139

’زیہوفر کی سالگرہ‘ پر ملک بدر کیے گئے افغان مہاجر کی خودکشی

برلن(ورلڈ پوائنٹ نیوز) جرمن وزیر داخلہ نے اس امر پر ’اطمینان‘ کا اظہار کیا تھا کہ ان کی انہترویں سالگرہ پر اتنے ہے افغان مہاجرین کو جرمنی سے ملک بدر کیا گیا۔ اب ان میں سے ایک افغان نے خودکشی کر لی جس کے بعد زیہوفر تنقید کی زد میں ہیں۔

جرمنی نے گزشتہ ہفتے انہتر افغان تارکین وطن کو اجتماعی طور پر ملک بدر کرتے ہوئے واپس افغانستان بھیج دیا تھا۔ جرمنی سے یہ اب تک افغانستان واپس بھیجے جانے والا تارکین وطن کا سب سے بڑا گروپ تھا۔ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے اور بعد ازاں ملک بدر کر دیے جانے والے ان افغان شہریوں میں افغان صوبے بلخ سے تعلق رکھنے والا ایک تئیس سالہ تارک وطن بھی شامل تھا۔

مہاجرت سے متعلق افغان وزارت نے بتایا ہے کہ کابل واپسی کے بعد اس تئیس سالہ نوجوان نے دس جولائی بروز منگل خودکشی کر لی۔ افغان حکام کے مطابق افغان دارالحکومت میں مہاجرین کے لیے بنائے گئے ایک کیمپ میں اس نوجوان نے رسی کی مدد سے خودکشی کی۔

دوسری جانب جرمنی میں عین اسی روز ملکی وزیر داخلہ نے مہاجرت سے متعلق اپنے ’ماسٹر پلان‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدری میں اضافے کا اعلان کیا۔ اس دوران انہوں نے اس بات پر ’اطمینان‘ کا اظہار بھی کیا کہ ان کی انہترویں سالگرہ کے روز اتنے ہی افغان شہریوں کو جرمنی سے خصوصی طیارے کے ذریعے ملک بدر کیا گیا۔

جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت لنکے سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمان اُولا یلپکے نے وزیر داخلہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجنا قتل کے مترادف ہے۔ ملک بدر کیے گئے افغان تارک وطن کی خودکشی اور زیہوفر کا ملک بدر کیے جانے پر اعلانیہ خوشی کا اظہار یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں انسانیت کی کمی کا لا علاج مرض لاحق ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی چانسلر انگیلا میرکل انہیں وزارت سے برطرف کر دیں۔‘‘

دوسری جانب سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروئڈر نے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کو برطرف نہ کرنے پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جرمن میگزین ’شٹرن‘ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں سابق چانسلر کا کہنا تھا کہ مہاجرت کے معاملے پر چانسلر میرکل اور وزیر داخلہ کے مابین اختلافات کے دوران میرکل نے ’کمزور قیادت‘ کا مظاہرہ کیا۔ شروئڈر کے مطابق کوئی وزیر ملکی چانسلر کو الٹی میٹم نہیں دے سکتا اس لیے ’بعض اوقات انہیں لگام دینا لازمی ہو جاتا ہے‘۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں