148

شریف فیملی کو سزا،ٹرمپ انتظامیہ نے محتاط اندازاختیارکرلیا:امریکی تھنک ٹینکس

واشنگٹن(ندیم منظور سلہری ) پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے امریکی تھنک ٹینک اداروں کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شریف فیملی کو سزا اور اسکے کیخلاف سپریم کورٹ و دیگر عدالتوں کے فیصلوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کے حوالے سے محتاط انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ سویلین قیادت کی نسبت اپنی فیورٹ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تمام معاملات طے کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ امریکہ کے تحقیقاتی ادارے سٹیمسن سنٹر انسٹیٹیوٹ کے معروف سکالر سمیر لال وانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دینا ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح نہیں ہے ۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے بارے میں محتاط انداز اپنایا ہوا ہے ۔ امریکہ کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اپنے مفادات کو دیکھتا ہے ۔ ماضی میں بھی اور موجودہ انتظامیہ کی بھی یہی پالیسی ہے کہ پاکستان میں جسکی بھی حکومت ہو خواہ وہ سویلین ہو یا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی امریکہ دونوں کیساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے الیکشن پر احتیاط سے کام لے رہی ہے ۔پروفیسر میلٹن ناویرا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی سزا کیخلاف کسی بھی ملک نے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا کیونکہ منی لانڈرنگ کا دھبہ اتنا خطرناک ہے کہ کوئی ملک بھی اس کیس میں ملوث کسی شخص کی حمایت نہیں کر سکتا ۔

ڈاکٹر سٹیو ایم لین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جس پارٹی کی بھی حکومت آئے ٹرمپ انتظامیہ اسکے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہو گی۔ امریکہ کا اس وقت اگر کوئی فیورٹ ہے تو وہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے ۔ معروف ریسرچر رابرٹ مائین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عام انتخابات پر سب کی نظریں ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کبھی بھی اس گروپ کی حمایت نہیں کریگی جس کے مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ تعلقات ہوں یا منی لانڈرنگ اور کرپشن جیسے کیسوں میں وہ سزا یافتہ ہو۔ امریکی ادارے اس وقت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، اسی وجہ سے پاکستان کے ادارے بااختیار ہو کر فیصلے کر رہے ہیں ۔

ساوتھ ایشین امور کے ماہر آرنیڈو فرینڈس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر واضح کر دیا ہے کہ ہمارا کسی بھی طرح اس الیکشن میں کوئی کردار نہیں ہو گا ۔امریکہ پاکستان کے تمام جمہوری اداروں کا احترام کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پروان چڑھے ۔ پاکستانی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی خاموشی کا واضح مطلب یہی ہے کہ امریکہ پاکستان میں کسی کرپٹ سیاستدان کو پسند نہیں کرتا ۔

بھارت سے شائع ہونیوالے ہندی اخبار جن ستہ نے ” نواز کا مقدر ” کے عنوان سے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ نواز شریف کیخلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ نے پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے ۔ ماضی میں نواز شریف مختلف بحرانوں سے نکلنے میں تو کامیاب ہو گئے تھے لیکن اس بار شاید وہ اقتدار میں اپنی باعزت واپسی کو ممکن نہیں بنا سکتے ۔ شریف فیملی کے گرد گھیرا تنگ ہونا انکے زوال کی نشانی ہے ۔ اس الیکشن میں نواز شریف کی جماعت کا اقتدار میں آنا بالکل ناممکن ہے ۔شریف خاندان کے افراد عدالتی شکنجے کا الزام ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دیتے ہیں ۔

(بشکریہ 92نیوز)

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں