167

گولا مارو سیاست کو، بس خارجہ پالیسی دیکھو… ڈاکٹر مجاہد مرزا

کل امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جو ہمارے ہاں وزیر خارجہ کہلاتا ہے، مائیک پومپیو اسلام آباد وارد ہو رہے ہیں۔ جی ہاں تشریف نہیں لا رہے بلکہ باقاعدہ وارد ہو رہے ہیں کیونکہ کچھ ہی عرصہ پیشتر جب یہ ذات شریف سی آئی کی سربراہ تھی تب سے انہوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا ذکر نہیں بلکہ واویلا کرنا شروع کیا تھا۔ یہاں تک کہا تھا کہ اگر پاکستان اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کرتا یا انہیں اپنے ہاں سے نہیں کھدیڑتا تو ہم جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔

سابق سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن کے صدر ٹرمپ کے ساتھ اختلافات بڑھ جانے کے بعد انہیں اس عہدے سے فارغ کرکے ان صاحب کو اس عہدے پر متمکن کر دیا گیا۔ خیر سے انہوں نے پاکستان میں عمران کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہاں فون کیا تو اپنے خیال میں خود کو بہت طرار سمجھنے والی پاکستان کی وفاقی سیکرٹری برائے خارجہ امور تہمینہ جنجوعہ نے فون وزیر خارجہ کی بجائے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کو سننے پر مائل کر لیا۔ موصوفہ کچھ روز پیشتر صحافیوں کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات کے دوران سب کے سامنے فرانس کے صدر میکغواں کے فون آنے کی جھوٹی اطلاع عمران خان کو دے چکی تھیں۔ عمران خان نے بے اعتنائی برتتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے مبارک ہی دینی ہے نا، میکغواں سے کہو، صبر کرے، میں مصروف ہوں، کوئی آدھے گھنٹے بعد فون کر لے۔ اس مضحکہ خیز صورت حال کی تلافی دو روز بعد تہمینہ جنجوعہ کے محکمہ کے ہی وزیر شاہ محمود قریشی نے یہ بیان دے کر کی کہ نہیں وہ تو فون کے لیے وقت طے کرنے کی خاطر فون آیا تھا۔ مگر فون میکغواں کا نہ آنا تھا نہ آیا۔

تو جناب عمران خاں نے مائک پومپیو کا فون سن لیا تھا۔ مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ پومپیو نے دہشت گردوں کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق اپنی بات دہرائی تھی۔ وزارت خارجہ پاکستان نے جو بیان جاری کیا اس میں اس ”چیتاونی“ کا ذکر تک نہیں تھا۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی بریفنگ میں مکمل بات بتائی۔ وزارت خارجہ پاکستان نے اس کو رد کیا۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان بھی اپنے کہے بلکہ اپنے ملک کی پالیسی بارے بیان پر ڈٹ گئیں۔ رد و کد کی یہ بحث جب طول کھینچ گئی تو بالآخر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کو یہ ”حکم“ سنا کر بات روکنی پڑی کہ اب اس بارے میں مزید بات نہیں ہوگی۔

وہ وارد ہو رہے ہیں اور ان کا ہدف ملاقات اپنا ہم منصب نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اس ملاقات کے بعد مختصر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کرنا چاہیں اگر انہوں نے محفوظ پناہ گاہوں کی بات اس پریس میں کر دی تو کیسے منہ چھپائیں گے مگر ہم تو ہمیشہ کے ڈھیٹ واقع ہوئے اور ہم نے اشک شوئی کا بندوبست بھی کر لیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے نام سے جانے جانے والے دہشت گرد جال کے سربراہ جلال الدین حقانی نجانے کب اس جہان سے سدھارے تھے مگر آج چار ستمبر کو مائک پومپیو کے ورود پاکستان سے عین ایک روز پہلے تحریک طالبان افغانستان نے ان کی رحلت کی توثیق یہ کہتے ہوئے کر دی کہ جلال الدین حقانی طویل عرصے سے علیل تھے اور وہ افغانستان میں انتقال کر گئے ہیں۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ کامریڈ پومپیو جب نیٹ ورک کا سربراہ ہی اپنے ملک جا کے مرا تو اس کے ساتھی یہاں کیا گھاس چر رہے ہیں؟

وہ ایبٹ آباد میں کاکول کے نزدیک بھی ایک قلعہ نما مکان ہوا کرتا تھا جسے اب زمین بوس کر دیا گیا۔ اس میں مقیم ایک شخص کو امریکی مار کر اس کی لاش ساتھ لے گئے تھے مگر ہم نے کہا کہ لو جی یہ تو سارا ڈرامہ تھا۔ مرنے والا تو سالوں پہلے گردے کی مرض میں مبتلا رہ کر مر چکا تھا۔ اس سرپھری ضد کے باوجود ایک ڈاکٹر کا گرفتار کر لیا گیا اور اس واقعے کی تحقیق کے لیے ایک کمیشن بھی بنا دیا گیا جس کے سربراہ ایک جسٹس تھے۔ کمیشن رپورٹ تو نہ سامنے آنی تھی نہ لائی جا سکی مگر ان جسٹس صاحب کو ریٹائرمنٹ کے بعد نیب کا چیف ضرور بنا دیا گیا جن کی کاوش سے ملک میں تین بار منتخب وزیراعظم رہنے والا ایک سیاستدان اپنی بیٹی اور داماد سمیت اڈیالہ جیل میں محبوس ہے جہاں جمعرات کے جمعرات عالمگیری دربار لگتا ہے۔

فرانس کا صدر میکغواں جو اپنے ملک کی روایات کے مطابق امریکی صدر کو گھاس نہیں ڈالتا، اس کے تو ”فیک فون“ کی خبر کو اپنا سہرا بنائے جانے کی سعی کی گئی مگر کل جب ٹرمپ کا نمائندہ پہنچے گا تو قریشی صاحب اپنی مسجع ملتانی لہجے والی اردو نہیں بول سکیں گے بلکہ اس انگریزی میں من من کریں گے جو کیلیفورنیا کے اس اطالوی نسل شخص کو متاثر نہیں کر پائے گی مگر دیکھنا اگر مشترکہ پریس کانفرنس نہ ہوئی اور پومپیو نے بھانڈا نہ پھوڑا تو ان کے جانے کے بعد یہ اپنی پم پم کریں گے کہ بس ہم نے اس کی گردن پکڑ کر اس کا ماتھا میز کے ساتھ لگا دیا اور وہ ہماری سب مان کر چلا گیا۔

ایسے میں سیاست کو گولا مارا جائے بھائی۔ دے لو ان کو بھی ایک موقع۔ پی لو دو روپے سستا پٹرول اور چلا لو دو روپے فی یونٹ مہنگی بجلی۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں