136

فرانس کا مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

پیرس(ورلڈ پوائنٹ نیوز) فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی دینے سے متعلق فیصلے پر ملک بھر میں تبصرے کیے جارہے ہیں، ایک جانب حمایت اور دوسری جانب مخالفت کا بھی سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ فرانسیسی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایمانوئیل میکرون نے یقین دلایا ہے کہ وہ ملک میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے لیے قانون سازی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اور جمہوریہ فرانس کے درمیان پیچیدگی کا کوئی سبب ہرگز نہیں ہے، ہم فرانس میں مسلمانوں کے امور کو مزید سہل بنانے کے لیے نئے قواعد وضح کریں گے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ ہم مسلمانوں کو اپنے ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگیاں بسرکرنے کے لیے مزید سہولیات مہیا کریں گے اور انہیں ہرممکن آزادی فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے مذہبی امور کو کسی رکاوٹ کےبغیر ادا کرسکیں۔

ایمانوئیل میکرون کا مزید کہنا تھا کہ فرانس میں لوگوں کو سماجی اور مذہبی آزادی ہے اور ملک کو کسی خاص مذہبی طبقے کی علامت بنانا انسانی اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔

یاد رہے کہ فرانس میں اگرچہ آبادی کی اکثریت عیسائیت پر مشتمل ہے مگر ملک میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ لاکھ سے زائد اور مساجد کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہیں۔

خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں