249

گھر کے نہ گھاٹ کے

تحریر فیصل مرزا
ایک بڑی تعداد میں یو کے کے سٹوڈنٹ ویزا لگ رہے تھے اور پاکستان سے نوجوان دھڑا دھڑ ایجوکیشن کنسلٹنٹس کے پاس اپنی فائلیں جمع کروا رہے تھے، اور ایجوکییشن کنسلٹنٹس بھی دونوں ہاتھوں سے پیسے بلکل پاکستان میں بیٹھ کر پاؤنڈز کما رہے تھے۔
یہ بات ہے ۲۰۰۹ کی جب یو کے نے اپنی سٹوڈنٹ ویزا پالیسی اس حد تک نرم کر دی کہ جو نوجوان کبھی دبئی جانے کا بھی نہ سوچ سکتا تھا وہ لندن کے خواب پورے ہوتے دیکھنے لگا، انہیں نوجوانوں میں مبین بھی تھا جس نے جیسے تیسے کر کے پانچ لاکھ میں لندن کا ویزا لگوا لیا اور آنکھوں میں ایک تابناک مستقبل کا خواب لئے لندن وارد ہو گیا۔

لیکن یہاں آکر پہلے ہی سال میں اسے احساس ہو گیا کہ یہ دور سے نظر آنے والی جنت تو باقاعدہ دردناک عذاب ہے جہاں جاب تو دور کی بات رہنے کے لئے نہ رہائش اور نہ بنیادی سہولیات تک رسائی ہے اوپر سے اپنے جیسے دکھنے والے دیسیوں کے رویے اور سب سے بڑھ کر اگلے سال کے ویزا ایکسٹینشن کی فیس کی ٹینشن اسے پاگل کر رہی ہے۔
جیسے تیسے کر کے مبین نے دوسرے سال کا ویزا تو ایکسٹنڈ کروا لیا لیکن جو پیسے وہ پاکستان سے خرچ کر کے یہاں پہنچا تھا ابھی تک تو وہ بھی اپنی فیملی کو نہ لٹا سکا اور تو اور حکومت برطانیہ نے اگلے سال ویزا ری نیو نہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا اور ساتھ ہی آپریشن کلین اپ بھی شروع کر دیا کیونکہ ان کا تو پلان ہی یہ تھا کہ سٹوڈنٹ ویزا جاری کر کے اپنی اکانومی کو فائدہ دو اور بعد میں ان جعلی سٹوڈنٹس کو ملک بدر کر دو۔

مبین حالات کی نذاکت کو سمجھتے ہوئے بیل فاسٹ سے بارڈر کراس کر کے آئرلینڈ آگیا کہ شاید یہاں کاغزات کا کچھ معاملہ بن جائے لیکن یہاں بھی جعلی وکیل اور اکاؤنٹنٹ اس کے انتظار میں تھے جنھوں نے ویزا کا جھانسہ دے کر اس کی جیب ملکمل خالی کر دی اور مبین دو برس آئرلینڈ میں دھکے کھانے کے بعد جیل جانے کے ڈر سے اسائلم کی درخواست دینے پر مجبور ہو گیا۔
اب بغیر کاغزات مبین کو آئرلینڈ میں بھی تقریباً سات برس ہو چکے ہیں اور ابھی تک نہ اسے کام کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی ملک چھوڑنے کی اور ان نو برسوں نے مبین سے جو کچھ چھینا ہے اس بارے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، ایک طرف والد کی وفات اور دوسری طرف نو برس تک فیملی کے لئے کچھ نہ کرنے کے غم کے ساتھ ساتھ اپنا مستقبل تاریک دیکھ دیکھ کر اسے ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔

اس طرع کے ہزاروں ملتے جلتے واقعات یورپ بھر سے لے کر مڈل ایسٹ تک اور آسڑیلیا سے لیکر کینڈا تک پاکستانیوں کے ساتھ پیش آئے ہیں جو اپنے ملک کے حالات سے تنگ آ کر ان ممالک کا رخ تو کر بیٹھے ہیں لیکن یہاں آ کر ان کے ساتھ جو بیتی ہے اس کا ذکر نہ تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جو ان کے زخموں پر مرحم رکھنے کی سکت رکھتا ہو۔

ایسی بہت سی کئی مثالیں جو منظر عام پر آنی لگ جائیں تو انسانی حقوق کے علمبردار ملکوں اور پاکستان کی وقت حکومت کی ناکامیاں بلاشبہ سامنے آ جائینگی۔ حالیہ کچھ سالوں سے یورپ میں پاکستانی شہریوں کے ویزے کینسل کیے گئے۔ جیسے کہ برطانیہ نے غیر اعلانیہ ویزہ پالیساں لاگو کر کے بہت زیادہ پاکستانیوں کے ویزے ریجیکٹ کیے۔ Immigration Statistics Quarterly Release of the Home Office UK Government کے مطابق 2005-20015 تک 1.74 ملین پاکستانیوں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ جن میں سے 1.13 ملین پاکستانیوں کو ویزے جاری کیے گئے۔ جن میں ورک اور فیملی ویزے، اسٹوڈنٹ ویزے، ٹورسٹ ویزے، دیے گئے۔ جن میں سے 65.35% درخواستیں وصول کی گئیں۔ اور 34.65% درخواستیں مسترد کی گئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسترد درخواستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا۔ 2015 میں وصول شدہ درخواستیں کم ہوئیں۔ جو کہ 53.66% تھیں اور مسترد 46.34% تھیں۔ جو کہ ماضی کی نسبت زیادہ تھیں۔

برطانیہ جیسے ملک نے حال میں ہی سستے ویزوں کا اجرا کیا جن میں دنیا میں لوگوں اور طالبہ کی ایک بڑی تعداد نے برطانیہ کا رخ کیا۔ چونکہ برطانیہ ابھی فی الوقت معاشی بحران میں بھی گھر چکا ہے۔ Brexit کی وجہ سے برطانیہ کی معیشت میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔ اب ڈوبتی معیشت کے خلا کو پورا بھی کرنا تھا۔ برطانوی پالیسیوں کی ڈبل گیم شروع ہوئی اور تارکین وطن نے برطانیہ کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر اس حقیقت سے راز اٹھا کہ ویزے کی نرم اور سستی پالیسیاں اصل میں دنیا بھر سے تارکین وطن کو اپنی طرف کھینچنا تھا۔ جن سے بعد میں بھاری فیسیں اور ویزے کی سخت پالیسیوں کو اپنا کر ان سے پیسے بٹورے جانے تھے اور ان تارکین وطن کا استصحال دوسری طرف ہے۔
اسی طرع سے آج کل آئرلینڈ میں برطانوی طرز کا کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی لوگوں کو نشانہ بناتے ہوئے دھڑا دھڑ ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے، بتایا جاتا ہے یہ سب برطانوی بارڈر فورس یو کے بی اے کی ٹرینگ اور انفارمیشن شئیر نگ کا نتیجہ ہے۔

یہ استحصال باہر ملکوں میں ہی نہیں بلکہ اپنے ملک سے ہیشروع ہو جاتا ہے۔ حالیہ ایک آن لائن نیوز ایجنسی کے مطابق برٹش کمیشن اسلام آباد نے ہزاروں پاکستانیوں کے ویزہ درخواستیں مسترد کی ہیں وہ بھی بغیر کسی جائز وجہ کے۔ اب ایک درخواست گزار کتنی محنت سے پیپر ورک مکمل کرتا ہے۔ فیس بھرتا ہے جو کہ 14 ہزار سے ایک لاکھ تک بن جاتی ہے۔ اور بہت سارے کیسوں میں درخواست کو دوبارہ چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہ استحصال اپنے ہی ملک کے ہوتے ہوے اپنی ہی عدالتوں اور قانونی اداروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اور آج تک حکومت پاکستان نے برطانیہ کی ایسی دوہری ویزہ پالیسوں پر نہ کبھی احتجاج کیا اور نہ ہی کبھی پاکستانیوں کے لیے قانونی آواز اٹھائی ہے۔

جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس ناانصافی اور ظلم کے بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ اگر ٹور ویزہ بھی لیا جاے تو ٹور کا سابقہ ریکارڈ دیکھنا، بنک رسیدوں کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی اپنے بچوں کی گریجویشن تقریب میں جانے کے لیے اپلائی کرے اس صورت میں بھی

حالیہ ایک آن لائن نیوز ایجنسی کے مطابق برٹش کمیشن اسلام آباد نے ہزاروں پاکستانیوں کے ویزہ درخواستیں مسترد کی ہیں وہ بھی بغیر کسی جائز وجہ کے۔ اب ایک درخواست گزار کتنی محنت سے پیپر ورک مکمل کرتا ہے۔ فیس بھرتا ہے جو کہ 14 ہزار سے ایک لاکھ تک بن جاتی ہے۔ اور بہت سارے کیسوں میں درخواست کو دوبارہ چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہ استحصال اپنے ہی ملک کے ہوتے ہوے اپنی ہی عدالتوں اور قانونی اداروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اور آج تک حکومت پاکستان نے برطانیہ کی ایسی دوہری ویزہ پالیسوں پر نہ کبھی احتجاج کیا اور نہ ہی کبھی پاکستانیوں کے لیے قانونی آواز اٹھائی ہے۔

جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس ناانصافی اور ظلم کے بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ اگر ٹور ویزہ بھی لیا جاے تو ٹور کا سابقہ ریکارڈ دیکھنا، بنک رسیدوں کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی اپنے بچوں کی گریجویشن تقریب میں جانے کے لیے اپلائی کرے اس صورت میں بھی فیملی ریکارڈ دیکھا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ برطانیہ کی Colonization ابھی تک ہم پر جاری ہے۔ اسی طرح امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے میں بھی تقریبا اسی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔ امریکہ میں تو پاکستانی سفیروں کی زندگی محدود کر دی گئی ہے تو ایک عام پاکستانی شہری کس حال میں ہو گا۔ باقی ملکوں کی نسبت پاکستانی اسٹوڈنٹس پر سخت ویزہ پالیسیاں لگائی جاتی ہیں۔ جن میں زیادہ تر میل اسٹوڈنٹ اس ظلم کا شکار بنتے ہیں۔ جرمنی کی شہریت حاصل کرنے کے دوران پاکستانیوں کو انڈین شہریوں کی نسبت سخت سیکیورٹی طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔ مشرق وسطی میں ویزہ تو مل جاتا ہے مگر وہاں مزدور طبقہ قابل رحم حالت میں ہے۔ اور یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ، پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کی الگ لائن بنا دی جاتی ہے جہاں انہیں سخت چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ حالیہ پاکستانی وزیر اعظم کا امریکی ائیرپورٹ پر کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی۔ تو ایک عام پاکستانی کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ، یورپی اور مغربی ملکوں کی دوہری میعار کی ویزہ پالیسیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کے ویزے حاصل کرنے کے لیے معصوم لوگوں کو دھوکے سے جال میں پھنسایا جاتا ہے اور اس صورت حال سے گزرنے والے ہزارو کی تعداد میں لوگ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں