283

دس برس بعد ملکی سیاسی قیادت کا منظرنامہ کیسا ہوگا؟…ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

بعض مرتبہ ایسے اشعار دیکھنے سننے کو ملتے ہیں کہ ان کا اثر تادیر قائم رہتا ہے رومانیت ایک خاص کسک کے ساتھ یادوں کے موسم اور رتیں لیے دل میں گھر کر لیتی ہے ایسا ہی ایک شعر گذشتہ دنوں کسی نے بھیجا ۔

گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر میرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے

میرا بچپن یادداشت کے اعتبار سے ساٹھ کی دہائی کے آغاز سے کوئٹہ جیسے اُس وقت کے دنیا کے پُر فضا، صحت افزا اور خوبصورت چھوٹے سے شہر میں گذرا، یہ شہر چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھری وادیِ کوئٹہ کے درمیان ہے، یہا ںجنوب سے شمال کی جانب بہتا دریائے لورا پشین جس کی چوڑائی اور بہاؤ عام دنوں میںآٹھ سے دس فٹ اور پانی کی گہرائی تین سے چار فٹ ہوا کرتی تھی، مگر ویسے اس دریا کا پاٹ تقریبا ستر میٹر چوڑا اور دونوں کناروں کے درمیان گہرائی پچاس فٹ سے زیادہ تھی اور جب زوردار با رش ہوتی اور سیلاب آتا تو یہ دریا کناروں تک بھر کر بہتا، مغرب میں بروری کے پہاڑ سے کرخساں اور درے کی جانب سے ایک بڑے چشمے کا ڈھلوان میں بہتا تیز رفتار پانی اس کی جانب آنا چاہتا مگر اس کے کناروں تک تین کلو میٹر کے درمیان لگے باغات چھوٹی چھوٹی نالیوں سے اسے اپنی اپنی جانب اس طرح کھینچتے کہ اس کی ملاقات بھی بس سیلاب کے زمانے ہی میں دریا سے ہوا کرتی تھی۔

یہی صورت شمال مغرب میں ولی تنگی،اوڑک اور ہنہ کے چشموں سے آنے والے پا نیوں کی تھی مگر دریائے لورا پشین کے اپنے کناروں پر درجنوں چھوٹے چھوٹے ابلتے شفاف پانی کے چشمے اس کے بہاؤ کی خوداری اور خود مختاری کو قائم رکھتے تھے۔ کوئٹہ کی پیالہ نما وادی پچاس ہزار کی آبادی تقریباً دس ہزار پختہ اور نیم پختہ گھروں میں رہتی تھی، شائد غم اس وقت بھی ہوتے ہو نگے یا تو ان کی شدت زیادہ نہیں تھی یا ہمارے والدین اور بزرگ اتنے باظرف تھے، ان گھروں میں اس شہر میں اور ملک میں بھی غموں کا احساس کم از کم معصوم بچوں کو نہیں تھا، پھو لوں کے رنگ خوشبو ، پرندوں کی چہچہاہٹ، بازاروں، پارکوں ،کھیل کے میدانوں میں گونجتے قہقہے سب اپنائیت کے ساتھ ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے، ہمیں خبر ہی نہیں تھی کہ یہ سہانا خواب یک دم چکنا چور ہو جائے گا۔ 16 دسمبر1971 میں ہم صرف سترا سال کے تھے کہ ہم نے اُس اجتماعی اور قومی درد کو فیض احمد فیض کے درد بھر لہجے میں یوں سنا۔

ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی بر ساتوں کے بعد

ملک دو لخت ہو چکا تھا، چار دن بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا سول مارشل لا ایڈ منسٹریٹر اورصدر بنا کر اقتدار ان کو سونپ دیا گیا۔ اب ہم نے بھی تحریک پاکستان اور تاریخ پڑھنی شروع کردی، لمحے لمحے کی خبر بھی رکھنی شروع کی، پتہ چلا کہ ملکی خزانے میں سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے صرف تین مہینے کی رقم ہے پھر سعودی عرب اور لیبیا نے ہماری فوری مدد کی، آنسو بھری آنکھوں سے تاریخ کو دیکھا، ہندوستان میں ہماری آزادی کی جدو جہد کے بعد یہ دوسری نسل تھی جن میں ہمارے والدین شامل تھے، پہلی نسل قائد اعظم ، مولانا محمد علی جوہر، علامہ اقبال، لیاقت علی خان اور ان سے ذرا پہلے سر سید احمد خان تھے، آزادی مل گئی، قائد اعظم آزادی کے تیرا ماہ بعد انتقال کرگئے۔ فیض نے دکھی دل سے کہا

یہ داغ داغ اجالایہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

1951ء میں لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا تو اس وقت کے نوجوان شاعر محسن بھو پالی نے کہا

نیرنگیِ سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک ِ سفر نہ تھے

بھٹو 1928ء میں پیدا ہوئے تھے اور اس عہد کے باقی نمایاں سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھی اکثر وہی تھے جو 1920ء کے بعد یا ذرا پہلے پیدا ہوئے تھے جن میں خان عبدالولی خان، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد ، مولانا شاہ احمد نورانی، ریٹائر ائیرمارشل اصغر خان، خان عبدالقیوم خان، جی ایم سید، پیر پگارا صبغت اللہ ، نواب نصراللہ خان، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطا اللہ مینگل،خان آف قلات احمد یار خان، جام غلام قادر، ظفر اللہ خان جمالی، پاکستان کی آزادی کے 23 برس بعد ہونے والے عام انتخابات کے بعد 20دسمبر1971 کو حکومت بھٹو کے حوالے کردی گئی تھی۔ اب پاکستان کا رقبہ 796096 مربع کلو میٹر اور آبادی پانچ کروڑ تھی۔

صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے چند ماہ کی کوششوں سے 1972ء کا عبوری آئین بنا کر ملک میں پارلیمانی نظام حکومت قائم کردیا اور پھر 1973ء کا مستقل آئین دے کر اس نظام کو مستحکم کر دیا۔ ملک کی یہ لیڈر شپ وہ تھی جو آزادی کے وقت بالکل جوان تھی جس نے آزادی کے لیے ہونے والی قربانیوں کو دیکھا تھا اور پھر پختہ عمر میں وہ عظیم المیہ دیکھا تھا جب ملک دو لخت ہو گیا تھا، 1970 کے انتخابات ایک طرح سے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کی سماجی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی بنیادوں پر عوامی سروے رپورٹ تھی۔ اِن مسائل اور اِن کی شدتوں میں اضافہ اس لیے ہوا تھا کہ آزادی کے حوالے سے ہماری پہلی نسل قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ عوامی جمہوری قیادت نہیں رہی، جو عوام کی امنگوں کی آئینہ دار ہوتی، فوراً ملک کا آئین بنا لیتی، اس طرح ملک پانچ پانچ سال کی مدت کے بعد ہونے والے انتخابات کے جمہوری عمل سے محروم ہو گیا تھا، یوں 16دسمبر 1971ء کا المیہ وہی تھا جس المیے کی پرورش وقت کے اعتبار سے 23 برسوں میں ہوئی تھی۔

بھٹو نے پاکستان کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کامیاب کوشش کی مگر بلوچستان کے اعتبار سے اُ ن کی پالیسی درست نہیں تھی۔ واضح رہے کہ 1970ء کے انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی اور یہاں نیپ اور جمعیت علما اسلام کی مخلوط صوبائی حکومتیں قائم ہو ئی تھیں۔ بھٹو نے بلوچستان میں نیپ اور جمعیت علما اسلام کی صوبائی مخلوط حکومت جس کے وزیر اعلیٰ سردارعطا اللہ مینگل تھے نہ صرف ان کی حکومت کو ختم کردیا بلکہ ان کے گورنر غوث بخش بزنجو کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا جس کے جواب میںخیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ جمعیت علما اسلام کے مفتی محمود مستعفی ہوگئے، اور پھر نیپ کے رہنماؤں کو بغاوت کے مقدمے کے تحت حیدرآباد جیل میں قید کر لیا، اور یہ رہنما 1977 میں اس وقت تک جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی جب ان رہنما ؤں کو رہا کیا گیا تو ان میں سے اکثر رہنماؤں نے یا تو اس دور کی سیاست سے کنارہ کشی کر لی یا خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی ۔

پھر جنرل ضیا الحق کے دور میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ یو ں 1972 کے عبوری آئین سے جس پارلیمانی سیاست کا دور شروع ہوا تھا اس کا اختتام 1977 میں ہو گیا اور بھٹو عہد کی ملک کی دوسری نسل کی قیادت اب بڑھاپے کو پہنچ رہی تھی۔ ضیاالحق حکومت نے بلدیاتی نظام معتارف کرایا اور درمیانے درجے کی عوامی قیادت پیدا کرنے کی کوشش کی اور کراچی میں اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات کے بعد قائم ہو نے والی پارلیمنٹ کے قیام کے وقت افغانستان سے سوویت یونین نکلنے کا کوئی مناسب بہانہ تلاش کر رہا تھا، جنیوا مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے، وزیر اعظم محمد خان جنیوا کے زیرسایہ نہ صرف 1973 کے آئین میں صدر کے اختیارات وزیراعظم سے زیادہ ہوگئے تھے اور اس پارلیمنٹ سے اور پارلیمنٹ سے باہر نئے چہرے بھی ابھر رہے تھے جو نوجوان اور پاکستان کی تیسری سیاسی قیادت تھی، غیرجماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والی پارلیمنٹ 1988ء میں صدر ضیاالحق نے ختم کردی اور اس کے چند دنوں بعد ضیاالحق طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

اسی سال قومی سطح پر نوجوان قیادت نواز شریف اور بینظیر کی صورت میں سامنے آئی۔ متحرمہ بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو پیدا ہوئیں اور27 دسمبر2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 54 برس کی عمر میں شہید کردی گئیں۔ وہ بھٹو کی پہلی اولاد تھیں۔ آخری وقت میں وہی ذوالفقارعلی بھٹو کے قریب رہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، معاشیات اور سیاسیات ان کے شعبے تھے، وہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے 2 دسمبر1988ء کو ملک کی وزیر اعظم بنیں، 16 نومبر 1988ء میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 207 جنرل نشستوں میں سے کل کاسٹ کئے جانے والے ووٹوں میں سے7546561 یعنی38.5% ووٹوں کی بنیاد پر 94 نشستیں حاصل کیں جب کہ ان کے مقابل آئی جے آئی نے 5908741 یعنی30.2% ووٹوں کی بنیاد پر 56 نشستیں حاصل کیں۔

بینظیر بھٹو 35 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنی تھیں اور پھر دوسری مرتبہ 19 اکتوبر 1993 سے 5نومبر1996 تک وزیراعظم رہیں ، جب وہ پہلی دفعہ وزیراعظم بنی تھیں تو یہ عام تاثر تھا کی آئی جے آئی کی تشکیل اور پی پی پی کی کم ووٹوں سے کامیابی ایک سازش کا نتیجہ ہے اور ایسی صورت میں بینظیر بھٹو کو اقتدار لینے کی بجائے مضبو ط اپو زیشن کرنی چاہیے اور سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے اس وقت کا انتظار کرنا چا ہیئے جب پیپلز پارٹی کو انتخابات میں بہت واضح اکثریت سے کا میابی ملے اور اس کی بنیاد پر 1973ء کے آئین کو پہلی فرصت میں اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے ، مگر پارٹی کی اہم شخصیات کا موقف یہ تھا کہ پیپلز پارٹی تقریبا گیارہ سال بعد اقتدار حاصل کر رہی ہے اگر اس بار اقتدار نہ لیا تو اس کے کارکن زیادہ متاثر ہو نگے۔

یوں بینظیر بھٹو نے اقتدار بہت کمزور پوزیشن کے ساتھ حاصل کیا۔ انھی انتخابات میں میاں نواز شریف آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں پی پی پی سے زیادہ ووٹوں کی بنیادوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، میاں محمد نوازشریف 25دسمبر1949 کو پیدا ہوئے، اِس وقت ان کی عمر تقریباً 69سال ہے، وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل ہیں، ان کو جنرل ضیا الحق کے دور میں متعارف کرایا گیا ،1981 میں پہلی بار صوبائی وزیر خز انہ ہوئے پھر 1985 تا 1988 وزیر اعلی پنجاب رہے اور پھر 1988 کے انتخابات میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں زیادہ ووٹ حاصل کرکے دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے اور 1988سے1990ء تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، یوں بحیثیت وزیر اعلی نواز شریف 36 سال کی عمر میں 1985 میں پہلی مرتبہ بطور وزیر اعلی سیاست میں متعارف ہوئے اور قومی سطح پر اسی حیثیت میں بینظیر بھٹو کے مقابلے میں 1988 کے انتخابات کے بعد میدانِ سیاست میں آئے۔ یہ وہ دوسری قیادت تھی جو عوامی اعتبار سے آزادی کے بعد دوسری نسل کی قیادت کر رہی تھی۔ یوں قومی سطح پر بھٹو اور ضیا الحق آخری سربراہان حکومت اور مملکت تھے۔ یہ ضرور تھا کہ آئی جے آئی اور بعد میں مسلم لیگ نون میںاور اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی میں سیکنڈ لائن میں چند بوڑھے رہنما مشیروں کی حیثیت سے مو جود تھے مگر قومی قیادت اب جوان نسل کے پاس تھی۔

اسی طرح دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی نوجوان قیادت سامنے آنے لگی جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمن کی پیدائش 19 جون 1953ء ہے وہ 1980ء میں اپنے والد مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد 27 سال کی عمر میں سیاست میں آئے یہ وہ دور ہے جب سابق سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہو گئی تھیں اور مجاہدین کی مزاحمت جاری تھی، 1988 میں وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، اس دوران افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی، مولانا اپنی سیاسی بصیرت کے اعتبار سے علاقائی اور بین لاقوامی صورتحال اور اس کے تناظر میں قومی سیاست میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکے تھے۔ 2001 ء میں انہوں نے امریکی صدر جارج بش کے اقدامات کی شدید مخالفت کی تھی۔

ایم ایم اے کے قیام کے بعدآنے والے دنوں میں انہوں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں اہم کرداد ادا کیا، اگر چہ وہ 2018 کے انتخابات میں اپنی قومی اسمبلی کی نشست حاصل نہ کر سکے مگر 4 ستمبر2018 کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں وہ پیپلزپارٹی کے علاوہ ن لیگ سمیت حزب اختلاف جماعتوں کی جانب سے امیدوار تھے، اس انتخاب میں پی ٹی آئی کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے352 مولانا فضل الرحمن نے184 اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے 124 ووٹ لیئے تھے۔ جمعیت علما اسلام کے فضل الرحمن کے بعد جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق ہیں، اگرچہ اپنی سنجیدگی کے اعتبار سے اپنی عمر سے زیادہ کے معلوم ہو تے ہیں لیکن ان کی تاریخ پیدائش 5 ستمبر 1962ء ہے، یوں ان کی عمر 56 سال ہے، انہوں نے ایم اے سیاسیات پشاور یونیورسٹی اور ایم اے ایجوکیشن پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔

جماعت اسلامی کے جمہوری مزاج کے مطابق وہ پہلے جمعیت طلبہ اسلام میںآئے اور پھر ترقی کرتے 2014 میں امیر جماعت اسلامی بن گئے۔ پاکستان کی سیاست میں اہم ترین نام سابق صدر آصف علی زرداری کا ہے یہ بھی اپنی عمر سے کچھ زیادہ کے لگتے ہیں جب کہ ان کی تاریخ پیدائش 26 جولائی 1955 کی ہے، اس طرح اس وقت ان کی عمر 63 سال ہے، محترمہ بینظیر بھٹو سے اِن کی شادی 1987 میں ہوئی تھی، یوں ازدواجی زندگی کے 20 سال بعد 2007 کو بینظیر بھٹو شہید ہو گئیں، اس میں شبہ نہیں کہ اُس وقت پاکستان کو یکجا اور مضبوط رکھنے میں اِنہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا، وہ 9 ستمبر 2008 سے8 ستمبر 2013 تک صدر مملکت رہے، طویل عرصہ جیل میں رہے، اِن پر کرپشن کے بڑے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں، 2018 ء کے عام انتخابات میں وہ اپنے نو جوان بیٹے بلاول زرداری بھٹو کے ساتھ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں،اِن کو ایک شاطر سیاستدان تسلیم کیا جا تا ہے، اگر چہ اس منتخب اسمبلی میں ن لیگ کے میاں شہباز شریف زیادہ اراکین اسمبلی کی بنیاد پر قائد حزب اختلاف ہیں مگر آصف علی زرداری کی اپنے بیٹے بلاول کے ساتھ موجودگی عمران خان کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کے لیے بھی چیلنج ہو گی جس کی ایک جھلک عمران خان کے بطور وزیر اعظم انتخاب کے موقع پر عمران خان اور میاں شہباز شریف کے بعد بلاول کی تقریر تھی۔

موجودہ پارلیمنٹ میں شہباز شریف بہت مضبوط اپوزیشن کے ساتھ قائدِ حزب اختلاف ہیں۔ ان کی تاریخ پیدائش 23 ستمبر1951 ہے، یوں ان کی عمر67 سال ہے، وہ 20فروری1997 تا 12 اکتوبر 1999،اس کے بعد 8 جون 2008 سے26 مارچ 2013 ء اور پھر 8 جون 2013 سے8جون2018ء تک آبادی اور بجٹ کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے نہایت طاقتور وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور اب 20 اگست 2018 سے مسلم لیگ ن کے صدر ہیں، اِن پر بھی نوازشریف کی طرح کرپشن کے سنگین الزامات عائد ہیں اور یہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، اسفند یار ولی ملک میں طویل ترین خاندانی سیاست اور جدوجہد کے اعتبارسے اہم ترین نام ہے۔

ان کے دادا غفارخا ن المعرف’’ باچا خان ‘‘ نے قیام پاکستان سے قبل مہاتما گاندھی کی طرح خیبر پختونخوا میںعدم تشدد کی بنیاد پر خدائی خدمت گار کی بنیاد رکھی اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، ان کے بیٹے خان عبدالولی خان نے قیام پاکستان کے بعد قومی سیاست میں جمہوریت کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا، ایوب خان سمیت بھٹو دور میں جدوجہد جاری رکھی۔ اسفند یار ولی 19 فروری 1949ء میں پیدا ہوئے، اس وقت ان کی عمر69 برس ہے، زمانہ طالب علمی سے سیاست میں قدم رکھا، ایچی سن اور اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل کی، ایوبی دور کے بعد ان پر 1975ء میں قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا، حیدر آباد جیل میں رہے اور 1978 میں رہا ہوئے، 1993 سے انتخابی عمل میں آئے اور متعدد مرتبہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر کی حیثیت سے انہوں پشتون شناخت اور حقوق کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر جمہوریت کے لیے بہت جدوجہد کی، 2010 ء میں پی پی پی کی حکومت میں آئینی اٹھارویں ترمیم اورصوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا کروانے میں ان کا اہم ترین کردار رہا ہے، اگرچہ 1988ء کے انتخابات میں دو جماعتیں اور دو قومی لیڈر سامنے آئے، پیپلزپارٹی کی محترمہ بینظیر بھٹو اور پہلے آئی جے آئی اور پھر مسلم لیگ ن کے نواز شریف مگر کراچی میںمہاجر متوسط طبقے کے الطاف حسین نے ایک تیسر ی قوت کو متعا رف کرایا جو 1990 کے الیکشن سے 2013 تک کے انتخابات تک قومی سطح پر اور پارلیمنٹ میں اراکین کے اعتبار سے ملک کی تیسری قوت اور سندھ صوبائی اسمبلی میں دوسری قوت رہی، ایم کیو ایم پر پُرتشدد سیاست اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد ہوتے رہے، مگر اس کے قائد کے لندن سے پاکستان میں پارٹی ورکرز کو قومی مفادات کے مخالف احکامات دینے، تشدد اور ہنگامہ آرائی کرنے پراس جماعت اور الطاف حسین کی تقریر پر عدالتی حکم سے پابندیاں عائد کر دی گئیں اور پھر اس کے لیڈر کم سے کم تین گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔

خالد مقبول صدیقی ، مصطفی کمال اور فاروق ستار ان تمام کی پیدائش پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کی ہے، ایم کیو ایم شروع ہی سے ایسی پوزیشن میں رہی کہ حکومت سازی میں اکثر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ان کی ضرورت رہی، اس وقت بھی ایم کیو ایم پاکستان قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی ضرورت بنی۔پنجاب اور قومی سیاست میں 1985سے چوہدری شجاعت حسین اور ان کے کز ن چوہدری پرویز الٰہی اہم سیاستدان کے طور پر سامنے آئے۔ پرویز الٰہی 2002 تا 2007 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔ مسلم لیگ ق آج بھی موجود ہے اور چوہدری شجاعت حسین 2004 میںظفر اللہ جمالی کے بعد اور شوکت عزیز سے ذرا پہلے کچھ دن کے لیے وزیر اعطم بھی رہے، ان کی عمر اس وقت 72 سال ہے۔ اسی طرح شیخ رشید اس وقت عوامی مسلم لیگ کے اکلوتے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ریلوے ہیں، 6نومبر1950 کی پیدائش ہے اور ان کی عمر 68 سال ہے۔

بلوچستان ملکی آبادی کے چھ فیصد تناسب کے اعتبار سے سب سے چھو ٹا اور ملک کے 43% رقبے کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ملک کے کل ایک ہزار کلو میٹر طویل ساحل میں سے777 کلو میٹر ساحل اس کے پاس ہے ایران اور افغانستان سے اس کی طویل سرحدیں ملتی ہیں۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ اور سی پیک کے علاوہ مستقبل میں زرعی پیداوارکے لحاظ سے اب بلوچستان ہی ملک کا مستقبل ہے، اگر چہ کم آبا دی اور نسلی، لسانی اور سیاسی تنوع کے اعتبار سے یہا ں 1972 سے آج تک کوئی اکیلی جماعت صوبائی حکومت بھی نہ بنا سکی مگر یہاں کی سیاسی شخصیات اور پارٹیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں کہ ان کا موقف ہمیشہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سے خصوصاً بلوچستان کے عوام اور حقوق کے لحاظ سے مختلف اور بعض دفعہ متضاد اور کبھی کبھی متصادم بھی رہا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد پانچ مرتبہ شدید نوعیت کا سیاسی بحران رونما ہوا اور پہاڑوں پر مسلح تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی، بلوچستان میں اگرچہ اب شہری آبادی کا حجم اور تناسب بڑھ گیا ہے مگر کیونکہ یہاں قبائلی سماج غالب ہے اس لیے احتجاج سڑکوں پر اس شدت سے نہیں ہوتا اور شدت کی صورت عموماً پہاڑوں پر دکھائی دیتی ہے، یہاں قوم پرست جماعتوں کا ہمیشہ سے زور رہا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں جمعیت علمائے اسلام ف ایک بڑی جماعت رہی ہے، جس کا زیادہ زور پشتون آبادی والے علاقوں میں رہا ہے مگر گذشتہ دس برسوں سے بلوچ آبادی والے کچھ علاقوں میں جمعیت علما ئے اسلام کے ووٹ بنک میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل ایک اہم بلوچ لیڈر سردار عطا اللہ مینگل کے صاحبزادے ہیں جو 1972 میں بننے والی بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت کے وزیر اعلیٰ تھے، سردار اختر مینگل 6 جون 1962ء کو پیدا ہوئے، ان کی عمر55 سال ہے، عمران خان کے ساتھ سیاسی معاملات میں بہت احتیاط سے چل رہے ہیں اسی لیے ان کی جماعت نے ابھی تک حکومت میں کو ئی عہدہ نہیں لیا ہے۔

اختر مینگل وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں اور اپنے والد کی طرح سیاسی جدوجہد میں قید وبند کے مصائب بھی جھیلے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، اپنے والد معروف سیاسی رہنما عبدالصمد خان اچکزئی شہید کے بعد سیاست میں آئے، 1973 میں رکن صوبائی اسمبلی ہوئے، ان کی تاریخ پیدائش 14 دسمبر1948 ہے، یوں اس وقت ان کی عمر69 سال ہے، ایم بی بی ایس ہیں، کئی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، ماہر پارلیمنٹر ین ہیں، پشتون قوم پرست سیاسی رہنما کی حیثیت سے پاکستان کے علاوہ افغانستان میںاثر رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صدرنیشنل پارٹی بھی ایم بی بی ایس ہیں، بلوچ اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کے میدان میں آئے، 1988 میں نواب اکبر خان بگٹی جب وزیر اعلیٰ تھے تو صوبائی وزیر صحت رہے، پھر 1993کے انتخابات میں کامیاب ہوئے تو صوبائی وزیر تعلیم ہوئے، 2008 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، 2013 ء میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد 7 جون 2013 سے23 دسمبر2015 تک وزیر اعلیٰ رہے۔

ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے پہلے وزیر اعلی تھے، ان کی پیدائش 15 جولائی1958ء ہے، یوں ان کی عمر ساٹھ سال ہے۔ جام کمال خان یکم جنوری 1973 کو پیدا ہوئے، اس وقت ان کی عمر 45 سال ہے، بلوچستان میں وہ پہلی شخصیت ہیں جو تیسری پشت میں وزارت اعلیٰ حاصل کر چکے ہیں۔ پہلے ان کے دادا جام غلام قادر خان ستر اور اسی کی دہائیوں میں دو مرتبہ وزیر اعلیٰ رہے، ان کے والد جام یوسف خان 2002 تا 2007 وزیر اعلیٰ رہے، اب جام کمال نے بلو چستان عوامی پارٹی بنائی اور اس کے صدر اور بلوچستان کی مخلوط حکومت کے وزیر اعلی منتخب ہوئے ہیں، وہ 2013 سے 2018 تک رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر مملکت رہے۔

اگرچہ یہاں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤںکا ذکر کیا گیا ہے اور ان لیڈروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا جو بعض اعتبار سے زیادہ بڑی قبائلی اور سیاسی شخصیات ہیں مگر قومی سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں اور کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں مگر ظفر اللہ خان جمالی کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ وہ بلوچستا ن سے تعلق رکھنے والی واحد شخصیت ہیں جو وزیراعظم پاکستان کے منصب پر 2002 سے2004 تک فائز رہے، یکم جنوری 1944 کو پیدا ہوئے 1972 میں صوبائی وزیر ہوئے، دو مرتبہ وزیر اعلیٰ اور کئی مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور سینیٹر منتخب ہوئے، ان کا گھرانہ بلوچستان میں سیاست کے اعتبار سے بہت اہم ہے، جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے، ظفراللہ خان جمالی نے جمہوریت کی بحالی میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا، اس خاندان سے تاج محمد جمالی اور جان جمالی بھی بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ رہے، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کے علاوہ وفاقی اور صوبائی وزیر بھی رہے، ظفر اللہ خان جمالی کی عمر اس وقت74 سال ہے ۔

اس تما م تناظر میں اس وقت سب سے زیادہ اہمیت پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین اور پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی کی ہے، وہ 25 نومبر1952 کو پیدا ہوئے، اس وقت ان کی عمر 65 سال 10 مہینے ہے لیکن روزانہ ورزش اور کھانے میں اعتدال کی وجہ سے سمارٹ اور سپر فٹ دکھائی دیتے ہیں،1971 سے1992 تک اکیس سال کرکٹ کی دنیا میں مثالی حیثیت سے چھائے رہے، 1992 میں پاکستان کے لیے بطور کیپٹن کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ حاصل کیا، فلاحی اور رفاہی کاموں میں اہم خدمات انجام دیں، شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا، دیہی علاقے میں تعلیم کے جدید شعبوں کے ساتھ اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی قائم کی اور اپنی اس کارکردگی کیساتھ 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کے نام سے سیاسی جماعت بنا کر پاکستان میں سیا سی جدوجہد شروع کی۔

2002 سے2007 تک اپنی پارٹی کے واحد رکن قومی اسمبلی رہے، 2008 سے تحریک انصاف نے پاکستانی سیاست میں اپنے وجود کا شدید احساس دلایا اور الیکشن میں حصہ نہیں لیا اور پھر 2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کل ڈالے گئے ووٹوں کے اعتبار سے ملک کی دوسری اور قو می اسمبلی میں نشستوں کے لحاظ سے تیسری بڑی سیاسی جماعت تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ مسلم لیگ ن نے انتخابات میں دھاندلی کی ، ان الزامات کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ یہ آیا کہ الیکشن میں منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے، اب عمران خان وزیراعظم پاکستان ہیں، ملک پر تیس ہزار ارب روپے کے اندرونی قرضے اور 96 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ہیں، ملک میں مستقبل قریب میں پانی کی قلت کے سبب خشک سالی اور قحط کی صورتحال کی پیش گوئی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکو مت کو تیس دن سے زائد ہو چکے ہیں اور میاں محمد نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزائیں معطل ہو گئیں اور ان کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

سترہ ستمبر کو منی بجٹ آیا ہے اور عمران خان کے دورہ کراچی میںافغانیوں اور بنگالیوں کے بچوں کو شناختی کارڈز جاری کرنے کے بیان سے سردار اختر مینگل اور بلو چستان کی صوبائی حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، یوں اس حکو مت کا آئندہ انداز کیا ہوتا ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا،اور جہاں تک وقت کا تعلق ہے تو1990 میں جب دیوار برلن گری اور سرد جنگ کا اختتام ہوا تھا اس وقت سے اب تک دنیا خصوصاً ہمارے خطے میں بہت بڑی تبدیلیاں ہو چکی ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے کافی دیر ہوئی لیکن پھر اس تاخیر کا تیزی سے ازالہ کرنے کی کامیاب کوشش بھی کی گئی۔

مگر جہاں تک تعلق معاشی،اقتصادی، سماجی، سیاسی، ماحولیاتی، مسائل کا ہے تو یہ نہ صرف اس وقت تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں بلکہ ان کی شدت اور حجم میں سرطان کی سی تیزی آ گئی ہے، اگر ہم یہ تصور کریں کہ اِن مسائل کی رفتار یہی رہے تو پاکستان میں آنے والے دس برسوں یعنی 2028 میں کیا صورت ہو گی؟ اس وقت پاکستان کی 25 کروڑ آبادی اجتماعی خودکشی کر رہی ہو گی، اس وقت پاکستان گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج سے متاثر ہو نے والا دنیا کا پانچواں ملک ہے، 5 اکتوبر 2005 میں آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ملکی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ آیا جس میںتقریباً ایک لاکھ افراد جاں بحق ہو ئے اور چالیس ہزار کلو میٹر رقبے پر سب کچھ تباہ ہو گیا۔

8 اکتوبر 2008 میں بلو چستان زیارت کا تباہ کن زلزلہ آیا۔ 2010 کو ملکی تاریخ کا سب سے بدتر ین سیلاب آیا جس کے بارے میں اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایسا تباہ کن سیلاب پہلے دیکھا نہ سنا۔اس بعد آواران اورمشکے بلوچستان میں2013 میں7.7 شدت کا آنے والا زلزلہ جو اپنی شدت کے لحاظ سے سب سے زیادہ شدت کا تھا اس سے یہاں تقریباً ساڑھے آٹھ سو افراد جاں بحق ہو ئے، یہ ملک میں سب سے کم آباد ڈسٹرکٹ ہے جہاں آبادی کی گنجانیت صرف چار افراد فی مربع کلو میٹر ہے، اس زلزلے کی شدت کو کراچی میں محسوس کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا کے سیلاب ،کراچی اور حید آباد کے بیشتر علاقے بارشوں کی وجہ سے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبے رہے،کراچی میں مئی کے مہینے میں گذشتہ دنوں آنے والی ہیٹ ویوز، بلوچستان، بارانی سندھ خصوصاً تھر پارکر میں کئی برسوں سے رونما ہو نے والی خشک سالی اور قحط کی سی صورتحال بڑی سنگین علامات ہیں۔ ماہرین کی تحقیقات اور تجزیوں کے مطابق اگر صورتحال کی روک تھام کے اصولوں کے مطابق توجہ نہ دی گئی تو کلائمیٹ چینج اور گلو بل وارمنگ کے ساتھ قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو گا۔

اس وقت اگرچہ شرح خواندگی 58% ہے مگر اَن پڑھ افراد کی تعداد ساڑھے آٹھ کروڑ ہے، دس کروڑ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، اتنی ہی آبادی ایک کمرے کے مکان میں رہتی ہے، ہپا ٹائیٹس کی شرح 15% ہے، اگرملکی معیشت کی صورتحال یہی رہتی ہے تو 2028 تک ملک پر بیرونی قرضو ں کا بوجھ دو سو ارب ڈالر سے زیادہ ہو جائے گا، اندرونی قرضے ساٹھ ہزار ارب ہو چکے ہونگے اور ڈالر دو سو پچاس روپے کا ہو چکا ہوگا۔ راقم نے چند برس قبل کہا تھا ،

میری یہ پیش گوئی ہے جو کل ہو گا
یہ میرے آج کا ردعمل ہو گا

کوئٹہ سمیت تقریبا ڈھائی کروڑ آبادی شہر وں میں پانی کی قلت یا نایابی کی وجہ سے اپنے شہروں سے کہیں اور منتقل ہو نے لگے گی اور اگر خدانخوستہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پسپائی کی صورت ہوئی تو عراق،لیبیا اور شام سے زیادہ بدتر صورتحال کا سامنا کر نا ہو گا، یہ تو وہ خوفناک اور دل ہلادینے والی صورتحال کے اندیشے تھے، لیکن اگر ہم حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی طرح مکمل تباہی کے واضح آ ثار کو دیکھتے ہوئے اجتماعی توبہ کے لیے ایک ہو جائیں، اس دس سالہ مدت کی مہلت سے فائد ہ اٹھا سکتے ہیں، سی پیک منصوبہ ملکی مفاد میں ہو اور آئندہ دس برسوں میں مکمل ہو کر ثمرات دینے لگے، ڈیمز بنا کر پانی اسٹور کر لیا جائے، آبادی کی منصوبہ بندی ہو ، افغانستان پاکستان مین اعتماد بحال کرتے ہو ئے دونوں ملکوں میں مکمل امن وامان قائم کیا جائے، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی ہو جائے، بہتر معاشی منصوبہ بندی کرتے ملک کو قرضوں سے آزاد کیا جائے۔ یہ سب کو ن کر سکتا ہے؟ اِس وقت ملکی قومی سیاست اور کاروبار حکومت کے اعتبار سے تجربہ رکھنے والے سیاسی لیڈروں کو ان کی حالیہ عمروں اور آئندہ دس برس بعد کے لحاظ سے دیکھیں تو صورتحال مستقبل میں یوں ہو گی کہ 2028 میں وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت تقریباً 66 سال کے ہیں اُس وقت76 سال کے ہونگے۔

نوازشریف کی عمر79 سال، شہباز شریف کی 77 سال ہوگی، آصف علی زرداری 73 سال اور مولانا فضل الرحمن 75 سا ل کے ہونگے، اسفند یار ولی کی عمر 79 سال، چوہدری شجاعت کی 82 سال، محمود خان اچکزئی کی 79 سال اور شیخ رشید کی عمر 78 سال ہو گی، ظفر اللہ خان جمالی 84 سال کے ہو جا ئیں گے جب کہ سردار اختر مینگل 65 سال کے اور نئی قائم شدہ سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی عمر دس سال بعد 55 برس ہو گی۔ کیا یہ تمام لیڈر ملک کے تحفظ، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے آئندہ دس سال کی مدت کے لے مشترکہ طور پر کو ئی طویل المدت منصوبے پر اتفاق کر سکتے ہیں؟،کیا مقننہ میں اِس حوالے سے کو ئی قانون سازی ہو سکتی ہے؟ میں نے یہاں ان رہنماؤں کی دس سال کے بعد کی عمر وں کے اعتبار سے کمپیوٹر فوٹو شاپ سے ان کو ان کی عمروں کی بنیاد پر ان کے مستقبل کے عکس دکھانے کی کوشش کی ہے اور اس کے ساتھ کسی شاعر کے یہ دو اشعار اِن کے فکر و نظر کی نذرکرتا ہوں۔

عجب زمانے کا ہر طور نظر آتا ہے
بدلا بدلا ہوا ہر دور نظر آتا ہے

اب جو آئینے میں خود کو دیکھتا ہوں
مجھ کو بوڑھا سا کو ئی اور نظر آتا ہے

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں