253

جمال خشوگی کا قتل: ولی عہد محمد بن سلمان کا مستقبل کیا ہوگا؟… سید مجاہد علی

استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں امریکہ میں مقیم سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خشوگی کے قتل کے دو ہفتے بعد آج علی الصبح سعودی حکومت نے یہ اعتراف کیا ہے کہ جمال خشوگی کو 2 اکتوبر کو قونصل خانہ میں ہی قتل کیا گیا تھا۔ سعودی پبلک پراسیکیوٹر کی طرف سے رات کے پچھلے پہر جاری ہونے والے ایک بیان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ قتل قونصل خانہ میں ’ہاتھا پائی ‘ کے نتیجہ میں ہؤا تھا۔ اس سانحہ کی وجہ سے سعودی انٹیلی جنس کے نائب صدر جنرل احمد العصیری اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشیر مسعود القطانی کو برطرف کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس جرم کے شبہ میں 18سعودی اہل کاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سعودی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ابتدائی تحقیقات کے بعد کئے گئے ہیں ۔ تاہم اس سانحہ کی تہ تک پہنچنے کے لئے ایک ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کی تشکیل نو اور اختیارات کا تعین کرنے کے لئے سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز نے ایک فرمان کے ذریعے شہزادہ محمد بن سلمان کی سرکردگی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے۔ البتہ ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی سطح پر جمال خشوگی کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ذمہ داری ولی عہد پر ہی عائد کی جارہی ہے۔ سعودی عرب نے دو ہفتے کے عالمی دباؤ کے بعد اس قتل کا اعتراف کیا ہے لیکن اس اعتراف کے نتیجہ میں اس پر اسرار قتل کے بارے میں جواب ملنے سے زیادہ نئے سوال پیدا ہوئے ہیں۔

نامعلوم سعودی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی ولی عہد کو اس بارے میں کوئی خبر نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے کسی کو قتل کرنے یا ذبردستی وطن واپس لانے کا حکم دیا تھا۔ یہ ترجمان البتہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت بیرون ملک مقیم اپنے ناقدین کو واپس وطن لانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سعودی اعتراف اس کے پہلے بیان سے متضاد ہے جس میں 3 اکتوبر کو ترک ذرائع سے سامنے آنے والی ان معلومات کی تردید کی گئی تھی کہ جمال خشوگی کو ایک روز پہلے سعودی قونصل خانہ میں قتل کردیا گیاتھا اور اس کی لاش کے ٹکڑے کئے گئے تھے۔ اس وقت سعودی حکومت نے ان معلومات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ جمال خشوگی ایک ترک خاتون سے شادی کے لئے ضروری دستاویزات لینے استنبول کے قونصل خانہ میں آئے ضرور تھے لیکن وہ واپس چلے گئے تھے۔ وہ قونصل خانہ سے باہر جا کر غائب ہوئے ہیں۔ جمال خشوگی کی ترک منگیتر ہاتج چنگیز اس سعودی دعویٰ کی تردید کرتی رہی ہیں۔ جمال خشوگی کے قونصل خانہ میں جانے کے بعد ہاتج چنگیز پورا وقت دروازے کے باہر ان کی واپسی کا انتظار کرتی رہی تھیں۔ تاہم جب وہ کئی گھنٹے تک واپس نہیں آئے اور قونصل خانہ کا وقت بھی ختم ہو گیا تو انہوں نے جمال کی گمشدگی کے بارے میں حکام کومطلع کیا تھا۔

سعودی اعلان مختصر اور نامکمل ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنا ہؤا ہے۔ اگرچہ سعودی حکومت نے اس ’اعتراف‘ کے نتیجہ میں اس المناک جرم سے میڈیا اور عالمی لیڈروں کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے لیکن اس بیان کے بعد نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دن سے سعودی عرب کی حمایت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس ملک کو اسلحہ فروخت کرنے کے لئے ہونے والا معاہدہ امریکہ میں روزگار کے لئے اہم ہے۔ وہ اب جمال خشوگی کے قتل کے بارے میں سعودی اعلان کو ’قابل اعتبار‘ قرار دیتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ جو ہؤا وہ قابل قبول نہیں ہے ۔لیکن وہ اب بھی سعودی عرب پر پابندیاں لگانے یا کوئی سخت اقدام کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ تاہم ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگرس اور سینیٹ کے متعدد ارکان نے سعودی اعتراف کو مسترد کرتے ہوئے خود مختارانہ عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹرز کی طرف سے بھی دہرایا گیا ہے جنہوں نے ایک بیان میں خشوگی کی موت پر شدید صدمہ کا اظہارکرتے ہوئے اس معاملہ کی فوری اور شفاف تحقیقات پر زور دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس جرم کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سعودی اعلان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے خودمختارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی سینیٹرز کی طرف سے بھی اس قسم کی تحقیقات پر زور دیا جارہا ہے۔ امریکی کانگرس مین مائک کوفمین جو امریکی نیوی میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے ایک بیان میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاض سے امریکہ کے قائم مقام سفیر کو واپس بلایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ امریکہ ’بدمعاش‘ ریاستوں کو سفارتی مراکز کو قتل گاہیں بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ امریکی جوان اس مقصد کے لئے اپنی جان کے نذرانے پیش نہیں کرتے۔

امریکی قانون دانوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ خشوگی کی موت پر سعودی عرب کے خلاف 2012 کے میگنٹسکی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ قانون سابق صدر باراک اوباما کے دور میں روسی جیل میں ایک روسی اکاؤنٹنٹ کی موت کے بعد روس کو سزا دینے کے لئے منظور کیا گیا تھا۔ روسی شہری سرگی میگنٹسکی کو مبینہ طور پر 2009 میں ماسکو کی ایک جیل میں تشدد کے بعد ہلاک کیا گیا تھا جس پر امریکہ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اس قانون کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر امریکی حکومت کسی بھی حکومت یا اس کے شہریوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ یہ قانون امریکی حکومت کو متعلقہ لوگوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگانے کے علاوہ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔ امریکی قانون دانوں اور عالمی اداروں کی طرف سے سعودی اعتراف پر تشویش کے اظہار کے علاوہ شفاف تحقیقات کو ضروری سمجھا جارہا ہے۔ مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اس معاملہ میں مزید ایک ماہ کا وقت نہیں دیا جاسکتا۔ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ایک قونصل خانہ میں ایک صحافی کے قتل کا گھناؤنا اقدام ولی عہد کی براہ راست منظوری کے بغیر کیسےممکن ہے ۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ دو برس کے دوران بے شمار اختیارات پر تصرف حاصل کیاہے اور عملی طور وہی امور مملکت چلا رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا اعتراف پر مبنی بیان دراصل بہت سے حقائق کو چھپانے کی ایک نئی کوشش ہے۔ اس معاملہ کے سارے پہلو سامنے آئے بغیر عالمی رائے کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اور نہ ہی سعودی عرب چند لوگوں کو گرفتاری کے نام پر منظر نامہ سے غائب کرکے ولی عہد پر شبہات کو ختم کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ سعودی شاہ سلمان نے اپنی حکومت کے اس اعلان سے پہلے ترک صدر طیب اردوآن سے فون پر بات کی تھی اور اس معاملہ میں ’تعاون‘ جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے بھی ایک روز پہلے یہ کہا تھا کہ خشوگی شاید ہلاک ہو چکا ہے۔ انہوں نے چند روز پہلے سعودی عرب کی حمایت میں یہ بیان بھی دیا تھا کہ اس معاملہ میں سعودی عرب کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ کام بعض ’بدمعاش‘ عناصر کا ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد چار روز قبل سی این این نے خبر دی تھی کی سعودی عرب ایک ایسی رپورٹ تیار کررہا ہے جس میں قونصل خانہ میں جمال خشوگی کے قتل کو تسلیم کرلیا جائے گا تاہم اس کی ذمہ داری چند افراد پر ڈالی جائے گی تاکہ ولی عہد کو بچایا جاسکے۔

سعودی اعلان میں جنرل احمد العصیری اور مسعود القطانی جیسے اعلیٰ افسروں کی برطرفی کے بعد یہ سوال شدت سے سامنے آیا ہے کہ ولی عہد کے اتنے قریبی افراد کے ملوث ہونے کے بعد یہ کیسے تسلیم کیاجا سکتا ہے کہ شہزاد محمد بن سلمان اس واقعہ سے بے خبر تھے۔ ترکی نے ایک پندرہ رکنی سعودی گروہ کے 2 اکتوبر کو استنبول آنے اور جمال خشوگی کے قتل کے بعد واپسی کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ہڈیوں کی ساخت جاننے والا ایک ڈاکٹر بھی شامل تھا جس کے پاس ہڈیاں کاٹنے کی آری بھی تھی۔ ان خبروں سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ خشوگی کو قتل کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور ان کی موت اچانک ہاتھا پائی کے نتیجہ میں نہیں ہوئی۔ سوال کیا جارہا ہے کہ ساٹھ سال کا ایک شخص پندرہ سرکاری افسروں سے کس طرح لڑائی کرسکتا ہے۔ اگر یہ واقعہ ہؤا ہے تو خشوگی نے اپنی جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے ہوں گے۔

واشنگٹن پوسٹ جس کے لئے خشوگی کام کرتے تھے، کی ایڈیٹر کیرن عطیہ نے سعودی بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو بھی ان سوالوں کا جواب سامنے نہیں آیا کہ: الف) جمال خشوگی کی لاش کہاں ہے۔ ب) سعودی حکومت نے دو ہفتے تک یہ جھوٹ کیوں بولا کہ جمال قونصل خانہ سے واپس چلے گئے تھے۔ ج) جس ہاتھا پائی کا ذکر کیا جارہا ہے ، اس کے شواہد کہاں ہیں۔ واضح رہے کہ ترک حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے پاس اس سانحہ کے آڈیو اور ویڈیو شواہد موجود ہیں لیکن انہوں نے یہ ثبوت ابھی تک کسی دوسری حکومت یا میڈیا کو فراہم نہیں کئے۔ اب سعودی عرب بھی ہاتھا پائی کا ذکر کررہا ہے تو اس کی تفصیل کے بارے میں نت نئے سوالات سامنے آئیں گے۔

جمال خشوگی کے قتل کا اعتراف کرنے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لئے اپنی پوزیشن واضح کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اگر اس حوالے سے کوئی ٹھوس واضح شواہد سامنے نہیں آتے تو عالمی سطح پر ان کی پوزیشن اور ملک میں سیاسی اختیار کو خطرہ لاحق رہے گا۔ شہزادہ محمد بن سلمان گو کہ اپنے ملک میں طاقت کے تمام مراکز پر قابض ہیں لیکن متعدد متنازعہ فیصلے کرنے کی وجہ سے ان کے دشمنوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ شاہ سلمان نے انٹیلی جنس ایجنسی کی تشکیل نو کا کام ان کے سپرد کرکے دراصل ایک بار پھر اپنے بیٹے اور ولی عہد پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تاہم شہزادہ محمد کے خلاف بڑھتا ہؤا عالمی دباؤ، جمال خشوگی کا بھیانک انداز میں قتل اور سعودی عرب کے اعتراف کے نتیجہ میں سعودخاندان میں بھی صورت حال پر رد عمل سامنے آسکتا ہے۔ یہ رد عمل شہزادہ محمد کے سیاسی مستقبل کے لئے اندیشوں سے لبریز ہوگا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں