142

جرمنی میں متنازع منصوبے کے تحت تارکین وطن کے لیے پہلا مرکز قائم

برلن(ورلڈ پوائنٹ نیوز) جرمن ریاست بویریا میں مہاجرین کے لیے متنازع مراکز کا قیام عمل میں آگیا ہے، تارکین وطن کے لیے ان مراکز کا قیام جرمن وزیر داخلہ ہوسٹ زیہوفر کے منصوبے کا حصہ ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزیر داخلہ پناہ کی درخواستوں پر عمل تیز کرتے ہوئے جرمنی میں تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنا چاہتے ہیں، تارکین وطن سے متعلق جرمن حکومت حالیہ کچھ عرصے سے شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔

سرحد ہی سے تارکین وطن کو واپس لوٹا دینے کے زیہوفر کے منصوبے نے رواں برس جون میں حکومت کو سیاسی بحران سے دوچار کردیا تھا اور اسے مرکل حکومت کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا تھا۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل زور دیتی آئی ہیں کہ اس معاملے میں جرمنی کو انفرادی سطح پر اقدامات کی بجائے ایک مشترکہ یورپی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے، مرکل اور وزیر داخلہ کے مابین گیارہ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد یہ طے پایا تھا کہ تارکین وطن کے حوالے سے ملکی سرحدوں پر سختی لائی جائے گی اور ٹرانزٹ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

دوسری جانب اس فیصلے پر جرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل جماعت ایس پی ڈی نے حکومت سے نکل جانے کی دھمکی دی تھی، جرمنی کی دیگر ریاست نے یا تو ایسے عبوری مراکز کے قیام کو موخر کیا ہے اور اس پالیسی میں حصہ دار بننے سے صاف انکار کردیا ہے۔

لین بویریا میں منصب اقتدار پر فائز قدامت پسند جماعت سی ایس یو اپنے پلان پر عمل کررہی ہے، بویرین حکومت اس مسئلے میں مخالفین پر تنقید بھی کررہی ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں