181

اللہ ہمیں معاف کرے… جاوید چوہدری

ہماری انقلابی حکومت نے تین دن میں غیر مسلم عاطف میاں کا ایشو سیٹل کر دیا‘ وزیر اعظم نے عوامی احتجاج اور مولانا فضل الرحمن اور مولانا خادم حسین رضوی کے دباؤ میں متنازع ممبر کو اکنامک ایڈوائزری کونسل سے فارغ کر دیا‘ وزیراعظم کے فیصلے کے رد عمل میں مزید دو ارکان عاصم اعجاز خواجہ اورعمران رسول نے بھی بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا یوں کونسل اپنے پہلے اجلاس سے پہلے تین ارکان سے محروم ہو گئی۔

وزیراعظم کی سابق اہلیہ جمائماگولڈ اسمتھ نے بھی اس فیصلے کو پسندنہیں کیا‘ دنیا بھرسے بھی ردعمل سامنے آیا لیکن ہم عاشقان رسولؐ اس فیصلے پر ایک دوسرے کو مبارک باد بھی پیش کر رہے ہیں اور حکومتی اقدام کی تعریف بھی ‘ میں بھی سمجھتا ہوں حکومت نے یہ فیصلہ کر کے عقل مندی کا مظاہرہ کیا ورنہ یہ حکومت شروع ہی میں عوامی دباؤ کے نیچے کچلی جاتی‘حکومت یہ فیصلہ کرکے فساد اور عوامی غصے دونوں سے بچ گئی۔

یہ فیصلہ ہو گیالیکن ہمیں اب چند اور فیصلے بھی کر لینے چاہئیں‘ ہمیں یہ فیصلہ بھی کر لینا چاہیے‘ یہ ملک کس کا ہے اور یہاں کون کون رہ سکتا ہے‘ ہمارے ملک میں ہندو‘ عیسائی‘ پارسی‘ سکھ‘ بودھ اور قادیانی بھی ہیں ‘ یہ اگر یہاں رہ سکتے ہیں تو ان کی رہائش کی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کیا ہوں گی؟ کیا یہ عام مسلمان بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں‘ کیا یہ اپنی عبادت گاہیں بنا سکتے ہیں‘ ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی ذمے داری کس پر عائد ہو گی‘ کیا یہ سرکاری نوکریاں کر سکتے ہیں؟

اگر ہاں تو یہ کن کن محکموں میں کام کر سکتے ہیں اور یہ کہاں تک ترقی پا سکتے ہیں؟ ہمارے ملک کی 3.6فیصد آبادی غیر مسلم اور اقلیت ہے لیکن پورے ملک میں 3.6فیصد آبادی کا کوئی فرد گریڈ 22 کا افسر نہیں‘ آپ کو فوج‘ نیوی‘ ایئر فورس‘ پولیس‘ عدلیہ‘ ڈی ایم جی اور فارن سروس کی پہلی قطار میں کوئی غیر مسلم نہیں ملے گا‘ ہمارے ملک کا ہر غیر مسلم انجینئر‘ ڈاکٹر‘ آئی ٹی ایکسپرٹ اور سائنس دان ہمارے خوف سے ملک سے باہر چلا جاتا ہے اورپھریہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا‘کیا یہ پالیسی مستقبل میں بھی جاری رہے گی؟

ہمارے ملک میں غیر مسلموں نے 70 برسوں میںکوئی نئی عبادت گاہ نہیں بنائی‘ کیا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا؟ کراچی میں قیام پاکستان کے وقت تیس چالیس ہزار یہودی رہتے تھے‘ یہ شروع ہی میں ملک سے نکل گئے‘ ہم مسلمانوں نے ان کے سینا گوگا پر قبضہ کر کے وہاں شاپنگ مال بنا دیئے اور قبرستانوں پر مکان‘آج ایران‘ پورے سینیٹرل ایشیا‘ شام‘ اردن‘ مصر اور مراکش میں یہودی موجود ہیں لیکن یہ پاکستان میں چند گھنٹوں کے لیے بھی نہیں آسکتے‘کیا یہ صورتحال مستقبل میں بھی جاری رہے گی؟ پاکستان میں 1951 میں (مشرقی اور مغربی دونوں حصوں)میں96 لاکھ ہندو تھے‘ یہ 67سال بعداب صرف 38لاکھ 85 ہزار ہیں‘ پاکستان سے ہر سال اوسطاً پانچ ہزار ہندو نقل مکانی کرتے ہیں‘ سندھ میں آج بھی انھیں زبردستی مسلمان بنایا جا تا ہے‘ پاکستان میں 70 سال بعد پہلی بار ہندو میرج لاء پاس ہوا۔

سکھوں کی تمام مقدس ترین عبادت گاہیں پاکستان میں ہیں لیکن ملک میں سکھوں کی کل تعداد 20 ہزار ہے‘ آپ کو کسی سرکاری محکمے اور دفتر میں سکھ نظر نہیں آتا‘ہم نے27 اکتوبر 2007ء کو پہلے سکھ نوجوان ہرچرن سنگھ کو پاکستان آرمی میں کمیشن دیا‘ فوج نے اسے باقاعدہ سیلی بریٹ کیا ‘ ملک میں آج بھی سیکڑوں گوردواروں پر قبضہ ہے اور عدالتیں 70 سال بعد بھی ان کا فیصلہ نہیں کر پا رہیں‘ کوئٹہ اور کراچی میں برصغیر کی طاقتور ترین پارسی کمیونٹی ہوتی تھی‘ کوئٹہ اورکراچی میں آج بھی پارسیوں کی خوبصورت کالونیاں موجود ہیں لیکن مکین یورپ‘ امریکا اور کینیڈا میں بیٹھے ہیں‘ کراچی میں صرف ایک ہزار کے قریب پارسی بچے ہیں‘ باقی نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن آپ ان کی پاکستان سے محبت ملاحظہ کیجیے۔

یہ خود یورپ میں رہتے ہیں مگر ان کے مکانات آج بھی پاکستان میں موجود ہیں‘ یہ فروخت نہیں ہوئے‘ آپ کو سرکاری نظام میں کسی جگہ کوئی پارسی بھی دکھائی نہیں دیتا‘کیا یہ سلسلہ بھی مستقبل میں اسی طرح جاری رہے گا‘ ہم نے 1971ء میں قادیانیوں کوغیر مسلم ڈکلیئر کیا‘ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ غیر مسلم ہیں اور یہ قیامت تک غیر مسلم رہیں گے‘ہم میں سے جو شخص انھیں مسلمان کہے یا سمجھے وہ بھی مسلمان نہیں رہے گا لیکن سوال یہ ہے کیا یہ لوگ غیرمسلم ڈکلیئر ہونے کے بعدپاکستانی بھی نہیں ہیں؟ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا‘ یہ لوگ اگر پاکستان کے شہری ہیں تو کیا ہمیں انھیں ان کے حقوق نہیں دینے چاہئیں!کیا یہ کنفیوژن بھی اسی طرح جاری رہے گا؟۔

یہ پاکستان میں اقلیتوں کی حالت ہے جبکہ ہم مسلمانوں کی کیا صورتحال ہے آپ یہ بھی ملاحظہ کرلیجیے‘ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے اسلام کی اصل تعریف پرکون کون سا مسلمان پورا اترتا ہے؟ دیوبندی بریلویوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں اور بریلوی دیوبندیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور یہ دونوں شیعوں کے اسلام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ پرنس آغاخان اسماعیلیوں کے روحانی لیڈر ہیں‘ اسماعیلی اور آغا خانی ملک کے مفید ترین شہری ہیں‘ پرنس آغا خان سوم 1906ء میں اس آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے جس نے آگے چل کر پاکستان بنایا تھا‘ آپ اس شخص کا وژن دیکھئے‘ ہنزہ اور گوادر آغا خانیوں کے دو بڑے شہر ہیں‘ پرنس آغا خان نے پاکستان بننے سے پہلے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا تھا تم نے کسی قیمت پر یہ دونوں شہر نہیں چھوڑنے ‘ یہ دونوں شہر کبھی دنیا کی سب سے بڑی تجارتی شاہراہ کا حصہ ہوں گے‘ آپ ملاحظہ کیجیے یہ دونوں شہر آج ’’سی پیک‘‘ کا حصہ ہیں۔

پرنس آغا خان نے یہ پیشن گوئی بھی کی تھی ڈھاکہ سے لے کر کابل تک ایک بڑی سڑک بھی بنے گی‘ یہ سڑک پورے برصغیر کو آپس میں جوڑ دے گی‘ آپ اس شخص کا وژن ملاحظہ کیجیے آغا خانیوں نے آج تک ہنزہ اور گوادر میں اپنی ملکیتی زمین کا ایک انچ فروخت نہیں کیا‘ ہم آج گوادر گوادر اور سی پیک سی پیک کر رہے ہیں لیکن 1958ء میں پاکستان نے جب گوادر عمان سے خریدا تھا تو ادائیگی پرنس کریم آغا خان نے کی تھی لیکن ہم اس ملک میں آغا خانیوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ یہ لوگ بھی دھڑا دھڑ ملک سے باہر آ باد ہو رہے ہیں‘ آپ کسی عالم دین سے ان کے بارے میں پوچھ لیجیے۔

مجھے یقین ہے وہ ان کے بارے میں شک کا اظہار کریں گے‘ سوال یہ ہے اگر یہ لوگ بھی وفادار نہیں ہیں تو پھر وفادار کون ہوتا ہے؟ اگر مسلم لیگ کے پہلے صدر کے ماننے والے محب وطن نہیں ہیں تو پھر محب وطن کون ہے‘ ہمارے دلوں میں اگر ان کے لیے بھی گنجائش نہیں ہے تو پھر ہمیں اپنے دلوں کو دل نہیں کہنا چاہیے‘ آپ کسی دن تحقیق کر لیجیے بانیان پاکستان کی اکثریت کس مسلک سے تعلق رکھتی تھی اور کیا آج اس ملک میں ان بانیان پاکستان کی مسلکی عبادت گاہیں محفوظ ہیںچنانچہ ہمیں لگے ہاتھوں یہ فیصلہ بھی کر لینا چاہیے‘ یہ ملک کس کس کا ہے اور کون کون اس ملک میں نہیں رہ سکتا؟۔

میرے دوست مجھے روز سمجھاتے ہیں تم غیر مسلموں کی وکالت نہ کیا کرو‘ میں ان سے پوچھتا ہوں ’’کیا غیرمسلم پاکستانی اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ اور کیا ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی؟‘‘ یہ کوئی جواب نہیں دیتے لیکن مجھے بار بار احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں‘ یہ کہتے ہیں تم اس طرح اپنا ایمان بھی مشکوک کرا بیٹھو گے‘ میں جواب دیتا ہوں‘ میں پاکستان کا واحد اینکر ہوں جو سیاسی پروگرام کا آغاز بھی درود شریف سے کرتا ہے۔

میرا ایمان اگر اس کے بعد بھی مشکوک ہے تو پھر میں مشکوک نہیں ہوں‘ مجھ پر شک کرنے والے مشکوک ہیں‘ دوسرا میں نے اپنے اللہ اور اپنے رسولؐ کو خوش کرنا ہے‘ لوگوں کو مطمئن کرنا میری ذمے داری نہیں‘ لوگ تو لوگ ہوتے ہیں ‘لوگوں کو اللہ توفیق نہ دے تو یہ مکہ اور مدینہ میں رہ کر بھی‘ یہ اپنی آنکھوں سے اللہ کے آخری نبیؐ کی زیارت کر کے بھی ایمان کی نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں‘ یہ کافر مر جاتے ہیں‘ جن لوگوں نے اللہ کی نہیں مانی‘ جنہوں نے رسولؐ کی نہیں سنی‘ وہ میرے جیسے لوگوں کی خاک سنیں گے۔

میرے دوست میری بات مانتے ہیں لیکن اس کے باوجود احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں‘ کل میرے ایک مفتی اور پرہیز گار دوست نے کہا‘تم نبی اکرمؐ اور چاروں خلفاء راشدین کی کابینہ میں کوئی ایک غیر مسلم یا مرتد دکھا دو‘ میں نے ان سے اتفاق کیا اور پھر عرض کیا ’’کیا یہ ملک ریاست مدینہ ہے اور کیا نعوذ باللہ نعوذ باللہ ہمارے حکمران خلفاء راشدین جیسے ہیں؟‘‘ وہ خاموش رہے‘ میں نے عرض کیا‘ میں پھر بھی اگر آپ کی دلیل مان لوں تو ریاست مدینہ میں ملاوٹ بھی نہیں ہوتی تھی۔

ریاست مدینہ میں ریاکاری‘ منافقت‘ جھوٹ‘ ناانصافی‘ ظلم‘ لاقانونیت‘ عصبیت‘ منشیات‘ جہالت اور بیماری بھی نہیں تھی‘ وہاں لوگ گندہ پانی‘ جعلی دودھ‘ غلیظ خوراک‘ گدھوں کا گوشت اور یتیموں اور بیواؤں کا مال بھی نہیں کھاتے تھے‘ وہاں گدیاں بھی نہیں ہوتی تھیں اور گدیوں کی کمائیاں بھی نہیں کھائی جاتی تھیں‘ وہاں ڈی پی اوز کو بے عزت کر کے بھی نہیں نکالا جاتا تھا اور وہاں ذوالفقار علی خان اور نصر اللہ دریشک جیسے ایم این ایز پٹواریوں کے تبادلوں کے لیے ڈپٹی کمیشنروں کو ذلیل بھی نہیں کرتے تھے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کا ایمان مشکوک نہیں ہوتا تھا اور مسلمانوں پرکفر کے فتوے بھی نہیں لگتے تھے اور وہاں سرکاری دفتروں میں رشوتیں لی اور دی بھی نہیں جاتی تھیں‘ ہم اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پانی‘ دودھ اور گوشت کو ریاست مدینہ کے لیول پر نہیں لا سکے تو پھر ہمیں مذہب کے نام پر لوگوں کی وفاداری اور حب الوطنی کا فیصلہ کرنے کابھی کوئی حق حاصل نہیں۔

ہم مسلمان جس دن ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے ہم اس دن حب الوطنی اور ایمان کی جتنی عدالتیں چاہیں لگا لیں کوئی شخص کوئی اعتراض نہیں کرے گا لیکن ہم جب تک خود مسلمانی کے معیار پر پورے نہیں اترتے ہمیں اس وقت تک دوسروں کے اسلام پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘میں جب بھی قرآن مجید پڑھتا ہوں مجھے اپنے معاشرے میں وہ تمام خامیاں اور برائیاں نظر آتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو باز رہنے کا حکم دیا‘ اللہ ہمیں معاف کرے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں