،777 پاکستانیوں کو یورپ سے بے دخل کیا گیا۔ جب کہ سعودی عرب سے سیکیورٹی کی بنیاد پر 130 پاکستانی ورکروں کو نکالا گیا۔
دنیا بھر میں 2014 سے اب تک 8،597 افراد مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ ان قیدیوں کو گورنمنٹ آف پاکستان تک کونسل رسائی تک حاصل نہیں ہے۔ 2017 میں چھ پاکستانی ترکی میں تاوان مافیا کے ہاتھوں بے دردی سے مارے گئے اور کچھ ان کی قیدی رہے۔ حکومت پاکستان نے ان کے لیے فوری اورخاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ مسلہ یہاں بھی جب سوشل میڈیاتک پھیلا تو پاکستان کا قانون حرکت میں آیا۔ اسی طرح انڈونیشیا میں موجود پاکستانی شہری ذوالفقار علی خان جن کو پھانسی کی سزا ہوئی اور وہ کینسر کے مریض بھی ہیں۔ پاکستان گورنمنٹ ان کو پاکستان لانے میں ناکام رہی۔ ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو کون نہیں جانتا۔ اوبامہ دور حکومت کے خاتمے کے وقت عافیہ کو واپس لاے جانے کا موقع دیا گیا۔ جسے ہماری حکومت اور قانونی اداروں کی غفلت نے موقع گنوا دیا۔ حالیہ امریکی ریاست ٹیکساس میں ہونے والے اسکول فائرنگ حملے میں پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ بھی جاں بحق ہوئی۔ جو کہ۔ایک۔ایکسچنچ پروگرام کے تحت زیر تعلیم تھی۔ سبیکا کے جنازے اور میت کو واپس لانے کے سارے انتظامات پاکستانی نثراد کانسلیٹ افشاں فاروقی نے کیے جو کہ ہوسٹن میں ہیومن ریسورس پروفیشنل ہیں۔ یہاں بھی حکومت پاکستان کی مداخلت فوری نظر نہ آئی۔
دنیا بھر میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ جن تک ملکی سفارتکاروں کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالیہ پاکستان کے سفیر ایک بزنس مین کو بنا دیا گیا۔ اب یہ کاروباری حضرات کیسے پاکستان کی ورکنگ کمیونٹی کا درد اور مسائل سمجھ سکیں گے۔ جن کی اولین ترجی باہر اپنے کاروبا کو بڑھانا ہوتا ہے۔ پاکستان میں امریکی کرنل جوزف کی گاڑی کی ٹکر سے معصوم شہری کا قتل عام اور انہیں بغیر کسی ٹرائل کے جانے دینا۔ اوریہ کہہ دینا کہ ان کو سفارتی اشتثنی حاصل ہے۔ اس سے بڑا اور ظلم کیا ہو گا جو ہم اپنے ملک کے قوانین کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کا کیس بھی سب کے سامنے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے عظیم ملک اپنے شہریوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔ پاکستان کے شہری بلاشبہ بیرون ملک بہت ہی نازک صورت حال میں ہیں۔ پاکستان کا بیرون ملک موجود سفارتی نظام بہت ہی کمزور ہے۔ اور عام پاکستانیوں تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا میں نہ ہمارے پاسپورٹ کی اہمیت ہے نہ ہی پاکستانیوں کی کوئی اہمیت ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں