124

پاکستان کے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں… فاطمہ قمر

وزیراعظم کا عہدہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو کپتان کو ملی، امید ہے کپتان عوام کو مایوس نہیں کريں گے۔ فوٹو: انٹرنیٹ
وزیراعظم کا عہدہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو کپتان کو ملی، امید ہے کپتان عوام کو مایوس نہیں کريں گے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

الحمدللہ! وطن عزيز میں الیکشن بخیر و عافیت انجام پا گئے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اکثریت رائے سے حکومتی پارٹی کے طور پر منتخب کر لی گئی ہے۔ اس عظیم الشان کامیابی پر ميں کپتان، ان کے تمام ساتھیوں اور کارکنان کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ انہیں ان کی بیس سالہ جدوجہد کا پھل آخرکار مل ہی گیا۔

وزیراعظم کا عہدہ بلاشبہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو کہ کپتان کو ملی ہے اور امید ہے کہ کپتان اس بار بھی عوام کو مایوس نہیں کريں گے۔ ان کا نئے پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔ لیکن ایک لحظہ کو رک کر سوچیں کہ کیا پاکستان کے تمام تر حالات کو سدھارنے کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے؟ کیا عمران خان اکیلے ہی اس ملک کے حالات کو ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو جائيں گے؟ کیا ہم پر بطور پاکستانی شہری اس حوالے سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟

اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو بے شمار کام ایسے ہیں جوکہ ہماری توجہ کے منتظر ہیں اور انہيں ہم ہی پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔

کرپشن فری پاکستان کا جو خواب کپتان نے دیکھا ہے، وہ بھی اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک ہم میں سے ہر فرد خود اپنے آپ کو کرپشن سے پاک نہ کرلے۔ مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم میں سے ہر فرد اس کی تعمیر میں حصہ نہ ڈالے۔ ہم لوگ سب کچھ کپتان پر چھوڑنے والے اور یہ سوچ کر کسی کام سے رکنے والوں میں سے نہ ہوں کہ میرے اکیلے کے کام کرنے سے کیا ہو گا۔ جس طرح قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اسی طرح ہم بھی ایک ایک کرکے اپنے اپنے حصے کا کام کریں گے تب ہی ایک فلاحی ریاست کا قیام ممکن ہو گا۔

ہمارے معاشرے کے بنیادی مسائل میں آلودگی، صحت کے مسائل، پانی کی کمی، دھوکہ دہی، بیروزگاری، غربت اور اخلاقی زوال شامل ہیں۔

ان سب مسائل کا سدباب بھی کسی حد تک کپتان پر منحصر ہے، لیکن وہ بھی اس وقت تک ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب نہيں ہو سکتا جب تک ہم ان سب کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔

یہ وقت کام کا ہے۔ اور اس ملک کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کام اور صرف کام کرنا ہو گا۔

آلودگی سے اپنے ملک کو پاک کرنے کے لیے ہم میں سے ہر شہری ایک پودا لگائے، اور اگر ایسا ہو جائے تو رواں سال ہمارے ملک میں بیس کروڑ پودے لگ جائیں گے جو کہ ماحولیاتی آلودگی اور گرمی کے زور کو کم کرنے کے لیے بھی ایک اچھا قدم ہو گا۔ اگر آپ کے علاقے میں پانی کی کمی نہيں بھی ہے تب بھی اپنے دوسرے ہم وطنوں کا خیال کرتے ہوئے پانی نہایت احتیاط سے استعمال کریں کہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک بھی ہے۔ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں کہ ہم میں سے ہر ایک کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ اگر کہیں کسی سے بحث کریں بھی تو بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک ذمہ دار پاکستانی شہری اور مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔

اگر آپ کے علاقے میں آپ کا منتخب کردہ نمائندہ آپ کے مسائل حل نہیں کروا رہا تو اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے؛ بصورت ديگر اس کا دوسرا حل تلاش کیا جائے۔

اسی طرح ہم سب مل کر اپنی ریاست کو ایک اسلامی، فلاحی اور مثالی ریاست بنا سکتے ہيں، ورنہ تبدیلی کسی ایک شخص کے کام کرنے سے نہيں آتی، چاہے وہ شخص کسی ریاست کا وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو۔

جو امیدوار اس دفعہ الیکشن ہار گئے ہیں، اگر وہ واقعی میں اچھی شخصیت کے مالک ہیں اور پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے تسلی کہ حوصلہ رکھیں اور ہمت نہ ہاریں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پاکستان کو نکھارنے کے لیے استعمال کرتے رہیں۔

قوم کے جذباتی لوگوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ سیاست کی وجہ سے آپس کے تعلقات، دوستیاں، رشتہ داریاں خراب مت کريں کہ سیاسی قیادت تو بار بار تبدیل ہوتی رہتی ہے، لیکن اگر تعلقات میں ایک دفعہ دراڑ آ جائے تو پھر سے پہلے کی طرح ہونا ایک ناممکن امر ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کو سیاست کی وجہ سے ناراض مت کریں۔ جو بھی نتائج ہیں انہیں کھلے دل سے تسلیم کرلیا جائے۔ ہار جیت تو چلتی رہتی ہے، یہ تو زندگی کا حصہ ہے کہ کبھی ایک فریق جیت جاتا ہے تو کبھی دوسرا، اس لیے ہارنے والے لوگ بھی دل چھوٹا نہ کریں اور ان کے سپورٹرز بھی۔ ویسے بھی ہارنے کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ آپ ایک ناکام انسان ہيں۔ آپ کی ہار بھی آپ کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ ہارنے سے آپ کی غلطیوں کی نشاندہی ہوتی ہے اور اس کام کا تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

شہریوں سے میری درخواست ہے کہ وہ ہارنے والوں اور ان کے سپورٹرز کو ہرگز طنز کا نشانہ نہ بنائیں کہ ہم سب نے مل جل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کا کام کرنا ہے۔

مختصر یہ کہ اس وقت ہمارے ملک کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ مخلص شہریوں کی بھی ضرورت ہے۔

دعا ہے کہ اللہ عمران خان کو پاکستان کے لیے ایک مخلص حکمران بنادے، اس ملک کو اسلام کا گہوارہ بنادے اور ہمیں اس وطن کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں