12

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی،بارسلونامیں مسلمان کمیونٹی کا مظاہرہ،قتل وغارت کی بھرپور مذمت

بارسلونا (ورلڈ پوائنٹ)بارسلونا میں مقیم مسلمان اور پاکستانی کمیونٹی نے گزشتہ روز ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں شرکاء نے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل و غارت گری کو انسانیت کا قتل اور سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ سے معاملے کا نو ٹس لینے اور سنجیدگی سے اس غیر انسانی فعل کو روکنے کی اپیل کی ہے۔یہ مطالبہ بارسلونا کے معروف مقام ’’پلاسا کاتالونیا‘‘پر ہونیوالے مظاہرے کے شرکاءنے کیا۔مظاہرین کا موقف تھا کہ برما میں بدھ مت کے ماننے والے ہیں جبکہ ان کے پیشوا گوتم بدھا نے بھی امن و آشتی کا پیغام دیا ہے اور برما میں نسل انسانی کے خاتمے کے اس قابل شرم فعل سے بدھا کی روح بھی کانپ اٹھی ہوگی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے دنیا میں انسانی حقوق پر مبنی تنظیموں سے اپیل کی کہ میانمار میں جاری قتل و غارت کو روکا جائے اور تمام اسلامی ممالک کو اس وقت بنگلہ دیش کی طرف اپنی امداد بھیجنی چاہیے اور مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی برما کے نہتے مسلمانوں پر ظلم و بربریت پر خاموشی ناقابل فہم ہے،شرکا مظاہرہ کا موقف تھا کہ انسانی حقوق کے علم بردار برما میں ہونے والے غیر انسانی واقعات اور نہتے انسانوں پر ظلم،قتل وغارت گری کا نوٹس لیں۔مظاہرین کا موقف تھا کہ دنیا کے ہر ملک میں اقلیتوں کو ان کے حقوق کا تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور اقوام متحدہ اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیں اور جلد ازجلد اجلاس طلب کرکے قتل و غاری گری کے غیر انسانی عمل پر پابندی لگائی۔مظاہرین نے نعرہ بازی بھی کی اور کہا کہ ’’خونریزی بند کرو،نہتے مسلمان کا قتل عام بندکرو‘‘۔مظاہرے میں پاکستانی ،بنگلہ دیشی ،مراکشی اور بھارتی مسلمانوں نے شرکت کی،اسکے پاکستان کی دیگر سیاسی ،سماجی اور کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں چوہدری امتیاز آف لوراں،چوہدری اختر علی آف چھوکر کلاں ،چوہدری مسرت آف چھوکر کلاں، چوہدری عاصم گوندل،راجہ اسد حسین ،ثاقب طاہر،حافظ عبدالرزاق صادق،طاہر فاروق وڑائچ،سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ارنسٹوکاریون،جیکلین اور دیگر نے شرکت کی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں