201

یونان سے وطن لوٹتے پاکستانی تارکین وطن

ایتھنز(ورلڈ پوائنٹ نیوز) عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق رواں برس کے آغاز سے لے کر اب تک آٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن یونان سے واپس اپنے اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے جن میں سے اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔
یونانی پولیس نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ صرف جولائی کے ایک مہینے کے دوران یونان سے اپنے وطنوں کے جانب لوٹنے والے تارکین وطن کی تعداد 841 تھی۔ جولائی میں واپس جانے والے افراد کی اکثریت کا تعلق پاکستان، عراق اور البانیا سے تھا۔ یونانی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’ان میں سے زیادہ تر تارکین وطن ایسے تھے جنہیں معلوم تھا کہ انہیں یورپی یونین کے رکن ممالک میں سیاسی پناہ نہیں مل سکتی، اس لیے وہ خود ہی رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے۔”

آئی او ایم نے یونان سے رضاکارانہ وطن واپسی کا پروگرام (اے وی آر آر) کا آغاز سن 2010 میں کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت سیاسی پناہ کی متلاشی افراد کو رضاکارانہ وطن واپسی کی صورت میں سفری اخراجات کے علاوہ اپنے وطن میں کاروبار شروع کرنے کے لیے پانچ سو تا پندرہ سو یورو بھی دیے جاتے ہیں۔

منصوبے کے آغاز سے لے کر جولائی سن 2018 تک اس منصوبے کے تحت وطن لوٹنے والے غیر ملکیوں کی مجموعی تعداد 43119 بنتی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد پاکستانی شہریوں کی تھی۔ ادارے کے مطابق اب تک سترہ ہزار سے زائد پاکستانی شہری اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں اور ان میں سے تین ہزار کے قریب تارکین وطن نے پاکستان واپسی کے بعد اپنے اپنے کاروبار بھی کامیابی سے شروع کر لیے تھے۔

رضاکارانہ وطن لوٹنے والے افغان شہریوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار رہی جب کہ چار ہزار سے زائد عراقی شہری بھی بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اس منصوبے کے تحت وطن واپس لوٹے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں