18

گیارہ ستمبر،محمد علی جناح اور روہنگیا کے مسلمان ۔۔ڈاکٹر قمرفاروق

کاش میرا قائد بھی زندہ ہوتا
11 ستمبر کی تاریخ کئی حوالوں سے دنیا کی تاریخ میں اہم ترین ہے۔11 ستمبر بانی پاکستان قائد اعظم محند علی جناح کی تاریخ وفات ہے۔جو ہمارے لئے نہایت اہم ہے۔قائد نے ہمیں ایک آزاد وطن دیا ۔جس میں ہم آزاد زندگی بسر کر رہے ہیں ۔دنیا میں فخر میرا پاکستان اور بانی پاکستان آج میں وطن سے دور یورپ میں ہوں اور بارسلونا جو شہر با کمال ہے جو محبتیں تقسیم کرنے میں مشہور ہے تو مہمان نوازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔روشنیوں کے اس شہر میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ونگ روشن ہیں اور اپنی روشنی میں پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔ان سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ان کے کار ہائے نمایاں کے دن بڑے اہتمام سے منائے جاتے ہیں۔بلکہ جو قائدین دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں ان کی یاد میں بھی شایان شان پروگرامز ترتیب دئیے جاتے ہیں جس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستانی اپنی سیاسی جماعتوں اور قائدین سے بے انتہا محبت ہی نہیں بلکہ سیاسی شعور رکھنے والی کمیونٹی ہے۔
آج 11 ستمبر جو پاکستانیوں کے لئے اہم ترین دن ہے۔اس روشنیوں کے شہر بارسلونا میں کوئی دیا بانی پاکستان کی یاد میں روشن نا ہو سکا ۔کیونکہ بابائے قوم کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جو تھی وہ کئی ٹکڑوں میں تو تقسیم ہو گئی لیکن بابا کی سیاسی وارث نا بن سکی۔کیونکہ بابا کے سیاسی نظریات حب الوطنی اور وطن کو عظیم تر بنانے کے تھے ۔
عالمی دہشت گردی میں 11 ستمبر کی یاد
11 ستمبر کا دوسرا حوالہ امریکہ کے دو جڑواں ٹاور ہیں جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دو ٹاور دہشت گردی کا کیا نشانہ بنے اسلامی دنیا کے کئی ملک نشانے پر آگئے۔پاکستان سمیت پوری دنیا بدل کر رہ گئی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر نے جنم لیا جس کے باعث کئی ہزار معصوم پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اور دنیا کے امن کو بحال رکھنے میں پاکستان فرنٹ لائن پر لڑتا رہا گو آج پاکستان کی دی ہوئی اس لازوال قربانی کو ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنے وجود اور برداشت سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔11 ستمبر امریکہ کی تاریخ میں زندہ ہے تو اس کا ازالہ کرنے میں افغانستان ۔عراق ۔لیبیا اور پاکستان بھی اس کرہ ارضی پر موجود ہیں جنہوں نے نا صرف اپنی زمین بلکہ جسموں کے نذرانے بھی پیش کئے ہیں ۔
سقوط بارسلونا اور تاریخ کا ایک ورق
11 ستمبر کا تیسرا حوالہ اسپین کے صوبہ کاتالونیا کے قومی دن کا ہے۔یہ وہ دن ہے جو سقوط بارسلونا کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
سقوط بارسلونا سن 1714 میں ہوا، جس میں سپین کے بادشاہ فیلیپے پنجم نے کاتالونیا پر فوج کشی کر کے مقامی خود مختار اداروں کو ختم کر دیا۔ اُس “فوجی کارروائی” میں گیارہ ستمبر کے دن سپینش فوج کے ہاتھوں بارسلونا “فتح” ہوا تھا۔
غم کے اس دن کو باقی دنیا کے برعکس کاتالونیا کی عوام اپنے قومی دن کے طور پر مناتے ہیں ۔اس دن “تحریک آزادی” کے نمایاں قائدین کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور پھولوں کے گلدستے پیش کر کے سلامی دیتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم آپ کی قربانی کو بھولے نہیں ہیں ۔جس سے عوام میں آزادی و خودمختاری کے عزائم و جذبات کو تقویت ملتی ہے۔
2017 سے قبل پاکستانی کمیونٹی بھی اس دن میں بھر پور شرکت کرتی آئی ہے۔پاک فیڈریشن اسپین۔مسلم لیگ نون ۔پرانی سی آئی یو کے پاکستانی ممبران ۔سوشلسٹ پارٹی کے ممبران اور عام پاکستانی اس دن پھولوں کے گلدستے پیش کرتے اور مقامی معاشرہ میں انضمام کی مثال بننے کی کوشش کرتے لیکن چند سالوں سے 11 ستمبر کا یہ ولولہ ماند پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔اس سال تو شاید کسی پاکستانی نے پھول پیش کرنے کا تکلف نہیں کیا۔کاتالونیا ۔اسپین کا قومی دن ہو یا کوئی اور اہم ترین سیاسی سماجی سر گرمی ہو تو مقامی معاشرہ اور عوام سے گھل مل جانے کا بہترین موقع ہوتا ہے جس سے ایک دوسرے میں اپنائیت کا احساس پایا جاتا ہے۔جس کی ہمیں بطور پاکستانی یورپ میں رہتے ہوئے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

میرا قائد میرا جناح
قائد اعظم محمد علی جناح صبح کے 10:20 منٹ پر اپنے کراچی گھر میں 11 ستمبر 1948ء کو پاکستان بننے کے صرف ایک سال بعد انتقال کر گئے۔
علامہ شبیر احمد عثمانی قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ پڑھانے کے بعد،جو ان کی وصیت کے مطابق تھا
69 سال ہو گئے ہم سے بچھڑے ہوئے۔وہ قائد جس نے ہمیں ایک آزاد خود مختار خطہ ارضی دیا ۔کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی بسر کر سکیں ۔جتنی مرضی کی زندگی ہم پاکستانی پاکستان میں گزار رہے ہیں دنیا کا کوئی ملک نہیں یہاں انسان اپنی مرضی سے جی رہا یو ۔کوئی قانون ۔کوئی ضابطہ اخلاق لاگو ہے۔دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے یہاں قانون تو یے لیکن صرف غریب کے لئے۔اتنے آزاد ہیں کہ جب جی چاہتا ہے اپنے حصہ کا وطن فروخت کر دیتے ہیں اور پھر معزز ٹھہرتے ہیں ۔کیونکہ ہمیں اور بہت سارے ایسے کردار مل جاتے ہیں جو وطن فروشی میں اپنا حصہ وصول کر کے آپ کو اعلی و ارفع بنا کر پیش کرتے ہیں ۔
بھارتی وزیر اعظم نہرو نے جناح کی وفات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،”ہمیں انہیں کیسے پرکھنا چاہئے؟ میں پچھلے کئی سالوں کے دوران میں ان پر سخت غصہ رہا تھا۔لیکن اب میرے خیالوں میں ان کے لئے کوئی کڑواہٹ باقی نہی رہی،لیکن جو کچھ ہونے پر بڑی ندامت کے سوا۔۔وہ اپنے مطالبے کو حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہرا، لیکن کس قیمت پر اور کس اختلاف سے جو کچھ اس نے سوچا تھا”۔
جناح کو 12 ستمبر 1948ء کو دونوں ملکوں بھارت اور پاکستانمیں سرکاری سوگ کے درمیان میں دفنا دیا گیا۔ ان کے جنازے پر لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ بھارت کے گورنر جنرل راجہ گوپال اچاری نے اس دن ایک سرکاری تقریب کو اس مرحوم قائد کے اعزاز میں منسوخ کیا۔آج جناح کراچی میں سنگ مرمر کے ایک مقبرے مزار قائد میں آسودہ خاک ہیں۔

رووہنگیا مسلمانوں کی بے بسی اور یورپی مسلمان
برما رووہنگیا مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی گو کہنے کو یہ دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے لیکن ایک ایسا ملک جہاں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا گلوبل ویلج کو پتہ ہی نہیں چلا۔اس چھوٹے سی دنیا کو بتانے کے لئے ہمیں اپنی خوبصورت تصاویر کے ساتھ رووہنگیا کے باسیوں کی چیختی چلاتی اور سرخ لباس پہنے چہروں کی تصاویر لگا کر بتانا پڑا کہ ہم ان مظلوموں کے ساتھ ہیں ۔جب یہ تصاویر کار گر ثابت نا ہوئیں اور ظلم و ستم کا بازار ٹھنڈا نا ہوا تو یورپ بھر میں مقیم پاکستانی۔مراکشی۔بنگلہ دیشی اور بھارتی مسلمانوں نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔اور تاحال جاری ہے۔کیونکہ یورپ کی مصروف ترین زندگی میں صرف ویک اینڈ ہی ہوتا ہے جب ہم باہر نکلتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں ۔بھر پور مظاہروں کے بعد بھی ابھی تک دنیا کے منصف جا گے نہیں ہیں ۔اس سے آگے ہم کیا کر سکتے ہیں اس کا جواب بارسلونا میں ہو نے والے احتجاجی مظاہرہ میں ایک شخص نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوا کہا کہ ہم تو صرف آواز اٹھا سکتے ہیں ۔باہر نکل سکتے ہیں ۔نعرے لگا سکتے ہیں اس سے زیادہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔ہم تو اپنی حکومت کو پیغام دے سکتے ہیں کہ رووہنگیا کے مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے ان کی زندگی کو چھینا جا رہا ہے۔ان کے لئے اقدامات اٹھاو۔ان کا بائکاٹ کرو۔اپنے دوست ممالک سے مدد لو اور ان مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرو جو عدم تحفظ ہی نہیں زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ۔
حکومت پاکستان نے پہلے دن سے ہی آواز بلند کی ہے۔پارلیمنٹ سے لے کر اپوزیشن تک کے رہنما اپنے مسلمان بھائیوں کی حمایت میں بول رہے ہیں ۔لیکن کوئی اثر نہیں ہو رہا ۔اثر نا ہونے کی وجہ مجھے تو صرف علامہ محمد اقبال کا یہ شعر نظر آتا ہے۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں