156

سماجی شعور بازار میں دستیاب نہیں… محمد اظہارالحق

دارالحکومت میں دو روز پیشتر بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کا ایک انبوہ دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قوم کو قائد اعظم ٹھیک کر سکے نہ عمران خان کر سکتا ہے۔ مہاتیر آ جائے تب بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ چرچل سے لے کر ڈیگال تک اور اتاترک سے لے کر لی کوان یوتک سب قبروں سے اٹھ کر آ جائیں تب بھی بھیڑ بکریوں گایوں بھینسوں کا یہ ریوڑ انسانوں میں نہیں بدل سکتا!

بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کے اس انبوہ کو دیکھ کر اس نتیجے پر بھی پہنچنا پڑا کہ اس قوم کی بدحالی کا ذمہ دار کوئی سیاست دان ہے نہ جرنیل۔ کوئی بیورو کریٹ ہے نہ مولوی! اس قوم کا ہر فرد خود ذمہ دار ہے۔ ہر شخص مجرم ہے۔

وہ جو اقبال نے کہا تھا کہ‘ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا ‘تو یہاں ہر فرد ستارا نہیں تباہی کا استعارہ ہے! ایک معروف گلو کارہ کے ساتھ موسیقی کا پروگرام تھا۔ بنیادی طور پر یہ ایک کمرشل یعنی خالص کاروباری معاملہ تھا ۔ایک ایک ٹکٹ کے لیے روپوں کی بھاری مقدار وصول کی گئی تھی۔ بھاری! بہت بھاری! دوست احباب اس فقیر کو بھی کھینچ کھانچ کر‘ مار کٹ کر‘ لے گئے۔ اس گلو کارہ نے کبھی بھی متاثر نہیں کیا۔ مگر فائدہ یہ ہوا کہ دماغ صاف ہو گیا۔

سب کچھ پہلے سے معلوم تھا مگر نئے پاکستان کے تناظر میں غور کرنے کا ایک اور نکتہ سامنے آ گیا۔ خدا کسی قوم کی حالت نہیں تبدیل کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے۔ عمران خان کی کیا حیثیت ہے! پیغمبر خدا سے فریادیں کر کر‘ رو رو‘ اس دنیا سے چلے گئے۔

درد ناک ترین فریاد حضرت نوح علیہ السلام کی ہے۔ ہمارے ہاں قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے کا رواج نہیں ہے۔ ماہر القادری کی معرکہ آرا نظم ’’قرآن کی فریاد‘‘ یاد آ رہی ہے۔

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں‘ آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں تعویذ بنایا جاتا ہوں دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں جُزدان حریری و ریشم کے اور پھول ستارے چاندی کے پھر عطر کی بارش ہوتی ہے خوشبو میں بسایا جاتا ہوں جیسے کسی طوطے مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں اس طرح پڑھایا جاتا ہوں اس طرح سکھایا جاتا ہوں جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے پھر میری ضرورت پڑتی ہے ہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوں دل سوز سے خالی رہتے ہیں آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں کہنے کو اک اک جلسے میں پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں کس بزم میں مجھ کو بار نہیں کس عرس میں میری دھوم نہیں پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں ۔آدمی کو انسان بنانے کے لیے سورہ نوح ہی کافی تھی۔

جوش ملیح آبادی نے کہا تھا ؎ ہم ایسے اہلِ نظر کو ثبوتِ حق کے لیے اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی مگر پروردگار نے صبح شام‘ رات‘ ستاروں ‘ سورج موسموں کی نشانیاں بھیجیں۔ پھر اتمام حجت کے لیے رسول بھی بھیجے ۔ ایک ایک رسول سو سو برس منتیں کرتا رہا کہ انسان بن جائو۔ دیکھیے ‘کتنا درد ناک منظر ہے۔ خدا کارسول کس طرح فریاد کر رہا ہے کہ خدایا میں نے انہیں دن کو بھی بلایا۔ راتوں کو بھی آواز دی۔ مگر جب بھی بلایا یہ اور دور بھاگے۔

یہاں تک کہ انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیتے تاکہ میری آواز سن ہی نہ سکیں۔ یہ اتنے بدبخت ہیں کہ مجھے دیکھ کر کپڑے سے چہرے ڈھانپ لیتے۔ میں نے انہیں بلند آواز سے علانیہ بھی بلایا‘ مخفی طور پر بھی دعوت دی مگر تکبر کے علاوہ ان کے ردعمل میں کچھ نہ تھا۔

مجھے یاد ہے کہ مولانا غلام اللہ خان مرحوم جب اس آیت پر پہنچتے تھے واستغشو اثیابھم تو ان کی آواز بھرا جاتی۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر سینکڑوں برس ان لوگوں کے پیچھے پھرتا رہا ‘فائدہ سراسر ان لوگوں کا اپنا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں مانگ رہا تھا سوائے اس کے کہ‘ اپنے آپ کو بدل لو اور وہ اسے دیکھتے تو کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور چہروں پر کپڑے ڈال لیتے!!

ساری دنیا بدل گئی۔ شرق اوسط کے عرب آج بھی اسی طرح اکھڑ اور متکبر ہیں۔ ایک صاحب جو عربی زبان میں طاق ہیں‘ دو برس پہلے حج کو آئے مدینہ منورہ میں ایک دکان میں داخل ہوئے ‘سلام کیا۔ دکاندار نے جواب نہ دیا۔ بات کی ‘اس نے سنی نہ جواب دیا۔ عربی میں انہوں نے نہایت نرمی سے احتجاج کیا کہ بھائی ! کچھ ادب آداب بھی ہوتے ہیں۔
سلام کا جواب دیتے ہو نہ بات کا! کہنے لگا ’ انا ادب و ابن الادب ! و انت اخرج ‘کہ میں سراپا ادب ہوں اور ادب کا سپوت ہوں اور تم دکان سے دفع جائو! نہیں! ہرگز نہیں! کوئی عمران خان اس قوم کو راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ بھیڑ بکریوں کے اس ریوڑ میں سب اعلیٰ تعلیم یافتہ امرا اور ایلیٹ کلاس کے جانور تھے اس لیے کہ نچلے طبقے کے افراد اس گراں بہا داخلے کو جھیل ہی نہیں سکتے تھے‘ یہ عمائدین تھے معززین! ٹاپ کلاس!

سوسائٹی کے ذہنی لحاظ سے اگر نہیں تو مالی لحاظ سے کریم! عورتوں کے بال ترشے ہوئے تھے‘ مردوں میں پونیوں اور زلف ہائے دراز والے تھے۔ لباس ایسے ایسے کہ حیرت کو بھی دعوت دیتے اور ہنسی کو بھی۔ کچھ کا تو یہ بھی نہیں معلوم ہو رہا تھا کہ کس صنف سے تعلق ہے۔ مگر یہ ان کے ذاتی چوائس ہیں ہم تو محض تذکرہ کر رہے ہیں۔

ہمیں کیا اگر شاخ گل پر زمزموں کی دھن تراشیں یا پتے لپیٹ لیں ع میری بلا سے بُوم رہے یا ہما رہے! مسئلہ لباس اور ہیئر سٹائل کا نہیں! مسئلہ رویے کا ہے۔ کنڈکٹ کا ہے! سوک سینس کا یعنی سماجی شعور کا ہے۔ آپ جیسا چاہتے ہیں ہیئر سٹائل رکھیں‘ جو لباس پسند ہے زیب تن کریں مگر ذہنی پختگی کا تو ثبوت دیں اقبال نے یہی تو سمجھایا تھا۔ نی ز سحرِ ساحران لالہ رُوست نی ز عریاں ساق ونی از قطعِ موست حکمت از قطع و برید جامہ نیست مانع علم وہنر عمامہ نیست ’’کہ مغرب کی طاقت حسینائوں کے سحر سے ہے نہ کھلی پنڈلی ‘سے نہ تراشیدہ زلف سے! نہ لباس کی تراش خراش سے۔

‘عمامہ علم و ہنر سے روکتا نہیں۔ آج کے دور میں اقبال ہوتے تو یہ بھی کہتے کہ خدا کے بندو! عمامہ علم و ہنر اور تقویٰ کی دلیل بھی نہیں! اس لیے کہ ایک بڑھیا ملا نصرالدین کے پاس خط پڑھوانے آئی۔ ملا نے کہا کہ میں تو پڑھا لکھا ہی نہیں! بڑھیا نے طعنہ دیا کہ اتنا بڑا پگڑ سر پر رکھا ہوا ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے۔ ملا نے عمامہ اپنے سر سے اتار کر بڑھیا کے سر پر دھرا اور کہا لو‘ اب خود پڑھ لو!

سات بجے کا وقت تھا شائقین اس سے بھی پہلے کے بیٹھے ہوئے تھے۔ بچوں کے ساتھ اور خاندانوں کے بزرگوں کے ساتھ! ایک گھنٹہ گزر گیا سٹیج پر زندگی کے آثار بدستور مفقود تھے۔ منتظمین کے گروہوں کے گروہ ادھر ادھر چہل قدمیاں کر رہے تھے یا ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے‘ پھر ڈیڑھ گھنٹہ گزرا۔ پھر دو گھنٹے گزر گئے۔ اب سٹیج پر ان ناپختہ گلو کاروں کو بلایا جانے لگا جنہیں سننے کا کسی کو اشتیاق نہ تھا۔

پھر یہ اعلان ہوا کہ کچھ ڈاکٹر کسی خاص طریقہ علاج کا تعارف کرائیں گے۔ اب عطائیوں نے آ کر اپنی تشہیر شروع کر دی اس لیے کہ جینوئن ڈاکٹر کو ایسے مجمع میں اپنے تعارف کی کیا ضرورت ہے! یہ تو چلتی بس میں دوا بیچنے والی بات ہوئی۔ جب تین گھنٹے گزر گئے تو دو گوشوں سے کچھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ مگر طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اکثریت لاتعلق ہو کر بیٹھی رہی۔

احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو الٹا یہ کہا گیا کہ کیا کر رہے ہو! یہ لوگوں کا انبوہ نہ تھا۔ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا جو اتنا احتجاج کرنے کا شعور بھی نہ رکھتے تھے کہ روپوں کی بوریاں لی ہیں تو تین گھنٹے انتظار کیوں کراتے ہو؟

اس پروردگار کی سوگند جس نے بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کو بے تحاشا مالی وسائل دیے‘ گلو کارہ صبح کی اذان کے وقت بھی آتی تو یہ چوں تک نہ کرتے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی ذہنی بے حسی کو ماپنے کے لیے بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ دریا پار کرنے والے کی پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں تو ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کوڑے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دو تاکہ ہم جلد فارغ ہو جایا کریں!

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کسی ترقی یافتہ ملک میں سنگا پور میں یا جرمنی میں یا جاپان میں لوگوں سے ڈھیر سارے روپے لے کر تین تین گھنٹے انتظار کرایا جائے؟ یہ صرف اسی سرزمین پر ممکن ہے جہاں ولیمے کی دعوت پر اعلیٰ تعلیم یافتہ مویشی‘ لباس ہائے فاخرہ پہنے‘ ایک چپاتی اور بریانی کی ایک پلیٹ کے لیے پانچ چھ گھنٹے انتظار کرتے ہیں اور احمقوں اور ہونقوں کے کھلے دہانوں میں بھنبھناتی مکھیاں راستے بنا لیتی ہیں!

یہ وہی قوم ہے جس کے فیشن ایبل بازاروں اور مالوں میں غیر ملکی برانڈ خریدی ہوئی شے واپس کر کے رقم لوٹا دیتے ہیں مگر کوئی پاکستانی صنعت کار ایسا نہیں کرتا ‘اس لیے کہ ان مقامی برانڈوں کو معلوم ہے یہ بھیڑ بکریاں ہیں!

ان صارفین میں اتنا شعور نہیں کہ ایک ماہ صرف ایک ماہ ایسے برانڈوں کا بائیکاٹ کریں تاکہ یہ اس فرعونیت سے باز آئیں! یہ وہی بھیڑ بکریاں ہیں جو گوشت کے بائیکاٹ کا کہہ کر ‘ رات کے اندھیرے میں پورے پورے بکرے خرید لیں ؎ ان ظالموں پہ قہر الٰہی کی شکل میں نمرود سا بھی خانہ خراب آئے تو ہے کم مگر مشکل یہ ہے کہ سماجی شعور بازار میں دستیاب نہیں!

بشکریہ نائنٹی ٹو

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں