147

نیلے پانیوں کا رخ کرے نہ کوئی بھی… محمد اظہارالحق

کئی سال کے بعد رشید نے وطن کا پھیرا لگایا۔ آٹھ سالہ بچی ہمراہ تھی۔ بیگم نے دیکھا تو بے ساختہ کہا‘ بالکل اپنی ماں کی کاپی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرا بھائی آیا۔ بچی کو دیکھا اور فتویٰ دیا کہ ہو بہو اپنی دادی کی شکل ہے۔ شام کو ہمارا بیٹا دفتر سے واپس آیا کہنے لگا حمید انکل پر گئی ہے۔ اب ہماری بہو کی باری تھی اس کا خیال تھا کہ بچی میں باپ کی جھلک نظر آتی ہے! مشابہت کے حوالے سے یہ اختلاف آپ نے بارہا نوٹ کیا ہو گا۔ ایک کہتا ہے فلاں شخص اپنے باپ پر گیا ہے مگر دوسرا اختلاف کرتا ہے کہ نہیں‘ ماں یا دادی پر ہے۔ ایک اور ان دونوں سے نہیں اتفاق کرتا اور اسے اپنے بھائی کے مشابہ قرار دیتا ہے۔ بظاہر ان میں سے ایک درست ہونا چاہیے اور باقی غلط! مگر ایسا نہیں ہے سب کی رائے درست ہے اور یہی اس مصور کا کمال ہے جس نے رحم کے اندھیروں میں ایسی شکل بنائی جس کے کئی پرتو ہیں‘ کئی شیڈ ہیں کئی چہروں کے ساتھ مشابہت کی جھلکیاں ہیں۔

یہ مصور کی بنائی ہوئی تصویر نہیں یہ طلسم ہے۔ اس تصویر کو جس زاویے سے دیکھیں‘ الگ نظر آئے گی۔ جو کہتا ہے بچی ماں پر گئی ہے بالکل درست کہہ رہا ہے۔ جو کہتا ہے دادی سے مشابہت رکھتی ہے‘ وہ بھی غلط نہیں! یہ مانی یا بہزاد کا فن نہیں‘ نہ لیونارڈ ڈا ونسی کی ہنر وری ہے نہ چغتائی آرٹ ہے۔ یہ اس کی فنکاری ہے جسے مصور کہلانے کا حق حاصل ہے۔ ایسا چہرہ بناتا ہے کہ اس میں ہر دیکھنے والے کو مختلف پر تو‘ مختلف جھلک دکھائی دیتی ہے اس کے باوجود وہ چہرہ سب چہروں سے مختلف ہے۔ مصور کے ناقابل یقین کمال پر غور کیجیے کہ ہر چہرے پر دو آنکھیں ہیں۔ ناک ہے‘ دہن ہے‘ ابرو ہیں۔ ان سب اعضا کے بعد جو تھوڑی بہت جگہ بچتی ہے اس پر رخسار ہیں۔ مگر ہر چہرہ دوسرے سے مختلف ہے۔ کروڑوں اربوں انسان کرہ ارض پر چل پھر رہے ہیں کہیں پڑھا تھا کہ ایک انسان کا ہم شکل دنیا میں ایک ہی ہوتا ہے یا دو ہو سکتے ہیں! پھر طلسم در طلسم دیکھیے‘ کسی کو ہم موٹے نقوش والا چہرہ کہتے ہیں کسی کو باریک نقوش والا‘ کبھی تیکھے نقوش‘ کہیں ستواں ناک‘ کہیں چپٹی ناک‘ مغل شہزادیاں ناک کی خوبصورتی سے امتیازی حیثیت رکھتی تھیں۔

کہا جاتا تھا کہ فلاں کی ناک شہزادیوں کی طرح ہے۔ صرف آنکھوں پر غور کیجیے‘ ادب میں اور آرٹ میں اس پر کتنا کچھ لکھا اور بنایا گیا۔ آنکھوں کی بناوٹ پر‘ گہرائی پر‘ آنکھوں کے رنگ پر کبھی بادام سے تشبیہ دی گئی کبھی جھیل سے‘ کبھی کہا گیا۔ ؎ نیلے پانیوں کا رخ کرے نہ کوئی بھی اس نگر میں دن دہاڑے کارواں لٹیں کوئی پکار اٹھا ؎ مری زباں پہ لغت بولتی ہے اور مجھے ملا نہ لفظ تری آنکھ کے فسوں کے لیے پلکیں ہر شخص کی مختلف ہیں۔ کسی کی دراز کسی کی چھوٹی۔ میرؔ نے لمبی پلکوں کو نیزے قرار دیا ؎ نیزہ بازانِ مژہ میں دل کی حالت کیا کہوں ایک ناکسبی سپاہی دکھنیوں میں گھر گیا اس زمانے میں مرہٹے لوٹ مچاتے پھر رہے تھے وہ جنوبی ہند سے تھے اس لیے انہیں دکھنی کہا! اسی دکھن سے دکن تھا۔ اٹک اور چکوال کے خطے میں جنوب کے لیے دکھن کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ابرو بھی ہر چہرے پر مختلف زاویوں مختلف انداز کے ہیں دونوں ابروئوں میں فاصلہ تک مختلف ہے۔ سیدھے ابرو خوبصورتی کا نشان قرار پائے ۔

احمد ندیم قاسمی نے کہا ؎ اس کے ابرو ہیں کہ غالب کی غزل کا مطلع اس کا ملبوس ہے یا تاج محل کی جالی میرؔ کہہ اٹھے ؎ تھیں سب کی نظر میں اس کی بھویں افسوس! یہ شعر مبتذل تھا پھر ہونٹوں کی ساخت پر غور کیجیے۔ موٹے ہونٹ‘ پتلے ہونٹ گلابی ہونٹ‘ باریک لائن جیسے ہونٹ’ دہانے کی بناوٹ الگ الگ ہے۔ شاعروں نے تنگ دہانے والے محبوب کو غنچہ دہن کہا۔ حافظ شیرازی شکوہ کناں ہے ؎ دہانِ یار کہ درمانِ درد حافظ داشت فغان! کہ وقت مروت چہ تنگ حوصلہ بود کہ درد کا درماں تو یار کا دہن تھا مگر وقت آیا تو تنگ حوصلہ یعنی تنگ ثابت ہوا! ہر پیشانی کاریگری کا ایک نیا پہلو دکھاتی ہے۔ کھلے ماتھے کو خندہ پیشانی کہا گیا۔ بخت کی یاوری کا نشان بھی قرار دیا گیا تنگ پیشانی کو بدقسمتی کی علامت سمجھا گیا۔ محبوب کی جبیں کو دھوپ سے تشبیہ دی گئی کبھی سورج سے۔ پھر چہرے سے قیافہ شناسی Physiognomyکا علم نکلا۔ اہل علم اور اہل نظر نے چہرہ دیکھا اور چہرے والے کے مزاج طبیعت ‘ ذہانت ‘ شجاعت یہاں تک کہ اس کے خاندانی پس منظر کا بھی اندازہ لگا لیا۔ ایسا ماتھا ہو گا تو مزاج یوں ہو گا۔ ناک ایسی ہو ئی تو کیسا ہو گا۔ پھرہاتھوں کی بناوٹ سے پامسٹری کا علم پھوٹا۔ یہ حقیقت تو ہر شخص کو آج معلوم ہے کہ ہر انسان کی انگلیوں کے پرنٹ مختلف ہیں۔ اسی پر غور کیجیے تو حیرت کا سمندر ایسا سامنے آتا ہے کہ کنارہ نہیں ملتا۔

اربوں انسان اور اربوں الگ الگ پرنٹ‘ پھر ہتھیلی پر لکیریں مختلف۔ انگلیوں اور انگوٹھے کی بناوٹ ‘ لمبائی‘ پوروں کی تقسیم ! پھر ناخنوں کی شکل ! سب کی الگ الگ۔ کیا صناعی ہے! کیا کاریگری ہے! کیا آرٹ ہے! تخلیق کی ایسی قوت ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔! سمندروں کا پانی روشنائی میں بدل جائے اور روئے زمین کے درختوں کی شاخیں قلم بن جائیں تو اس صناعی اس مصوری کا احاطہ پھر بھی نہ ہو سکے گا۔ پھر آواز پر غور کیجیے ہر شخص کی آواز مختلف ہے۔ کروڑوں انسان! کروڑوں اقسام کی آوازیں! موٹی‘ پتلی پائیدار‘ مترنم ‘ خوابیدہ! نرم‘ کھردری صاف‘ واضح‘ کچھ ناک میں‘ کچھ گرجدار‘ کچھ جھجکتی ہوئی متذبذب ‘ کوئی ہکلا رہا ہے! کوئی بات کرتے کرتے رکتا ہے کوئی اٹکتا ہے! پھر چال پر غور کیجیے۔ سب کی وہی دو ٹانگیں وہی دو پائوں! مگر چلنے کا انداز سب کا الگ الگ‘ کوئی تن کر‘ کوئی جھک کر کوئی تیز کوئی آہستہ رَو‘کسی کی چال میں عجز‘ کسی کی چال میں تکبر ! ایسے بھی کہ ان کی چال پر لوگ باگ ہنسیں! ایسے بھی جنہیں چلتا دیکھ کر وجیہہ شہزادوں کا خطاب دیں! کسی کی چال دیکھ کر کہیں ع چلتی پھرتی سی قیامت کا نمونہ ہیں جناب کہیں متانت اور شرافت اور کہیں چلنے کے انداز میں غنڈہ گردی اور دادا گیری!! پھر جسموں کی مجموعی بناوٹ پر تدبر اور تفکر فرمائیے! کسی کا قد چھوٹا کسی کا بڑا‘ کسی کا درمیانہ‘ کوئی فربہ‘ کوئی نحیف! کسی کا جسم کسرتی! کوئی گٹھا! کوئی اتنا طویل قامت کہ عام قدوقامت والے اس کے سامنے بونے لگیں اور کوئی اتنے چھوٹے قد والا کہ اس کے لیے دلہن ڈھونڈنا ناممکن ہو! کسی کے چلنے کا انداز دلبرانہ کہ شاعر اور عاشق بے حال ہو جائیں‘ فیض نے کہا ؎

کب تک تری رہ دیکھیں اے قامت جانا نہ کب حشر معین ہے تجھ کو تو خبر ہو گی غالب نے کہا ؎ ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق لرزے ہے موج مے تیری رفتار دیکھ کر کسی نے قد کو سروسہی کہا ؎ آیا گلشن میں جب وہ سروسہی گرد پھرنے کو قمریاں آئیں کوئی پکار اٹھا ؎ گداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرے دراز قد جسے سروِسہی نماز کرے کسی نے شمشاد سے تشبیہ دی ؎ عجب اٹھان لیے تھا وہ غیرت شمشاد تباہ حال دلوں کا کہاں ٹھکانہ تھا کائنات میں بہت کچھ ہے۔ کہکشائیں ستارے سیارے ایک نظام شمسی نہیں‘ کئی نظام جمادات ‘ نباتات‘ حیوانات خشکی اور سمندر میں رہنے والی مخلوقات‘ مگر ان سب کو چھوڑ کر صرف انسانی جسم پر ہی غور کیا جائے تو سوچنے والا حیرتوں کے جہان میں گم ہو جاتا ہے‘ اسی لیے فارسی کا شاعر پکار اٹھا ؎ زفرق تابہ قدم ہر کجا کہ می نگرم کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجاست سر سے پائوں تک جہاں بھی نظر پڑتی ہے کرشمہ ہی کرشمہ دکھائی دیتا ہے اور یہ کرشمہ دل کا دامن کھینچ کر کہتا ہے کہ یہاں رکو‘ یہاں رکو اور یہ تو ظاہر کا حال ہے یعنی باہر کا جو جہان انسانی جسم کے اندر ہیں ان کا مکمل احاطہ ابھی تک کوئی طب‘ کوئی میڈیکل سائنس کوئی تحقیق نہیں کر سکی! چینی طریقہ علاج میں ہر عضو بدن کا کنکشن پائوں کے تلوے کے کسی نہ کسی پوائنٹ سے ہے! نباض الگ حیرت میں گم ہیں! دعا اور کلام الٰہی کے اثرات جو انسانی بدن پر اور صحت پر پڑتے ہیں وہ ایک اور ہی طلسم کدہ ہے یہاں تک کہ انسان پکار اٹھتا ہے ربنا ماخلقت ھذا باطلا۔ یہ سب کچھ تونے باطل تو نہیں پیدا کیا!!

(بشکریہ نائٹی ٹو)

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں