56

چودھریوں کے ڈیرے پھر آباد ہو گئے…رؤف کلاسرا

منگل کے روز گجرات کے مہمان نواز چودھریوں کے اسلام آباد میں واقع گھر کا وسیع ڈرائنگ روم ایک دفعہ پھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ منظر میں پانچ برس بعد دوبارہ دیکھ رہا تھا۔ گھر کے اندر باہر چہل پہل تھی۔مجھے لگا کہیں اور آگیا ہوں‘ کیوں کہ پچھلے پانچ برس میں اس ڈرائنگ روم کو اکثر خالی دیکھا تھا۔ جب سے پیپلز پارٹی حکومت ختم ہوئی اور چودھری جو زرداری کے ساتھ حکومت میں شریک تھے‘ الیکشن میں زیادہ بہتر پرفارم نہ کر سکے‘ تو سیاسی پرندے ایک ایک کر کے اڑ گئے۔ ان پانچ برسوں میں مجھے اور عامر متین کو اکثر چودھری صاحبان گھر بلاتے‘ سیاست پر طویل گفتگو ہوتی‘ مگر اس ڈرائنگ روم کو ہم ویران پاتے‘ چودھری شجاعت حسین‘ پرویز الہٰی اور ایک آدھ قریبی۔

اتنا بڑا ڈرائنگ روم اور اتنا خالی‘ دیکھ کر ہول اٹھتا تھا۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہٰی کے عروج‘ زوال اور پھر عروج کا ایک عینی شاہد میں بھی ہوں۔ انسان بھی کیا عجیب مخلوق ہے‘ پاور میں ہو تو سب آپ کے دوست بن جاتے ہیں‘ زوال کی طرف گام زن ہو تو باقی چھوڑیں مشاہد حسین تک چھوڑ جاتا ہے۔

میں اور عامر متین ہمیشہ چودھریوں سے اس لیے خوشی سے ملتے کہ ایک تو ان کے اندر دیہاتی ٹچ موجود ہے۔ آپ کو احساس نہیں ہونے دیں گے کہ مہمان کم تر ہے۔ سب کو عزت دیتے ہیں۔ دوسرا وہ ہم سے لمبی توقعات نہیں باندھ لیتے کہ اب ہم ٹی وی شوز میں ان کا طبلہ بجائیں گے یا گیت گائیں گے۔ عامر متین نے بھی ایک دفعہ انگریزی اخبار میں چودھریوں کے خلاف طویل آرٹیکلز لکھے‘ جس میں خاصی سخت باتیں تھیں‘ انھوں نے جواب میں اپنی وضاحت بھیجی‘ کبھی تعلق خراب نہ کیا اور نہ منہ بنایا۔ میں نے بھی قرض معافی سے لے کر دیگر اسکینڈلز چودھریوں کے خلاف فائل کیے اور ٹی وی شوز پر گفتگو کی‘ لیکن مجال ہے‘ انھوں نے ذکر تک کیا ہو۔ شہباز شریف کے خلاف ایک کالم لکھ دیا تھا‘ دس سال تک شکل تک نہ دکھائی۔ نواز شریف پر ایک تنقیدی جملہ کہہ دیا تو ہاتھ ملانے سے بھی گئے۔

میرے اور عامر متین جیسے صحافی تو پہلے ہی بہانے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمارا اپوزیشن کے دنوں کا دوست اقتدار میں جائے اور ہم اس سے تعلقات خراب کریں‘ تا کہ ہماری رپورٹنگ میں فرق نہ آئے۔ عامر متین کا کہنا ہے ہم کتنے ہی پروفیشنل کیوں نہ ہو جائیں‘ پھر بھی آنکھ کا شرم آ جاتا ہے‘ لہٰذا ہم خوش رہتے ہیں کہ ہم سے کوئی ناراض ہو جائے اوردور رہے‘ چاہے برا بھلا کہتا رہے۔

چودھریوں کے سلسلے میں بھی ہم دونوں کی یہی کوشش رہی‘ یہ ہم سے ناراض رہیں تو بہتر ہے‘ لہٰذا ہم نے ٹی وی شوز کیے‘ کالموں اور خبروں تک میں ان کے خلاف لکھا اور بولا‘ لیکن انھوں نے ہمیشہ اس بات کا احترام کیا کہ یہ صحافی ہیں‘ یہ ان کا کام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں پہلی دفعہ اس گھر میں 2002ء میں گیا تھا‘ جب انتخابات کے بعد حکومت بن رہی تھی۔ ڈرائنگ روم بھرا ہوا تھا۔ بیٹھنے کو جگہ تک نہ تھی۔ چودھری شجاعت بڑی مشکل سے کمرے میں لے گئے اور وہاں بھی ایم این ایز اور ایم پی ایز نے نہ چھوڑا۔ اس وقت چودھری شجاعت حسین سیاسی گاڈ فادر تھے‘ پھر جنرل مشرف نے چودھریوں سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا کہ وہ اب بے نظیر بھٹو سے ڈیل کر کے اقتدار میں رہنا چاہتا تھا۔ جنرل مشرف نے چودھریوں کو بلا کر کہا: جو بھی نتائج آئیں‘ آپ لوگ قبول کر لینا‘ کیوں کہ اب بے نظیر کے ساتھ ڈیل ہورہی ہے۔

رہی سہی کسر ایک امریکی وفد نے پوری کر دی‘ جب چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہٰی کو ملاقات میں کہا گیا کہ اگر ان کی پارٹی 2008ء کے الیکشن جیت بھی گئی‘ تو امریکا نتائج تسلیم نہیں کرے گا۔ چودھری آج تک سمجھتے ہیں کہ انھیں ہرانے کے لیے الیکشن میں دھاندلی کرائی گئی تھی؛ اگر چہ چودھریوں نے کچھ عرصے بعد زرداری کو بھی رام کر لیا‘ پرویز الہٰی ڈپٹی وزیراعظم بن گئے اور چند وزارتیں بھی لے لیں‘ تاہم پچھلے پانچ سال چودھریوں پر بہت بھاری تھے۔

پچھلے بارہ برس وہ اقتدار میں رہے تھے‘ پہلے جنرل مشرف اور پھر زرداری حکومت‘ لہٰذا انھیں سیاسی تنہائی کا احساس نہ ہوا تھا‘ لیکن نواز شریف حکومت لوٹتے ہی سب کچھ لوٹ آیا‘ گلیاں سنجیاں ہو چکی تھیں‘ اب ان کے گھر کا رخ کرنا کسی کو سوٹ نہیں کرتا تھا‘ سب چڑھدے سورج کے بچاری۔ اب چودھریوں سے کسی کو نہ وزارت مل سکتی تھی اور نہ ہی کوئی اور عہدہ‘ تاہم جب بھی ان سے ملتے تو اور کوئی ان کے ساتھ ہو یا نہ ہو‘ لیکن بہاول پور سے طارق بشیر چیمہ ضرور موجود ہوتے۔ طارق بشیر نے واقعی چودھریوں سے وفا نبھائی۔

ایک دفعہ خالی ڈرائنگ روم دیکھ کر کہا: چودھری صاحب! یہاں تو کبھی پاوں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی‘ آج ویرانیاں ہیں‘ وہ دونوں مسکرا دیے‘ ان میں مروت ہے‘ بولے کچھ نہیں‘ کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ ایک دفعہ گئے تو وہاں مشاہد حسین اور ان کے بھائی مواحد حسین موجود تھے۔ میں نے کہا: چودھری صاحب دیکھ لیں‘ مشاہد حسین ابھی تک وفا نبھا رہے ہیں۔ چند دنوں بعد پتا چلا مشاہد حسین نے اپنے سیاسی ماسٹرز تبدیل کر لیے ہیں۔ اگلی دفعہ میں اور عامر متین پھر چودھریوں سے ملے‘ تو میں نے مشاہد حسین کا ذکر کیا تو وہ پھر ہنس دیے‘ کوئی گلہ‘ کوئی شکوہ‘ کوئی احسان کا بدلہ کچھ یاد نہیں دلایا۔ میرے پوچھنے پر سب سے زیادہ تکلیف کس کے چھوڑنے پر ہوئی تھی تو چودھری شجاعت بولے: باقی کوئی دکھ نہیں‘ سیاست میں سب چلتا ہے‘ لیکن دو لوگوں کا دکھ ہوا ہے‘ ایک جھنگ سے شیخ وقاص اکرم اور دوسرے امیر مقام۔
بولے: ہم نے کبھی کسی کو نہیں کہا تھا‘ ہم سیاست سمجھتے ہیں‘ کسی سے توقعات نہیں رکھتے‘ ہاں جو ساتھ کھڑا رہے مشکل میں اس کی عمر بھر قدر کرتے ہیں۔
وہ بولے: شیخ وقاص بھی بڑے بڑے دعوے کرتا تھا‘ مگروقت آیا تو اس نے دیر نہیں لگائی اور نواز شریف کے ساتھ مل گیا۔ چودھری صاحب بولے کہ امیر مقام کا بھی دکھ ہوا‘ ایک دُپہر وہ ہمارے پاس اسی گھر میں آئے اور کہا کہ وہ ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گا‘ ہم نے کہا کہنے کی کیا ضرورت ہے‘ آپ ہمارے ساتھ ہیں تو پھر ہیں‘ امیر مقام نے کہا، نہیں میری ماں نے مجھے بھیجا ہے، کہ تم جا کر چودھریوں کو بتاو کہ تم انھیں کبھی نہیں چھوڑ کر جاو گے‘ میں یہی بتانے آیا تھا۔

چودھری شجاعت نے کہا کہ وہ ہمارے گھر سے اُٹھ کر گیا اور تھوڑی دیر بعد کسی کا فون آیا کہ ٹی وی ان کریں‘ دیکھا کہ امیر مقام نواز شریف کی پارٹی جوائن کر رہے تھے۔ چودھری شجاعت ایک تکلیف میں تھے اور بولے کہ یار ہم نے کوئی امیر مقام کو کہا تھا کہ وہ ہمیں آ کر بتائیں کہ ان کی اماں نے اسے کیا حکم دیا تھا؟ اس نے جوائن کرنا تھا تو وہ سیدھا جاتا اور نواز شریف کو جوائن کر لیتا‘ جیسے اور ہمارے قریبی لوگوں نے جوائن کر لیا تھا۔

چہل پہل جاری تھی‘ میں ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا‘ سب لوگ آ جا رہے تھے۔ چودھری پرویز الٰہی اسپیکر پنجاب اسمبلی بننے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ طارق بشیر چیمہ بھی وفاقی وزیر کا حلف اٹھانے کے موڈ میں تھے۔ چودھریوں نے طویل رفاقت اور وفاداری کا صلہ یہ دیا تھا کہ اپنے ساتھ ان کی بھی ڈیل عمران خان سے کی۔ چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی عمران خان سے مل کر آئے تھے۔ عمران خان کے رویے میں تبدیلی پر وہ بھی بہت حیران تھے۔ عمران خان کے رویے میں انھوں نے کیا تبدیلی محسوس کی تھی؟ میں نے پوچھا۔ چودھری پرویز الہٰی اور چودھری شجاعت نے ایک گہری سانس لی۔ مجھے پتہ تھا کہ عمران خان اور چودھریوں کے درمیان دردناک بیک گروانڈ ہے۔ سولہ برس میں بہت کچھ ان دونوں کے درمیان چلتا رہا ۔ بہت اندرونی باتوں کا مجھے بھی علم تھا‘ پھر وہی مبارک بادوں کا شور‘ پھر وہی مہکتے پھولوں کی بارش‘ طویل دستر خوان پر سجے مختلف پکوانوں کی خوش بوئیں‘ مٹھائیوں کے ٹوکرے اور پھر ہر طرف ان سے توقعات باندھے خوشی سے مہکتے چہرے۔

اقتدار کی سیاست اور ذاتی مفادات بھی کیا ظالم چیز ہے۔ گجرات کے چودھریوں کے پاس دوبارہ اقتدار لوٹتے ہی اسلام آباد میں ان کے پانچ برس سے ویران ڈیرے پھر سے آباد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ دُنیا)

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں