11

سفیر صاحب خالد تو رہا ہو گیا۔۔۔۔۔۔ مگر ؟؟

نِدائے قلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔احسان اللہ خان 

         میڈیا نمائندگان کو دی گئی بریفنگ میں سفیر محترم نے  ان تمام باتوں کا احاطہ کیا جو ان کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،وہ مسائل جن سے ہماری کمیونٹی کسی طور جان نہ چھڑا پا رہی تھی ،وہ سب کے سب سفیر محترم نے عوامی رابطہ اور جانفشانی کے ساتھ ختم کر دیئے ۔کچھ ایسے مسائل ابھی باقی ہیں جو سفارتخانہ یا سفیر پاکستان کی دسترس یا دائرہء اختیارسے باہر ہیں ۔یہ مسائل ان کی سفارتی ترجیحات میں بھی نہیں آتے مگر وہ ان کے حل کیلئے ہمہ تن گوش ہیں ۔یہی باتیں اور ادائیں ہیں جو ہمیں بار بار ان پر قلم درازی کیلئے اکساتی ہیں ۔ببلو مجبور ہو جا تاہے کہ وہ انہیں فرائض کی بے لوث ادائیگی اور محنت پر خراج تحسین پیش کرے ۔ایک دوسرے زاویئے سے دیکھا جائے تو سفیر محترم یہ سب کچھ کر کے ہم پر کوئی احسان نہیں فرما رہے کہ انہیں ان ہی مقاصد اور خدمات کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے متعین کیا جاتا ہے  مگر جب اس زاویئے کو متضاد کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو ببلو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ پیشرو سفراء بھی تو ان ہی مقاصد کیلئے متعین کئے جاتے رہے ۔ببلو اپنے تئیں سوال کرتا ہے کہ کتنوں نے عوام کو خود تک بلا سفارش رسائی فراہم کی ؟ کتنوں نے WHATS UP یا کسی اور ذریعے سے عوام کو براہ راست شکایات بیان کرنے کی سہولت فراہم کی؟ اور اگر کوئی کمپلینٹ بکس آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے رکھ بھی دیا گیا تو کتنے لوگوں کو کال بیک کر کے ان کے مسائل کا ازالہ کیا گیا ؟کس نے فکر کی کہ ہمارے فارن افئیر کی تصدیق کو قابل قبول حیثیت دلوائی جائے؟ بلکہ اگر انصاف کیاجائے اور اللہ ہمیں سچ بولنے کی توفیق و ہمت عطا کر دے  تو پھر کہنا پڑیگا کہ یہ مسئلہ تو کھڑا ہی ان سفیروں اور سیکریٹریز کی وجہ سے ہوا جنہوں نے حرام کمائی کے لالچ میں ہر اس کاغذکی بھی تصدیق کر ڈالی جو پاکستان کے کسی ادارے سے تعلق بھی نہیں رکھتا تھا ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس دن پہلی تصدیق پر اعتراض اٹھاتھا ،اسی دن ہمارے سفیر صاحب یا اس وقت کے سیکریٹری صاحب سراپا احتجاج بن جاتے اور پاکستان سے تصدیق شدہ دستاویزات کو تسلیم کروا کے اٹھتے مگر انہوں نے اپنی جان چھڑانے کیلئے اس بات کو تسلیم کر لینے میں ہی عافیت جانی کہ ہمارے لوگ دو نمبری کرتے ہیں ،تاکہ ان کی نوکریاں اور رشوت ستانی چلتی رہیں ۔  ایسے مفاد پرست کرپٹ لوگوں نے چند سفید پوش غنڈوں کی ملی بھگت سے پوری کی پوری پاکستانی برادری کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ۔کمیونٹی راہنماء اپنی سیاسی پناہ کو پکا کرنے کیلئے مسئلہ کے حل کے بجائے  ”میں ”کی جنگ لڑتے رہے اور ہمارا نام بد سے بدنام تر ہوتا چلا گیا ۔نالائق و نا اہل لیڈران نے اپنی حرکتوں سے یونانی اداروں کو یہ یقین دلا دیا کہ ہم کرپشن میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔ہماری وزارتیں،ادارے اور سفارتخانے حرام کمائی اور رشوت ستانی کے اڈے ہیں ،پھر کیوں نہ ہم پر روزگار زندگانی تنگ کیا جاتا ؟سفیر پاکستان خالد عثمان قیصر بھلے ہی ان راہوں سے گرد کو صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کر لیں جنہیں ہماری قیادت کرنے والے بے ہنگم اور غیر تربیت یافتہ گھوڑوں  نے گدلا دیا ہے مگر  ان راہوں کی صفائی  پر اب پھر اتنی ہی محنت کرنا پریگی جتنی محنت سے انہیں پراگندہ کیا گیا ۔مگر اس بات پر سلام پیش کرنا پڑیگا سفیر پاکستان جناب خالد عثمان قیصر کو کہ انہوں نے پاکستان میں یونان ایمبیسی سے فیملی ویزوں کے اجراء اور کاغذات کی تصدیق کیلئے آواز تو اٹھائی ،ان کی نیت ،کوشش اور خلوص پر آپ لوگ ببلو کو اتنی اجازت تو دیجئے کہ انہیں خراج تحسین پیش کر کے پاکستانیوں کا  حقیقی ،سچا اور مخلص سربراہ تسلیم کرے۔ببلو جانتا ہے کہ اس کے اس موضوع پر لکھے جانے والے کالم سے کتنے  پیٹوں میں مروڑ اٹھتے ہیں ؟کتنی چہ میگوئیاں ہوں گی ؟ مگر کیا کریں سچ تو سچ ہے لکھنا اور بولنا ہی پڑتا ہے اور سچ یہ ہے کہ اگر خالد عثمان قیصر ہمیں اس وقت میسر آتے جب یونان میں پاکستانیوں کو صرف اور صرف کالو پیدی (اچھے بچے ) کہا اور مانا جاتا تھا تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ہمیں ان کی ضرورت اس وقت تھی جب سفارتخانہ سے پالیسی وضح کر کے اک دوجے کی ٹانگیں کھینچنے کیلئے فنڈنگ کی جاتی تھی ۔کاش خالد عثمان قیصر ہمیں اس وقت مل جاتے جب ایمبیسی کی سیڑھیاں چڑھنے کیلئے 200 یورو سے ریٹ شروع ہوتا تھا ۔پاسپورٹ بنوانے اور دیگر داد رسی کیلئے مخصوص لوگوں کی سفارش اور نظر کرم درکار ہوتی تھی ۔جو تکالیف ہمیں اپنے سفارتخانہ سے تھیں وہ تو ہم پھر بھی سہہ لیتے مگر کاش خالد عثمان قیصر یونانی اداروں میں ہماری بدنامی ۔فیملی ویزوں کی بندش اور وزارت خارجہ کی تصدیق شدہ دستاویزات کی عدم قبولیت سے قبل مل جاتے تو ہم یونان میں اتنے خوار نہ ہوتے ۔خیر اب بھی اگر ہم سب لوگ اپنا قبلہ درست کر کے سفیر صاحب کی بات مان لیں اورآپسی اختلافات کو بالکل ختم نہیں تو کم سے کم کر دیں تو شائید انہیں ہم سب کی نمائندگی کرنے میں زیادہ آسانی ہو گی ۔مشترکہ مسائل دم توڑ دیں گے اور شائید اسلام آباد میں یونانی سفارتخانہ کا رویہ ہمارے ساتھ اچھا ہو جائے ۔سفیر صاحب آپ کی کوشش سے ایک بے گناہ خالد محمود کو دو سال بعد جیل سے رہائی مل گئی جو ایک اچھی خبر ہے ۔ہم سالہا سال سے سنتے آرہیں کہ فلاں ابن فلاں کسی مجرم یا مطلوب کے ساتھ نام اور ولدیت کی مشابہت ہو جانے کی  وجہ سے جیل میں قید ہے ۔خالد محمود بھی اسی طرز کا ایک کیس تھا جو آپ کی توجہ سے انجام بہ خیر ہو گیا ۔مگر سفیر صاحب یونان کی جیلوں میں ایسے بے شمار خالد اب بھی موجود ہوں گے جو ناکردہ جرائم کی سزا بھگت رہے ہوں گے  ۔ببلو کی گزارش یہ ہے کہ جیلوں میں موجود بے گناہ قیدیوں تک رسائی اور ان کی رہائی کیلئے ایک مربوط لائحہ ء عمل مرتب کیجئے ۔یا تو ویلفیئر اتاشی صاحب کو سفارتخانہ کی ڈیوٹی سے آزاد کر کے اس کام پر مامور فرمایئے یا پھر جیسا آپ مناسب سمجھیں ۔مگر ان تمام خالدوں تک رسائی حاصل کیجئے جن کی دہائی اب تک آپ کی سماعت سے نہیں ٹکرائی، تاکہ انہیں بھی جیل کی قید سے آزادی نصیب ہو سکے ۔شکریہ 

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں