74

ترکی: شام کے موضوع پر چہار رکنی اجلاس اختتام پذیر ہو گیا

استنبول(ورلڈ پوائنٹ نیوز) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان ، روس کے صدر ولادی میر پوتن ، فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون اور جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کی شرکت سے استنبول کی وحدت الدین ریذیڈینسی میں شام کے موضوع پر منعقدہ چہار رکنی سربراہی اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے دوام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ موئثر حفاظتی اقدام کے مکمل اطلاق اور اسکے علاوہ ایسی پائیدار فائر بندی کی ضرورت ہے کہ جس پر تمام متعلقہ فریقین کاربند رہیں۔

چہار رکنی اجلاس میں شامی مخالفین کے متعلق حالیہ پیش رفتوں پر بات کی گئی اور عالمی سلامتی اور استحکام کو درپیش خطرات کے بارے میں مشترکہ اندیشوں کا اظہار کیا گیا۔

رہنماوں نے شام کی حاکمیت، آزادی، اتحاد اور زمینی سالمیت اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعادہ کیا۔

رہنماوں نے شامی مخالفت کے لئے فوجی حل سے پرہیز کرنے اور مخالفت کو صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شق نمبر 2254 کے فیصلے سے ہم آہنگ شکل میں مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے سیاسی راستے سے حل کرنے کے بارے میں بھی مصمم ارادے کا اظہار کیا ۔

رہنماوں نے کہا کہ اس دائرہ کار میں شامی مخالفت کے لئے قابل بھروسہ اور مستحکم حل کی تلاش میں کردار ادا کرنے کے لئے جاری بین الاقوامی اقدامات میں ربط و ضبط میں اضافہ کیا جائے گا۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد تسلیم کی گئی داعش، نصری فرنٹ، القاعدہ تنظیموں ا ور دیگر تمام گرپوں یا اشخاص کے مکمل خاتمے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے دوام کے عزم کا اظہار کیا گیا ۔

شام کی زمینی سالمیت اور اس کے ہمسایہ ممالک کی قومی سلامتی کے لئے خطرے کے حامل تمام علیحدگی پسند گروپوں کی تردید کی گئی اور ترکی اور روس کے درمیان 15 ستمبر 2018 کو طے پانے والے سوچی سمجھوتے کے ذریعے ٹینشن فری علاقے کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لئے میمورینڈم پر ممنونیت کا اظہار کیا گیا۔

رہنماوں نے شام میں کسی بھی فریق کی طرف سے کیمیائی اسلحے کے استعمال کی سختی سے تردید کی اور کیمیائی اسلحے کی تیاری، اس کے ذخیرے اور استعمال کو ممنوع قرار دینے اور تمام فریقین سے اس اسلحے کو ناکارہ بنانے سے متعلق سمجھوتے پر کاربند رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

رہنماوں نے مزید کہا ہے کہ انسانی امداد کی تنظیموں کی شام بھر میں سریع، بلا رکاوٹ اور محفوظ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں رہنماوں نے ترکی، لبنان اور اردن سمیت شامی مہاجرین کو پناہ دینے والے تمام ممالک کے ساتھ اتحاد کی حالت میں ہونے کا اعادہ کیا اور مہاجرین کی محفوظ، رضاکارانہ اور آئینی شکل میں واپسی سے وابستہ رہنے کی یاددہانی کروائی گئی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں