542

بیک ٹو اسکول پروگرام ایک تعمیری سوچ ،بلھے داپنجاب,عاصم مہاروی چشتی اور پاکستانیت

 ڈاکٹر قمرفاروق

جب ہم بچپن میں تھے تو ہمیں چھٹیوں کا بڑا چاو ہوتا تھا ۔جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی نماز جمعہ اور پھر باقی کا دن کرکٹ یا ہاکی کھیلتے گزر جاتا ۔ہفتہ کے روز اسکول ایک بوجھ سا لگتا ۔پھر جون کی چھٹیاں کسی عید سے کم نہیں ہو تی تھیں۔جو پورے تین مہینوں کی ہوتی۔جس میں چھٹیوں کا کام اور کھیل اور یہب3 مہینے پتہ نا چلتا کب ختم ہو جاتے اور دوبارہ اسکول
یورپ میں آئے تو یہاں بھی گرمیوں کی دو ماہ کے قریب چھٹیاں ہوتی ہیں ۔پاکستانی بچے یا تو ضد کر کے پاکستان چلے جاتے ہیں یا پھر ادھر ہی دوسرے ملکوں کی سیر کر کے چھٹیاں بتا لیتے ہیں ۔ابھی ستمبر کے پہلے ہفتہ میں اسپین میں گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہو ئی ہیں۔بارسلونا میں آل پاکستانی فیملیز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی بچوں کے لیے “بیک ٹو اسکول”کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں پاکستانی اور بھارتی بچوں اور ان کی ماوں نے شرکت کی۔پروگرام کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا۔جس میں بچوں کے لئے بہت سی سرگرمیاں تھیں ۔کھیل اور تقاریر نغمے وہ سب کچھ جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی نمو کے لئے ضروری ہے۔
آل پاکستانی فیملی ایسوسی ایشن کا مقصد صرف تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا ۔جس میں بچوں میں علم کی اہمیت اور والدین کے لئے تعلیم یافتہ بچے کسی نعمت یا سرمایہ سے کم نہیں ہوتے باور کرانا تھا ۔یہ نوبت کیوں پیش آئی یا آتی ہے اس کی ایک وجہ جو مجھے بطور پاکستانی سمجھ آتی ہے وہ ہے روپے پیسے کی لالچ جو ہم اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں ۔یورپ میں آکر ہم بچوں کا مستقبل بنانے کی بجائے بچوں کیب18 سال عمر پوری ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور کام پر لگا دیتے ہیں ۔اور یوروز کی محبت نے ہمیں تعلیم سے دور اور سیمنٹ اینٹ اور ناک اونچا کرنے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔
پروگرام میں ایک یونیورسٹی کے طالب علم نے بہت خوبصورت بات کہی کہ پاکستان میں رہنے والے لوگ خواب دیکھتے ہیں کہ ہم یورپ میں تعلیم حاصل کر سکیں جس کے کئے وہ لاکھوں یورو ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں ۔تب کہیں جا کر کسی کا میرٹ بنتا ہے ۔لیکن ہمیں یہاں پر یہ سہولت فری میں حاصل یے۔اور ہم اس جانب توجہ نہیں کر رہے۔والدین کو چاہیے کہ یہاں کے اسکول کالج اور یونیورسٹی کے طریقہ تعلیم کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو فری میں اعلی تعلیم دلوائیں جس سے ناصرف ہم ایک پڑھی لکھی قوم کے طور پر سامنے آئیں گے بلکہ آپ کے خاندان کا نام بھی روشن ہوگا ۔
بیک ٹو اسکول پروگرام صرف ایک پروگرام نہیں تھا بلکہ ایک سوچ تھی کہ پاکستان کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔اور اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جائے۔اپنے بچوں پر سرمایہ کاری کی جائے اور انہیں یہاں کے مقامی اسکول و کالج میں بہترین جگہ پر پہنچایا جائے۔سیکرٹری امیگریشن اور یل اماروس نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ کاتالونیا میں پاکستانی بچے تعلیم کے میدان میں نمایاں اہمیت کے حامل ہیں ۔آج کے یہ بچے کل کے کاتالو نیا کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔اوریل اماروس کا کہنا تھا کہ اگر لندن کا میئر ایک پاکستانی بن سکتا ہے تو بارسلونا کا کیوں نہیں بن سکتا ۔سیکرٹری امیگریشن نے تو اپنے دروازے کھول دئیے ہیں اب ان دروازوں سے گزرنے کے لئے تعلیم کی سیڑھی کی ضرورت ہے اور یہ سیڑھی پاکستانی والدین ہی اپنے بچوں کو مہیا کر سکتے ہیں ۔
بیک ٹو اسکول پروگرام کے منتظمین نے تعلیم و شعور کی آگاہی کا پروگرام ترتیب دے کر پاکستانی کمیونٹی میں ایک فعال اور کار آمد پروگرام کر کے یہ کوشش کی ہے کہ ہم مثبت انداز میں پروگرام کر کے اپنی نئی نسل کو نئی راہیں دے سکتے ہیں۔جو ترقی اور شعور کی راہیں ہیں ۔جن پر چل کر ہی ہم بطور پاکستانی اپنی ایک پہچان بنا سکتے ہیں ۔اور پاکستان اور اسلام کے سنہری اصولوں کی سفارت کاری کر سکتے ہیں ۔
پاکستانی کمیونٹی کے بچوں کو ایسے مفید پروگرامز کی اشد ضرورت ہے۔جس کی شروعات آل پاکستانی فیملی ایسوسی ایشن اور پاکستانی قونصلیٹ بارسلونا کر چکی ہے۔امید ہے کہ کمیونٹی کے رہنما اس لائن پر بھی سوچیں گے۔

بلھے دا پنجاب

محترم ارشد اعوان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے۔پنجابی شاعری میں خوبصورت شعر ارشد اعوان کا خاصہ ہے۔خوبی یہ ہے کہ یورپ میں رہ کر اپنی ماں بولی کی ترویج کر رہے ہیں ۔ماں بولی کے بڑھاتے کا کام کرنا انتہائی مشکل ہے۔ارشد اعوان نا صرف ماں بولی کی ترویج کر رہے ہیں بلکہ شاعری کا انداز اپنا کر یہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔
پاکستان کا ادبی حوالہ سیالکوٹ زرخیز ذہنوں کی آبیاری کر رہا ہے۔سیالکوٹ سے بابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کو پڑھیں تو آپکو پنجابی کی اہمیت قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ارشد اعوان اسی دھرتی کا بیٹا ہے اور پنجابی کی محبت اس کے دل ودماغ میں رچی بسی ہے۔
بارسلونا کا کوئی مشاعرہ جس میں ارشد اعوان موجود ہو تو مشاعرہ اسی کے نام رہتا ہے۔یہ اس کے کلام کا اعجاز نہیں بلکہ ماں بولی سے محبت کا اعزاز ہے۔
ارشد اعوان کی محبت کہ آج انہوں نے اپنی ماں بولی محبت کا حصہ دار بنایا ہے۔اور بلھے دا پنجاب عنایت کی ہے۔

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی اور پاکستانیت

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی دنیا بھر میں چشتی درویش کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور چشتیہ رباط صوفی اسٹڈیز سنٹر کے چیرمین ہیں آپ کا تعلق چشتیہ نظامیہ سلسلہ کی عظیم درگاہ آستانہ عالیہ قبلہ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کی درگاہ سے ہے آج کل اسپین کے دورے پر ہیں۔ اٹھارویں صدی سے اب تک چشتیہ نظامیہ سلسلہ کی تمام معروف اور غیر معروف درگاہیں ، کوٹ مٹھن شریف، تونسہ شریف، سیال شریف، جلال پور شریف، گولڑہ شریف ، بھیرہ شریف اور دیگر سب ہی چشتیاں شریف سے روحانی توسل اور فیض یافتہ ہیں۔بارسلونا میں آپ سے ملاقات ہوئی جو اچانک تھی۔موقع غنیمت جانا اور اپنا تعارف کرا کر آپ کے پاس بیٹھ گیا ۔آپ کے ہمراہ ذوالفقار رضا بھی موجود تھے۔مختلف موضوعات پر بات چیت ہو تی رہی ۔پاکستان اور پاکستان کی سیاست پر پر مغز گفتگو فرمائی آپ نے دو باتوں میں پاکستان کے مستقبل کا نقشہ کھینچ دیا ۔پاکستان کا مولوی دائرہ کار میں ہونا چاہیئے ۔جتنی زیادہ فکر کی راہیں ہوں گی اتنا زیادہ اسلام مضبوط ہوگا ۔لیکن کسی بھی حکمران کو یہ اجازت نہیں ہو نی چاہیئے کہ وہ کسی ایک فکر کی سر پرستی کرے اور اس کو ہر طرح کی آزادی دے یہ غلط ہے اور اسی وجہ سے ملک کے اندر مذہبی جماعتوں نے خرابی پیدا کی ہے۔مذہبی آزادی ہو نی چاہیئے لیکن کسی ایک کو حکومتی سر پرستی نہیں ملنی چاہیئے۔
آپ نے کہا کہ پاکستان تا قیامت رہنے کے لئے بنا ہے ۔70 سال میں جن مشکلات سے گزر گیاہے پاکستان کےعلاوہ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو وہ کب کا ختم ہو گیا ہوتا ۔دنیا میں کتنے نظام آئے اور سب نے پاکستان میں پنپنے کی کوشش کی لیکن وہ ختم ہو گئے پاکستان ہے اور رہے گا ۔آپ نے کہا کہ اب آنے والا وقت آسانیاں لے کر آئے گا۔آپ نے کہا کہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان عالمی طاقت بنے گا ۔لیکن پاکستان ایک مرکزی حیثیت کا حامل ہو گا۔اور دنیا کے فیصلوں میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
پاکستانی ایک ذہین قوم ہے اس وقت دنیا کی ترقی میں پاکستانی اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طالب علم نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔اور علم کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں ۔یہی وہ نوجوان ہیں جو پاکستان کی بقا کے ضامن ہیں۔
صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی پاکستان کے مستقبل سے پر امید ہیں اور دوسروں میں بھی ایک امید کی شمع روشن کر رہے ہیں ۔
صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی سے یہ ملاقات لمبا دورانیہ ہو نے کے باوجود مختصر سی لگی ۔اور اس امید پر جدا ہوئے کہ جلد دوبارہ ملاقات ہو گی ۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں