98

تلاشِ گمشدہ، خادمِ اعلیٰ…سلمان نثار شیخ

جو لوگ نیچے سے تربیت لے کر اوپر آنے کی بجائے اوپر والوں کی طرف سے براہ راست لوگوں کے اوپر مسلط کر دیئے جاتے ہیں، ان کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ جب مشکل وقت آتا ہے، آزمائش کا دور شروع ہوتا ہے، اوپر بیٹھ کر لوگوں کا تمسخر اڑانے کا دور ختم ہوتا ہے اور بقول اقبال

تھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں
آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ

کا وقت آتا ہے تو اس دور میں ایسے لوگوں کا کردار عموماً مضمحل ہوتا ہے اور اسی دور میں پتا چلتا ہے کہ وہ خود کتنے پانی میں ہیں۔

یہ تو ٹھیک ہے کہ بینظیر بھٹو اس لئے چھوٹی سی عمر میں پیپلز پارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعت کی مدارالمہام بن گئیں کیونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں لیکن انہوں نے باپ کی چھتری تلے کبھی حکومت نہیں کی تھی۔ بلکہ باپ کی چھتری ہٹتے ہی جب وہ خود عملی سیاست میں آنے پر مجبور ہوئیں تو پہلے گیارہ سال انہیں اپوزیشن کرنا پڑی۔ احتجاج، ماتم، جنازے، مقدمے، پیشیاں، جیلیں اور جلاوطنیاں، سب کچھ سہ لینے کے بعد انہیں تخت پر بیٹھنا نصیب ہوا اور وہ بھی معدودے چند مہینوں کیلئے۔ اس کے بعد پھر وہی اپوزیشن، وہی دورِ آزمائش!

عمران خان پر آج ان کے مخالفین کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ انہیں حکومت کا کوئی تجربہ نہیں، انہوں نے وزارت عظمیٰ سنبھالنے سے قبل کبھی کوئی یونین کونسل بھی نہیں چلائی جو بالکل درست ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عمران خان نے سالہاسال اپوزیشن کی ہے، احتجاج کئے ہیں، دھرنے دیئے ہیں، ریلیاں نکالی ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی ریاست کی قوت سے بار بار ٹکرائے ہیں۔ ہر چند کہ ایسے اوقات میں عمران خان خود کبھی کنٹینر کے اندر رہے تو کبھی بنی گالہ کے اندر… بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ مار ہمیشہ کارکنان ہی کا حصہ رہی اور تخت ہمیشہ رہنماؤں ہی کا حق سمجھا جاتا رہا لیکن بہرحال، ایسے یا ویسے، عمران خان مشکل وقت میں اپنی جماعت کو اچھا برا لیڈ ضرور کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہر قسم کے حالات کا سامنا کیا ہے اور مشکل سے مشکل حالات بھی انہیں تھکانے، ہرانے، ڈرانے یا بھگانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دراصل یہی ثابت قدمی اور اچھے برے وقت میں ڈٹے رہنے کی صلاحیت ایک سیاسی رہنما کا بالخصوص اور ایک حکمران کا بالعموم وہ طرۂ امتیاز ہوتا ہے جو اسے عہدِ حکمرانی میں مشکلات سے کماحقہ عہدہ برأ ہونے کے قابل بناتا ہے۔

خیر! بات ہو رہی تھی اپوزیشن کی۔ میاں نواز شریف جب گوال منڈٰی سے کونسلر کا الیکشن لڑے یا جب وہ غیرجماعتی صوبائی اسمبلی کے رکن بنے یا جب وہ پنجاب کے وزیر خزانہ بنے یا جب وہ پہلی بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو اس وقت تک میاں شہباز شریف کہیں نہیں تھے۔ جب میاں صاحب بی بی کے پہلے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں دوسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو اس بار میاں شہباز شریف پہلی بار پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ گویا آغاز ہی براہ راست بھائی کی چھتری کے نیچے اور وہ بھی صوبے کی حکمران جماعت کے رکن کے طور پر۔

جب میاں نواز شریف نوے میں پہلی بار وزیراعظم بنے تو شہباز شریف پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ گویا بدستور براہ راست بھائی کی چھتری کے نیچے اور بدستور حکمران جماعت کے رکن کے طور پر۔ ترانوے میں بی بی وزیراعظم اور ان کے اتحادی منظور وٹو وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔ میاں نواز شریف مرکز میں اپوزیشن لیڈر بنے جبکہ شہباز شریف پنجاب میں۔ لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ چھوٹے میاں صاحب علیل ہیں اور بغرض علاج ان کا لندن سدھارنا ناگزیر ہے چنانچہ وہ ’’چند برس‘‘ کیلئے دیارِغیر سدھار گئے اور مجبوراً ان کی جماعت کو پرویز الہٰی کو ’’قائم مقام‘‘ اپوزیشن لیڈر بنانا پڑا۔ چھوٹے میاں صاحب اپوزیشن کا محاذ نہایت گرم ہو جانے اور حکومت کی رخصتی کا وقت عین قریب آ پہنچنے کے بعد ’’صحت یاب‘‘ ہو کر وطن واپس تشریف لے آئے۔

ستانوے میں بڑے میاں صاحب وزیراعظم بنے تو انہوں نے اپنے گزشتہ دور کے ’’قائم مقام‘‘ صوبائی اپوزیشن لیڈر چودھری پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن چھوٹے میاں صاحب نے بڑے بھائی پر اباجی (میاں شریف مرحوم) سے دباؤ ڈلوا کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ لے لی۔ تاہم اس بار نہ تو وہ علیل ہوئے اور نہ ہی لندن یاترا کا ارادہ کیا۔ البتہ مشرف کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد جب قید و بند چھوٹے میاں صاحب کا مقدر بنی تو دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹے میاں صاحب کا دباؤ ہی تھا کہ جس نے بڑے میاں صاحب کو مشرف سے معاہدہ کرکے جلاوطنی قبول کرنے پر مجبور کیا!

گویا ن لیگ کی تاریخ کے اس سخت ترین دور میں بھی چھوٹے میاں صاحب کو اپنی پارٹی کو جیل کے اندر یا باہر سے لیڈ کرنے کا کوئی تجربہ نہ ہوا۔ قید بھی بڑے میاں صاحب کی چھتری تلے کاٹی اور لیڈ بھی وہی کرتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک بار پھر پارٹی کو جاوید ہاشمی اور نثار علی خاں جیسے ’’قائم مقام‘‘ اپوزیشن لیڈران کے حوالے کرکے بیرونِ ملک سدھارنا بہتر سمجھا۔ مشرف کی رخصتی کے بعد چھوٹے میاں صاحب دس سال تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔

اب تقریباً دو ماہ سے بڑے میاں صاحب قید ہیں اور شہباز شریف پارٹی کے مدارالمہام۔ نواز شریف کے لندن جانے تک ن لیگ اپنے عروج پر تھی اور اس کے بعد سے آج تک مسلسل اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔ پارٹی میاں نواز شریف کی پاکستان واپسی کے روز شاید تاریخ میں سب سے بڑھ کر چارجڈ تھی لیکن اس روز اس کا قافلہ سالار داتا دربار سے نکلا اور لاہور ایئرپورٹ پہنچنے سے قبل کھوگیا۔ تب سے لے کر آج تک لیگی کارکنان بالخصوص اور پوری قوم بالعموم چھوٹے میاں صاحب کی تلاش میں ہے لیکن وہ ہنوز گمشدہ ہیں۔ نہ وہ الیکشن مہم میں اپنے بڑے بھائی کی طرح پوری قوت سے گرجتے برستے نظر آئے اور نہ ہی الیکشن کے بعد اسمبلی کے اندر کسی کو ان کی للکار در للکار سنائی دی۔ نہ وہ آصف زرداری کو منا سکے نہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ لے سکے۔ نہ اپوزیشن کا صدر منتخب کروا سکے اور نہ ہی اب تک اسمبلی کے اندر یا باہر دھاندلی کا اپنا مطالبہ بھرپور انداز میں رجسٹر کروا سکے۔

عمران خان وزیراعظم بن چکے اور میڈیا کو خود خان صاحب کے گزشتہ بیانات و دعووں ہی کی روشنی میں ان کو گھیرنا اور ان کی اپوزیشن کرنا پڑ رہی ہے۔ ن لیگ کی جانب سے تاحال قومی اور صوبائی سطح پر کہیں کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ البتہ اس تمام تر دگرگوں صورتحال کے باوجود ایک کام چھوٹے میاں صاحب نے نہایت کامیابی اور نہایت ہوشیاری سے کرلیا ہے؛ اور وہ یہ کہ مرکز میں خود اور پنجاب میں صاحبزادے کو اپوزیشن لیڈر بنوا لیا ہے۔

اپوزیشن کرنی آئے یا نہ آئے، اس کا کوئی تجربہ ہو یا نہ ہو، پارٹی خسارے میں جائے یا منظر ہی سے غائب ہوجائے، ووٹر ناراض ہو یا نہ ہو، لوگ دھاندلی کا معاملہ یاد رکھیں یا بھول جائیں، انتخابات اور ان کے نتائج کی شفافیت پر لگا سوالیہ نشان موجود رہے یا مٹ جائے، بڑے میاں صاحب، ان کی صاحبزادی اور داماد پابند سلاسل رہیں یا آزاد، ان کی سزا پر لگے سوالیہ نشان واضح رہیں یا وقت کی گرد تلے دب کر معدوم ہو جائیں، حکومت پر انتخابی دھاندلی سے متعلق عوامی دباؤ برقرار رہے یا نہ رہے، چھوٹے میاں صاحب کی بلا سے! البتہ اپوزیشن لیڈر کا پروٹوکول اور دیگر مراعات بہرحال ان ہی کے خاندان میں موجود ہیں اور ن لیگ کے چھوٹے موٹے ’’غیر شریف‘‘ لیڈران کی پہنچ سے الحمدللہ دور ہیں۔

لیکن ن لیگ کا عام کارکن اور ووٹر اس تمام تر سناٹے اور بے حسی و بے بسی کے ماحول سے خاصا تنگ ہے اور ہو سکتا ہے کہ جلد یا بدیر چھوٹے میاں صاحب کو اس صورتحال کے شدید عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ اس ممکنہ ردعمل کا ایک مظاہرہ ضمنی الیکشن میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ میاں صاحب کو چاہئے کہ اگر وہ واقعی اپنی پارٹی اور ووٹر سے مخلص ہیں تو یا تو یہ بزدلی، خاموشی یا بے حسی کی حکمت عملی ترک کرکے خود فرنٹ فٹ پر آجائیں؛ اور اگر ایسا نہیں کرنا تو پھر جماعت کی باگ ڈور خواجہ آصف یا کسی بھی اور سینئر رہنما کو تھما کر چپ چاپ ایک بار پھر بغرض علاج لندن چلے جائیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ عوامی ردعمل بڑا ظالم ہوتا ہے۔ آج جو عوام چپ چاپ آپ کو تلاش کر رہے ہیں اور الیکشن ہار جانے کے باوجود اس امید پر آپ کی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں کہ جلد آپ ان کی رہنمائی کیلئے میدان عمل میں جلوہ افروز ہوجائیں گے، عین ممکن ہے کہ کل وہی عوام آپ کے رویّے سے بیزار ہوکر بالکل اسی طرح کنارہ کش ہوجائیں جیسے پی پی پی کے ووٹرز کی ایک بڑی تعداد یہ سوچ کر اپنی جماعت کو الوداع کہہ چکی کہ یہ ’’بھٹو کی نہیں، زرداری کی جماعت ہے۔‘‘

ویسے سوچنے کی بات ہے میاں صاحب! جب لوگ یہ کہہ کر آپ کی جماعت سے الگ ہوں گے کہ یہ ’’نواز شریف کی نہیں، شہباز شریف کی جماعت ہے،‘‘ تو آپ کو کیسا لگے گا؟ لیجیے! پھر اقبال یاد آ گئے:

سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!
دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!

ناپید ترے بحرِ تخیل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے

تعمیر خودی کر اثرِ آہ رسا دیکھ

جنت تری پنہاں ہے ترے خونِ جگر میں
اے پیکرِ گل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ

نوٹ: ورلڈ پوائنٹ نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں